سندھی زبان پر دیگر زبانوں کے اثرات و روابط
ایک زبان پر دوسری زبانوں کے اثرات کی وجوہات
دنیا میں کوئی بھی قوم موجود نہیں جسے دیگر اقوام کی تہذیب و تمدن نے متاثر نہ کیا ہو۔ اس طرح دنیا میں کہیں بھی کوئی ایسی زبان موجود نہیں جس نے اپنی ہمسایہ زبانوں کا کوئی اثر قبول نہ کیا ہو، ان سے کچھ بھی حاصل نہ کیا ہو، کسی پر اپنے لسانی ورثے کے اثرات مرتب نہ کئے ہوں اور اپنی طرف سے انہیں کچھ بھی نہ دیا ہو۔ مختلف اقوام کے ایک دوسرے کی زبان پر جو اثرات موجود نظر آتے ہیں، ان کی کئی وجوہات ہیں۔ اسی طرح زبانوں کے درمیان جو اپنے اپنے سرمایوں کی منتقلی واستفادہ ہوتا رہتا ہے اس کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ ڈاکٹر غلام علی الانا نے اس سلسلے میں چند وجوہات بیان کی ہیں۔ جو یہ ہیں۔
فاتح ہونا
کسی قوم یا ملک پر قابض ہوکر وہاں اپنی تہذیب و تمدن اور زبان کو رائج کرنا یا مفتوح قوم پراپنی تہذیب و تمدن اور زبان کو مسلط کرنا۔ اس تسلط کی وجہ سے فاتح قوم کی زبان، تہذیب و تمدن اور رسم و رواج کا اثر مفتوح قوم کی زبان، تہذیب و تمدن اور رسم و رواج پر ہوتا ہے۔ پھر فاتح قوم کی تہذیب و ثقافت اور زبان کی اہمیت اس لئے بھی مسلمہ ہے کہ یہ چیزیں حکمرانوں کی طرف سے ہوتی ہیں۔ ان حالات میں فاتح قوم کی زبان، مفتوح قوم کی زبان پر مکمل طور پر غالب آجاتی ہے یا پھر فاتح قوم کی زبان کا بے شمار لغوی سرمایہ مفتوح قوم کی زبان کے لغوی سرمائے میں شامل تو ہوجاتا ہے، لیکن مفتوح قوم کی زبان کی ساخت وقواعد کی ترتیب پر اس لغوی سرمائے کے داخل ہوجانے کا کوئی اثر نہیں ہوپاتا۔
آپس میں میل میلاپ
زبانوں کے باہمی اثرات کا دوسرا کارن قوموں اور آبادیوں کا میل جول ہے۔ ایسے ممالک جہاں دو زبانیں ایک ہی سیاسی نظام کے تابع ہوں وہاں یہ دونوں زبانیں باہمی طور پر اثرانداز ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کو کچھ دیتی اور ایک دوسرے سے کچھ حاصل کر لیتی ہیں۔
مستقل ہجرت یا مستقل نقل مکانی
زبانوں کے ایک دوسرے پر اثرانداز ہونے کی تیسری وجہ زبانوں کی ہم سائیگی اور ہمسایہ ممالک کے لوگوں کی ہجرت ہے۔ اس ہجرت کی بھی چند خاص وجوہات ہیں۔ مثلاً پہلی وجہ یہ ہے کہ جب کسی ملک کی خاص زبان یا زبانیں بولنے والے لوگوں کی کثیر تعداد ترک وطن کرکے اپنے ہمسایہ ملک میں جاکر سکونت اختیار کرتی ہے تب ترک وطن کرکے آنے والوں کی طرف سے مقامی باشندوں کے ساتھ میل جول سے لوگوں کے دونوں گروہوں کی مقامی زبانیں ایک دوسرے کے قریب آجاتی ہیں اور باہمی طور پر ایک دوسرے کے لغوی سرمایہ سے استفادہ کر لیتی ہیں۔ ماہرین نے زبانوں کے ایک دوسرے پر اثرات کے جو اسباب بیان کئے ہیں، ان میں سے چند یہ بھی ہیں:۔
تجارتی اور کاروباری تعلقات سماجی اور ثقافتی تعلقات
باہمی شادیاں اور میل جول مذہبی یکسانیت اور تبلیغ
آبادیوں کا ترک وطن(۱)
دنیا کی اکثر بڑی اور زندہ زبانیں دوسری زبانوں کے اثرات لیے ہوئی ہیں اور یہ حقیقت بذات خود کوئی بُری بات نہیں۔ کیونکہ کسی زبان کا خالص ہونا اس کی وسعت و عظمت پر دلالت نہیں۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ:"A pure language is a poor language."
یعنی: ایک خالص زبان مفلس زبان بن جاتی ہے جو بولنے والوں کے عصری تقاضوں کے اظہار میں تنگ دستی محسوس کرتی ہے۔
مذکورہ بالہ وجوہات کی بنا پر سندھ کے ہمسایہ علاقوں میں سندھی زبان کا پھیلاؤ اور وہاں کی زبانوں کا اس کے صوتی، صرفی، نحوی اور معنوی اثرات قبول کرنا یقینی ہوجاتا ہے۔ وادیٔ سندھ جوکہ اب پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہے۔ ایک قدیم تہذیب کا گہوارہ ہے۔ اس بات کا ثبوت ہمارے اس خطے سے دریافت ہونے والی قدیم تہذیبوں کے آثار ہیں۔ جن میں موئن جو دڑو، ہڑپہ، آمری نال تہذیب، مہر گڑھ، ٹیکسلا، گندھارہ وغیرہ شامل ہیں اور ان سے ملنے والی اشیاء جن میں مہریں، سکے، پکی مٹی کی ٹھیکریاں، ظروف، مورتیاں وغیرہ شامل ہیں، پر کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ باہر کی کئی قومیں مختلف ادوار میں، مختلف زبانوں کے ساتھ وادیٔ سندھ میں داخل ہوئیں اور یہاں آباد ہو گئیں۔ ان میں سے کچھ تو مستقل طور پر سکونت پذیر ہوگئیں اور کچھ نقل مکانی کرکے ہندوستان کے مختلف حصوں میں پھیل گئیں۔ کچھ اقوام یہاں فاتح بن کر آئیں اور کچھ عرصہ کے بعد واپس چلی گئیں۔ آبادی کے اس اتار چڑھاؤ کے علاوہ بھی وادیٔ سندھ کے لوگوں کا دوسری کئی قوموں اور زبانوں کے ساتھ تجارتی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات اور روابط بھی رہے۔ باہر کی وہ زبانیں یہاں اپنی اصل صورت میں تو قائم نہ رہ سکیں البتہ اپنے اثرات اور باقیات ضرور چھوڑ گئیں۔ ان زبانوں کے اثرات کو ذیل میں مختصر طور بیان کیا جاتا ہے۔
منڈاری اثرات
برصغیر پاک و ہند کی زبانوں کا ایک خاندان ’’منڈا خاندان‘‘ بھی ہے۔ وادیٔ سندھ کی زبانوں پر اس خاندان کی زبانوں کا بھی نمایاں اثر دکھائی دیتا ہے۔ اس گروہ میں شامل زبانوں کا نقشہ اس طرح ہے۔
(۲)
آریاؤں کی آمد سے قبل برصغیر پاک وہند میں کولاری، دراوڑی اقوام کا دور دورہ تھا اور کوہ ہمالیہ کے دامن میں منگولی نسل کے قبائل آباد تھے۔ یہ امر پایۂ ثبوت تک پہنچ چکا ہے کہ آریاؤں کی آمد کے وقت وادیٔ سندھ میں دراوڑی قبائل کو بالادستی حاصل تھی۔ درحقیقت آریاؤں کی طرح دراوڑی قبائل بھی یہاں کے حقیقی باشندے نہ تھے بلکہ آریاؤں کی آمد سے کوئی ہزار ڈیڑھ ہزار سال قبل یہاں وارد ہوئے تھے۔ عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ منڈا قبائل برصغیر کے قدیم ترین باشندے ہیں اور دراوڑوں کی آمد سے قبل یہاں آباد تھے۔اس ضمن میں عین الحق فریدکوٹی لکھتے ہیں:
’’ماہرین منڈا قبائل کو قدیم آسٹریلوی نسل سے منسلک قرار دیتے ہیں جو کہ ایک وقت میں نیوزیلینڈ سے لے کر پنجاب تک پھیلی ہوئی تھی۔ برصغیر کا منڈا گروہ کول، بھیل، سنتھال، منڈا، ساورا، کوروا، جانگ اور کورکو وغیرہ قبائل پر مشتمل ہے۔ماہرین آثارِ قدیمہ نے وادیٔ سندھ کی تہذیب کو چار مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ اول آمری نال تہذیب، دوم ہٹرپائی یا دراوڑی تہذیب، سوم جھنگر تہذیب اور چہارم جھکار تہذیب۔ ان میں آمری نال تہذیب کو سب پر سبقت حاصل ہے۔‘‘(۳)
وہ مزید لکھتے ہیں:
’’ماہرین آثارِ قدیمہ کے اس نظریہ سے تطبیق دی جاسکتی ہے کہ ہڑپائی تہذیب سے قبل یہاں آمری نال تہذیب کا دوردورہ تھا۔ جہاں تک ہڑپائی تہذیب کا تعلق ہے۔ اسے دراوڑی تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں۔ سرجاہن مارشل (John Marshall)، ڈاکٹر ایچ آر ہال، جناب ولیم ولسن ہنٹر (W.W. Hunter) اور دیگر کئی ایک صاحب الرائے حضرات اس نظریے کے حامی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر منڈا قبائل کو دراوڑی گروہ کے پیشرو تسلیم کیا جاتا ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں ’آمری نال تہذیب‘، کو ان قبائل سے منسوب نہ کیا جائے۔‘‘(۴)
اس ضمن میں مشہور ماہرِ لسانیات سرجارج گریئرسن کا حوالہ دے کر عین الحق فرید کوٹی آگے لکھتے ہیں کہ:
’’ایک وقت میں منڈا گروہ کا دائرہ عمل ان کی موجودہ آبادی کی نسبت بہت وسیع ہوگا۔ قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آریاؤں کی آمد سے پیشتر ہی یہ قبائل دراوڑی گروہ سے مغلوب ہو چکے تھے۔ اس لیے آریائی قبائل کو وادیٔ سندھ میں وارد ہونے پر زیادہ تر دراوڑوں سے ہی واسطہ پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں دراوڑی زبانوں نے نوواردوں کی زبانوں پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ وہاں منڈا گر وہ کی زبانیں اس پر کوئی قابل ذکر اثر نہیں ڈال سکیں۔‘‘ (۵)
ذیل میں منڈا گروہ کے اثرات سے جو الفاظ سندھی میں داخل ہوئے ہیں، دیئے جاتے ہیں۔
نوٹ:۔ یہاں دیئے گئے الفاظ عین الحق فرید کوٹی کی کتاب ’’اردو زبان کی قدیم تاریخ‘‘ سے ماخوذ ہیں جبکہ سندھی الفاظ راقم نے درج کیے ہیں:
رشتہ جات
منڈاری سندھی اردو
نانا نانو نانا
نانی ناني نانی
ماما مامو ماما
مامی مامي مامی
پھوپھا پڦڙ پھوپھا
پھوپھی پڦي پھوپھی
سالا سالو سالا
سالی سالي سالی
موس ماسي موس
سانڈھو سنڍو ہم زلف
بر ور/ مڙس دولہا
اعضائے جسم
منڈاری سندھی اردو
منڈی منڍي سر
کھری کُر پاؤں
جانگ ڄنگهه ران
موآنرا مهانڊو چہرہ
زیورات و ملبوسات:
منڈاری سندھی اردو
نتھ نٿ نتھ(ناک کازیور)
کاجر ڪجل کاجل
گہنا ڳهه زیور/گہنے
انگا انگ لباس
گانجی گنجي بنیان
لیجا ليڙ کپڑا
باگلی بگهري تھیلی
ضروریا تِ زندگی:
منڈاری سندھی اردو
آوا آوي بھٹہ
ہانڈا هنڊي ہنڈیا
ڈالی ڏلهي چھوٹی ٹوکری
چولاہا چلهو چولہا
چمٹا چمٽو چمٹا
سڑھی چاڙهي سیڑھی
آرا آري آرہ
سوٹا سوٽو چھڑی
ڈنڈا ڏنڊو ڈنڈا
ڈھال ڍال ڈھال
بھنڈار ڀنڊار بھنڈار
بوہنی ٻوڻي بوھنی
چپری ڇپري چھپری
جھوپڑی جهوپڙي جھوپڑی
پھاٹک ڦاٽڪ پھاٹک
افعال:
منڈاری سندھی اردو
اٹکار اٽڪل اٹکل
اڑاؤ اڙي اڑیل
ہاکاؤ هڪلڻ ہانکنا
لاہ لاهڻ اتارنا
مانجاؤ ماڃڻ مانجنا
نبراؤ نبيرڻ نبیڑنا
تانگی تانگ انتظار
الار الار مارنے کی کوشش
متفرق الفاظ:
منڈاری سندھی اردو
آڑا آڏ آڑ
بھاڑہ ڀاڙو بھاڑا/کرایہ
باؤ/باسی باسي – پاروٿو باسی
چترکابر چٽڪمرو چتکبرا
چیلا چيلو چیلا
دھندہ ڌنڌو دھندہ/ کاروبار
دھوڑ ڌوڙ دھول
گنجاؤ گنج گنج
گیرو گيڙو گیرو
لار لار قطار
مت مت مت/عقل
مورکھ مورک مورکھ
نج نج نجی
روڑا روڙو روڑا
سگڑ سگهڙ سگھڑ
آسے پاسے آسي پاسي آس پاس
چتربتر تتربتر تتر بتر
دھوم دھام ڌوم ڌام دھوم دھام
کھٹ پٹ کٽ پٽ کھٹ پٹ
پیمانے:
قدیم زمانے میں اناج کی ناپ تول کے لیے لکڑی یا دھات سے پیمانے بنائے جاتے تھے جو مختلف ناموں سے منسوب تھے۔ اس ضمن میں عین الحق فریدکوٹی یوں بیان کرتے ہیں:
’’زمانہ قدیم میں غلے کو تولنے کے علاوہ اسے ناپ تول کر بھی تقسیم کیا یا بیچا جاتا تھا۔ یہ ناپ تول ایک مخصوص مقدار کے لیے لکڑی یا دھات سے بنائے جاتے تھے۔ پنجاب (سندھ) کے دیہات میں آج بھی یہ پیمانے ’’ٹوپا‘‘ اور ’’وٹی‘‘ کے نام سے مستعمل ہیں۔ ذیل میں قریباً برابر مقدار کے منڈاری، دراوڑی، پنجابی، کشمیری اور سندھی پیمانے درج ہیں۔
منڈاری سندھی
لپ (ہتھیلی بھر) لپ
پاٹی، غلے کا پاٹی پاٽي/ پوڻا ٻه سير
پیمانہ ساهمي/ وَٽَ
… ڌڙي/ پنج سير
ان میں پاٹی یا وٹی کا پیمانہ قدامت کے لحاظ سے سب سے پرانا معلوم ہوتا ہے ظاہر ہے کہ ہڑپائی دور کی غلے کی دکانوں پر یہ پیمانہ عام مستعمل ہوگا۔ گنتی کے لحاظ سے منڈاری اور سندھی دونوں میں دو کے ہند سے کے لیے ”ٻه“ (با)کا لفظ مشترکہ طور پر مستعمل ہے۔ اسی طرح منڈاری زبانوں میں کوڑی بمعنی بیس گنتی کی اکائی کے طور پر مروج ہے۔ منڈاری لفظ ’کر‘ بمعنی ہاتھ اس کی اصل ہے۔ کوڑی لفظ ’کر‘ کی جمع ہے جس کے معنی دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کا مجموعہ یعنی بیس انگلیاں۔ غالباً قدیم زمانے سے ہی منڈا قبائل ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی تعداد کو گنتی کی اکائی کے طور پر استعمال کرتے ہوں گے۔ آج بھی پنجاب (سندھ) کے دیہات میں یہی اکائی عام مروج ہے جیسے کہ سو کو وہ پنج ویہاں (پانچ بیسے) اور ایک سو تیس کو چھہ ویہاں تے دس یعنی چھہ بیسے اور دس کہتے ہیں۔‘‘(۶)
نوٹ:۔ منڈاری زبانوں اور اردو، سندھی، پنجابی، سرائیکی زبانوں کے الفاظ میں مماثلت کو عین الحق فرید کوٹی نے اپنی تصنیف ’’اردو زبان کی قدیم تاریخ‘‘ میں بیان کیا ہے۔ یہاں سندھی سے متعلق الفاظ کو مختصر طور بیان کیا جاتا ہے۔
کوئی چیز لینے یا بھرنے کے لیے دونوں ہاتھ ملائے جاتے ہیں۔ سندھی میں اس کے لیے ٻُڪ (بک)لفظ ملتا ہے۔ یہی لفظ منڈاری گروہ کی زبان میں ’’ہاتھ‘‘ کے معنی میں ملتا ہے۔ مثلاً منڈاری اور سنتھالی میں ’’ہاتھ‘‘ کے لیے ’’بک‘‘، کڑیہ میں ’’بکپ‘‘ اور ’’جؤانگ‘‘ میں ’’بکو‘‘ الفاظ ملتے ہیں۔ کاشتکار کے لیے سندھی میں ہاری (هاري) کا لفظ ملتا ہے۔ منڈاری میں اسی معنی کے لیے ’’ہاڑا‘‘ کا لفظ ہے۔ بلی کے لیے سندھی زبان کے لاڑی محاورہ میں ’’پوسنی‘‘ (پوسڻي) کا لفظ ہے۔ سنتھالی اور منڈاری زبانوں میں اسی معنی کے لیے ’’پوسی‘‘ کا لفظ ملتا ہے۔ پنجابی اور سندھی میں والد کو مخاطب کرکے ’’بابا‘‘ اور ’’ابا‘‘ کہتے ہیں۔ منڈاری گروہ کی زبان جؤ انگ میں ’’بابا‘‘ اور کڑکو میں ’’ابا‘‘ والد کے معنی میں آیا ہے۔ منڈاری میں ’’آپو‘‘ اور ’’کڑیہ‘‘ میں ’’اپا‘‘ ملتے ہیں۔ پنجابی میں اسی معنی کے لیے ’’باپو‘‘ اور ’’پیو‘‘ اور سندھی زبان میں والد کے معنی میں ”پيءُ“ کا لفظ ملتا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں چھوٹے بچے کو پیار میں ’’کاکو‘‘ اور بچی کو ’’کاکی‘‘ کہتے ہیں۔ منڈاری گروہ کی زبان جؤ انگ میں ’’بھائی‘‘کے لیے ’’کاکو‘‘ اور بہن کے لیے ’’سَورہ‘‘ زبان میں ’’کاکی‘‘ کا لفظ ملتا ہے۔ سندھ میں چھوٹے لڑکے کو پیار میں ’’کاکو‘‘ کرکے پکارتے ہیں۔ منڈاری گروہ کی زبان ’’سوَرہ‘‘ میں بھائی کے لیے ’’کاکو‘‘ مستعمل ہے۔ سندھی میں ’’آگے‘‘ کے لیے ’’اڳيان‘‘ اور ’’اڳتي‘‘ بھی ملا ہے۔ منڈاری گروہ کی زبان جؤ انگ میں اسی معنی کے لیے لفظ ’’اگتا‘‘ ملتا ہے۔ سندھی زبان میں ’’کیا‘‘ کے لیے ’’چھا‘‘ لفظ ملتا ہے۔ منڈا گروہ کی زبانوں میں اسی نوعیت کے اور کئی الفاظ بھی ملتے ہیں۔ مثلاً سنتھالی میں ’’چھی‘‘ اور ’’کڑکو‘‘ میں ’’چھو‘‘ اس معنی کے لیے ہے۔ سندھی میں لفظ ’’کیونکہ‘‘ کے لیے ’’ڇاڪاڻ‘‘ (چھاکان) لفظ ملتا ہے منڈاری میں ’’کیا‘‘ کا مترادف ’’چھکان‘‘ ہے۔
اردو، پنجابی اور سرائیکی میں ’’کیوں‘‘ کا لفظ آتا ہے۔ اسی معنی میں سندھی میں ’’چھو‘‘ کا لفظ مستعمل ہے۔ منڈاری گروہ کی زبان منڈاری میں اس کے لیے ’’چھکان‘‘ سنتھالی میں ’’چھی‘‘ اور کڑکو میں ’’چھو‘‘ اور ’’چھون‘‘ الفاظ ملتے ہیں۔ سندھی میں ’’کیونکر‘‘ کے لیے ’’چھو‘‘ کا لفظ ہے۔منڈاری، پنجابی اور سندھی میں مندرجہ ذیل الفاظ ایک ہی معنوں میں مستعمل ہیں: ’’اناج، ان پانی، دال، گڑ، ببول (سندهي- ٻٻر)، بڑ، (پنجابی۔بوڑھ)، کریلا، ککڑی، دھتورہ (یا دھاتورہ)، نیم (سندھی، پنجابی:نم) پپیتا (پپیتو)۔‘‘(۷)
مندرجہ بالہ حقائق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ منڈا گروہ کی زبانوں اور سندھی کے الفاظ میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ تا ہم اس کو منڈا گروہ کی زبانوں میں شامل نہیں کر سکتے۔ کیونکہ لسانی ساخت کے اعتبار سے منڈاری زبانیں مختلف ہیں۔ بقول بھیرومل مہرچند آڈوانی:
’’ منڈاری/سنتھالی زبانوں میں پہلے فعل آتا ہے اور اس کے ساتھ لاحقے شامل کرکے جملہ بنایا جاتا ہے۔ مثلاً سنتھالی میں دل کے معنی ’’مارنا‘‘ اس کے ساتھ لاحقے شامل کرکے اسی طرح جملہ بنایا جاتا ہے۔ ’’دل۔ اوچو۔ آکن۔ تنہن۔ تء، تن، آ۔ ای‘‘
ایک ہی لفظ کے آخر میں لاحقے (Suffixes) ملانے سے یہ ایک جملہ بن گیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ جو اس کا ہے وہ جو میرا ہے سوخود کو مرواتا رہے گا۔
اس ’’ دل‘‘ لفظ کے درمیان میں اگر ’’پ‘‘ حرف کا اضافہ کیا جائے تو اس سے ’’دپل‘‘ لفظ بنے گا اور اسی سے ایک دوسرے کو مارنے کا مفہوم نکلے گا۔‘‘(۸)
مذکورہ جملے کی ساخت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سندھی زبان کی ساخت اس طرح کی نہیں۔ جس کی وجہ سے ان کو منڈاری گروہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ تاہم سندھی میں منڈاری کی باقیات سے منڈا گروہ کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
دراوڑی اثرات
برصغیر پاک و ہند میں ہند آریائی گروہ کے علاوہ دوسرا قدیم گروہ دراوڑی زبانوں کا ہے جو آریائی زبانوں سے مختلف ہے۔ اس خاندان کی شاخوں کا نقشہ اس طرح ہے:
(۹)
پاکستان میں ’’براہوئی‘‘ اسی خاندان کی زبان ہے اس کے علاوہ دراوڑی زبانوں کا اثر سندھی کے علاوہ وادیٔ سندھ کی دوسری زبانوں پر بھی بہت پڑا ہے۔ وادیٔ سندھ میں دراوڑوں کی آمد کے حوالے سے پروفیسر سجاد حیدر لکھتے ہیں:
’’وادی ٔ سندھ میں آٹھ ہزار سال قبل مسیح میں دراوڑ قوم فاتحین کی حیثیت سے داخل ہوئی۔ یہ بحیرہ روم کی طرف سے آئی۔ میسو پوٹیمیا، (عراق)، عرب اور بلوچستان سے ہوتی ہوئی وادیٔ سندھ میں داخل ہوئی اور اپنی مشہور تہذیب کے مراکز موہن جو دڑو اور ہڑپہ قائم کیے۔ اس وقت مقامی قومیں سست اور کاہل ہو چکی تھیں اور یہ قوم کافی مہذب اور طاقتور تھی۔‘‘(۱۰)
دراوڑوں کے آغاز کے متعلق سید محی الدین قادری زوریوں رقمطراز ہیں:
’’ڈراویڈوں کے آغاز کے متعلق جدید ترین نظریہ یہ ہے کہ وہ بحیرۂ روم کے قرب و جوار کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک عرصہ تک عراق میں رہ چکے ہیں۔ جب ہقادیوں یا سامیوں کا دباؤ بڑھنے لگا تو بلوچستان کے راستے سے (جہاں ان کی ایک زبان براہوی اب تک موجود ہے) ہند میں داخل ہوئے اور سندھ اور گنگا کی وادیؤں کے کنارے کنارے، پھیل گئے۔ لیکن ان علاقوں سے انہیں از منۂ ماضی کی سیاہ فام نسلوں میں ضم ہونا پڑا۔ ڈراویڈوں نے دکن میں بڑی قوت حاصل کرلی اور دریائے کا ویری کے اطراف میں ان کا تمدن پھیلنے لگا۔ ڈراویڈوں کے متعدد گروہ تھے۔ جن میں کنٹری، تلنگی، تامل اور ملیالم بولنے والے سب سے زیادہ متمدن اور ترقی یافتہ تھے۔ ان کے غیر متمدن قبیلوں میں براہوی، گونڈ اور اوراؤں کا شمار کیا جاتا ہے۔ جو ممکن ہے ابتدا میں کول ہوں۔ لیکن ڈراویڈی زبان اختیار کرلی اور ہمیشہ ڈراویڈوں سے جدا اور ترقی سے محروم رہے۔‘‘ (۱۱)
دراوڑی زبانوں کے عالم بشپ رابرٹ کا ڈویل (Rov. Robert Caldwell) نے آریاؤں کے وادیٔ سندھ میں ورود کا تذکرہ کیا ہے۔ جس کو عین الحق فرید کوٹی یوں بیان کرتے ہیں:
’’آریاؤں کی آمد سے قبل یہاں بسنے والے قبائل تعداد کے لحاظ سے غالباً ان کی نسبت زیادہ تھے۔ جن پر اگرچہ آریاؤں نے فتح ضرور حاصل کرلی لیکن مقامی آبادی نیست و نابود نہیں ہوئی بلکہ آہتہ آہستہ وہ آریائی معاشرہ میں جذب ہوکر اس قوم کا ایک حصہ بن گئی اور فاتح قوم کے بہت سے رسم و رواج اور لغوی سرمایہ کا کچھ حصہ اپنا لیا۔اکثریت میں ہونے کی بناء پر انہوں نے بھی آریائی تمدن ، مذہب اور زبان پر گہرا اثر ڈالا ہوگا۔‘‘(۱۲)
ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں:
’’کافی عرصہ سے میں اس امر کا قائل ہوگیا ہوں کہ کتنے ہی دراوڑی الاصل الفاظ سنسکرت کے لغوی سرمائے میں داخل ہوچکے ہیں ۔ اغلب ہے کہ الفاظ کا اس سے بھی زیادہ حصہ کئی دوسری مقامی زبانوں (منڈاوغیرہ) سے سنسکرت میں شامل ہوا ہو۔اگر چہ سنسکرت میں دراوڑی الاصل الفاظ کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن جب کوئی ایسا لفظ سامنے آتاہے جو کہ دراوڑی اور سنسکرت میں مشترکہ طور پر موجود ہو تو بلا سوچے سمجھے یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ یہ سنسکرت اصل سے تعلق رکھتا ہے‘‘(۱۳)
انہی خیالات کا اظہار سر جارج گرئیرسن نے بھی کیا ہے۔ جس کو عین الحق فریدکوٹی کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
’’آریائی قبائل جوکہ شمال مغرب کی سمت سے برصغیر میں داخل ہوئے ان کے ورود کے ابتدائی دور ہی سے ان کا واسطہ دراوڑی اقوام سے پڑا ۔ نوواردوں نے ان کے ساتھ شادی بیاہ کے تعلقات قائم کیے اور ان کے اکثر دیوی دیوتاؤں اور رسم و رواج کو اپنا لیا ۔ خاص کرلثوی حروف کے حامل الفاظ جوکہ بنیادی طور پر آریائی زبانوں میں موجود نہیں۔ آریائی قبائل کے برصغیر میں داخل ہونے کے بعد ان کی زبان میں شامل ہوئے۔ ایسے الفاظ دراوڑی اور منڈا گروہ کی زبانوں میں عمومیت کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ غیر آریائی زبانوں کے اثرات کے تحت خودآریائی الاصل الفاظ کا تلفظ بھی بدل گیا۔‘‘(۱۴)
اس ضمن میں عین الحق فرید کوٹی اپنے مطالعے کا خلاصہ یوں بیان کرتے ہیں:
’’جہاں تک میرے مطالعے کا تعلق ہے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہڑپائی تہذیب کے دور میں یہاں کے باشندے دراوڑی اور منڈا گروہ کے لسانی حلقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کا بین ثبوت نہ صرف بلو چستان میں دراوڑی بولنے والے براہوئی قبائل کا وجود ہی ہے بلکہ مقامی زبانوں میں دراوڑی اور منڈا عنصر کی موجودگی بھی اس امر کی زندہ شہادت ہے۔‘‘(۱۵)
سندھی زبان میں دراوڑی الفاظ زیادہ ملتے ہیں ۔ نمونے کے طور پر چند الفاظ دیئے جاتے ہیں:
(نوٹ: مندرجہ ذیل الفاظ میمن عبدالمجید کی تصنیف ’’لسانیاتِ پاکستان‘‘ سے لئے گئے ہیں اور سندھی الفاظ راقم نے دیئے ہیں۔)
دراوڑی سندھی اردو
وایے/بایے وات منہ
تلی/ تل تري ہتھیلی
تی تئو توا
نیل/ نیر نير پانی/ نہر
من/ منڈ منڍ آگے
آپی/ آیا آپا آپا
مامن/ ماما ماما ماما
نانوں نڻان نند
ان ان اناج
مولا/ مولانگی موري مولی
آری آري آری
کٹلی کٽ چارپائی
چاٹی دِلو گھڑا
تنتو تند تند/دھاگہ
کارو ڪارو کالا
مکت موتي موتی
کوٹ ڪوٽ قلعہ/ کوٹ(۱۶)
صوتیات کے اعتبار سے بھی سندھی اور دراوڑی زبانوں میں ہم آہنگی ملتی ہے۔ اس سلسلے میں میمن عبدالمجید لکھتے ہیں:
’’صوتیات کے لحاظ سے بھی سندھی اور دراوڑی زبانوںمیں مماثلت نظر آتی ہے۔ غنہ آوازوں کی تعداد سندھی اور دراوڑی زبانوں میں پانچ ہے ۔ ڃ، ڱ، م، ن، ڻ۔ آریائی زبانوں (انگریزی / سنسکرت وغیرہ)میں بعض الفاظ کا پہلا حرف ساکن ہوتا ہے۔اس کے علاوہ کئی الفاظ میں دو یا تین حروف بھی ایک ساتھ آتے ہیں۔ مثلاً انگریزی لفظ "Strength" میں شروع کے تین حروف Str مرکب صورت میں ادا ہوئے ہیں۔ سنسکرت لفظ ’’کرشڻ‘‘ میں تین آوازیں ایک ساتھ ادا ہوتی ہیں۔ سندھی میں یہ خصوصیت موجود نہیں ہے ۔ اس لیے / کرشڻ/ اکو/ کرشڻ/ کی صورت میں ادا کیا جائیگا۔ دراوڑی زبانوں میں دو یا تین آوازوں کے مرکب نہیں ہیں۔ ہر آواز الگ الگ ادا کی جاتی ہے۔ لفظ کے درمیان میں دو آوازیں ایک ساتھ نہیں آتیں۔ دراوڑی زبانوں میں اسم اور ضمیر کے ساتھ لاحقہ/ ک /کی/ شامل ہوکر ’’حروف جار‘‘ کے معنی دیتا ہے۔ ہند یورپی زبانوں کی کسی بھی شاخ میں/ک/ یا/ کی/ سے مشابہت رکھنے والا کوئی بھی حرف جار نہیں پایاجاتا۔ سندھی میں /کھ/ ملتا ہے جو دراوڑی لفظ /ک/سے مشابہت رکھتا ہے۔‘‘(۱۷)
مندرجہ بالا تفصیل سے معلوم ہوگا کہ سندھی اور دراوڑی زبانوں میں الفاظ کے لحاظ سے مماثلت ہے۔ لیکن ساخت اور صرف ونحو کے نقطۂ نظر سے جائزہ لیا جائے تو زیادہ مماثلت نہیں ملتی۔ ان زبانوں کی ساخت اور صرف ونحو میں بہت فرق ہے۔اس فرق کو بیان کر سکتے ہیں۔ میمن عبدالمجید یوں بیان کرتے ہیں:
’’سندھی صفت میں، اسم کے عدد ، جنس اور حالت کے مطابق تبدیلی ہوتی ہے۔مثلاً:
اردو سندھی سنسکرت
اچھا آدمی چڱو ماڻهو بھدرو منش
(اردو میں چنگا کا لفظ(چنگا آدمی) بھی بھلا چنگا کی ترکیب میں موجود ہے)
اچھے آدمی چڱا ماڻهو بھدرے منشاہ
اچھی عورت چڱي عورت بھدراتتری
اچھی عورتیں چڱيون عورتون بھدرا تتریاہ
دراوڑی زبانوں میں صفت کی صورت تبدیل نہیں ہوتی۔ مثلاً:
اردو ملیالم گونڈی کوروا ٹوڈا ملٹو تیلگو
اچھا آدمی نل منش چوکو منسال چھلو منس الے آل ایڑو مالے منچھی واڈ
اچھے آدمی نل منشیار چوکو منسالوڈ چھلو منسرا الے آل ایڑوملر منچھی وار
اچھی عورت نل اول چوکو آر چھلوواراتی اُلے ککس ایڑو پیلیو منچھی دی
اچھی عورتیں نل تری گل چوکو آسک چھلو واراتی/ انگا الے ککس ایڑو پیلیو منچھی ستری لو
آریائی زبانوں میں فاعل کی جنس اور عدد کے مطابق فعل کی صورت تبدیل ہوتی ہے۔ دراوڑی زبانوں میں بھی اس نوعیت کی تبدیلی ہوتی ہے ۔ لیکن بہت سی صورتوں میں یہ تبدیلی نہیں بھی ہوتی۔ اس قسم کی باریک تبدیلی کا نظام جس حد تک سندھی میں موجود ہے۔ اس طرح کا باریک نظام دوسری آریائی زبانوں میں نہیں ۔ نمونے کے طور پر کچھ مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
اردو انگریزی دراوڑی زبانیں سنسکرت سندھی
ہم ہیں we are کناری/ ناوایدیو شمہ بھوامہ اسان آهيون
تم ہو you are نیوا یدیو تست بھوتا توهان آهيو
وہ ہیں They are اورایدار سنسیتی بھونتی اهي آهن
میں تھا I was ملیالم:آئیں آیسی آسم بھوم آئون هوس
وہ تھا He was اَوں آیی آسیت ابھوت هُوهو
ہم تھے We were نٹل آیی آسما بھواما
اسين هئاسين(۱۸)
دراوڑی اور سندھی زبان کے اس تقابلی مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سندھی زبان میں دراوڑی اثرات موجود ہیں۔
آریائی اثرات
آریائی زبان ہندوستان میں اکیلی زبان کی شکل میں نہیں داخل ہوئی، بلکہ متعدد بولیوں کے ایک گروہ کی حیثیت سے جو متفرق آریائی قبیلوں کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہوئی تھیں ۔ ان میں سے صرف ایک ابتدائی بولی ویدوں کی زبان ہونے کی وجہ سے محفوظ رہی، مگر اس دور میں یقینا دوسری بولیاں بھی رائج تھیں۔ جو تغیر کے بعد آج جدید ہند آریائی زبانوں کی شکل میں موجود ہیں ان قدیم ہند آریائی بولیوں میں جو باہمی اختلاف واتحاد تھا اس کی نسبت اس وقت زیادہ مواد موجود نہیں ہے مگر یہ گمان غالب ہے کہ تین ہزار سال پہلے بھی ہند آریائی زبانوں کے درمیان کچھ اختلافات موجود تھے۔ آریاؤں کی آمد کے حوالے سے سید محی الدین زور لکھتے ہیں:
’’آریا بولنے والے ہندوستان میں 1500 ق م سے پہلے ہی وارد ہوئے ہیں۔ کیونکہ یہ وہ زمانہ ہے جبکہ وید کی تخلیق عمل میں آئی ہے۔ ہندوستان آنے سے پہلے آریا قبیلے کچھ عرصہ کے لیے افغانستان میں ٹھہرکر تازہ دم ہوتے رہے اور پھر دریائے کابل اور قرم کے کنارے کنارے پنجاب میں داخل ہوئے۔‘‘(۱۹)
آریا ہندوستان میں داخل ہونے سے پہلے ایران اور افغانستان میں بھی قیام پذیر تھے۔ بقول سید محی الدین قادری:
’’آریا ہندوستان میں داخل ہونے سے پہلے مشرقی ایران اور افغانستان میں چند دن ٹھہر چکے تھے اور وہاں ان کی زبان ایک حد تک ارتقا پا چکی تھی۔ اسی کو ہم ہندایرانی یا آریائی زبان کہتے ہیں۔‘‘(۲۰)
(۲۱)
سندھی اور وادیٔ سندھ کی دیگر زبانوں پر آریائی زبانوں کے اثرات کے سلسلے میں میمن عبدالمجید سندھی یوں رقمطراز ہیں:
’’پنجابی اور وادیٔ سندھ کی دیگر زبانوں پر سب سے نمایاں اثرات آریائی زبانوں نے مرتب کیے۔ یہاں تک کہ ان کی صورت بھی آریائی زبانوں کے قالب میں ڈھل گئی اوریہ آریائی زبانوں ہی کے گروہ میں شامل ہو گئیں۔‘‘(۲۲)
آریائی زبانوں کے الفاظ اس قدر ان میں داخل ہوئے کہ اس کا احاطہ کرنے کے لیے کئی ضخیم جلدوں کی ضرورت پڑے گی۔ بہرحال نمونے کے طور پر چند مثالیں جو میمن عبدالمجید نے اپنی تصنیف ’’لسانیات ِ پاکستان‘‘ میں بیان کی ہیں: ملاحظہ ہوں:
اردو سنسکرت اوستا سندھی
ایک ایکہ ائیو هڪ (ہک)
دو دو دو ٻه (بہ)
تین تریہ تیہ ٽي(ٹرے)
چار چتوارہ چار چار (چار)
پانچ پانچ پانچ پنج (پنج)
میں اہم ازم مان (ماں)
ہم ویم وئیم اسان (اساں)
تم یویم یوزم توهان (توہاں)
وہ سہ او هو (ہو)
ہاتھ ہستہ زست هٿ (ہتھ)
پاؤں پد پاؤہ پير (پیر)
ناک ناسکا/ سانا وینا نڪ (نک)
دانت دنت دانت ڏند (ڈند)
سر سرہ سرہ سر/ مٿو (متھو)
زبان(قدیم اردو جیبھ) جبوا ہزو ڄڀ (جبھ)
چاند/ چندا چندرہ ماہ چنڊ (چنڈ)
آگ اگنی آترس باه (باھ)
باپ پتا پتر پيءُ (پی)
ماں ماتا ماتر ماءُ (ماؤ)
بھائی بھراتا براتر ڀاءُ (بھاؤ)
بیٹا پتر پُسو پٽ (پٹ)
بیٹی/ دھی دہتا دختر ڌيءُ (دھی)
الفاظ کے علاوہ صوتیات میں بھی مماثلت ہے سنسکرت کے تمام صوتیے سندھی میں ہیں۔ ٻ- ڄ-ڳ-ڱ- ڻ ۔ (۲۳)
سندھی زبان میں بہت سے الفاظ میں سابقے ملتے ہیں۔ یہ صورت سنسکرت زبان میں بھی ہے۔ مندرجہ ذیل سابقے سنسکرت اور سندھی میں ایک ہی معنی میں آتے ہیں۔ ’’اُپ،اَو،اَ،وِ،ابھ،ان(ان)،،سَ،سُ،ک،دُر(ڈ)‘‘بعض الفاظ میں لاحقے بھی ہیں:’’اَ،اِک، تا،اَل،ونت،وند،ئی‘‘۔
صرف ونحو میں بھی خاصی مماثلت ہے۔ تاہم کچھ فرق بھی ہے۔ اس ضمن میں میمن عبدالمجید لکھتے ہیں:
’’سنسکرت زبان میں واحد جمع کے علاوہ ’’تثنیہ‘‘بھی ہے لیکن ،سندھی زبان میں تثنیہ کا صیغہ نہیں ہے۔ سنسکرت اور دیگر آریائی زبانوں میں بعض الفاظ میں دو یا تین حرف ایک ساتھ ادا ہوتے ہیں لیکن سندھی میں یہ صورت نہیں۔ سنسکرت کے کچھ الفاظ ساکن حروف سے شروع ہوتے ہیں ۔ سندھی کے الفاظ میں کسی بھی لفظ میں دو یا تیں آوازوں کے مرکب نہیں ہیں اور نہ کوئی لفظ ساکن حرف سے شروع ہوتا ہے۔
سندھی میں تذکیرو تانیث کا بہت ہی لطیف اور باریک نظام موجود ہے۔ نیز جملے میں فاعل کی جنس اور عدد کے مطابق فعل کی تبدیلی کا بھی باقاعدہ نظام پایا جاتا ہے۔ اس طرح سنسکرت اور دیگر آریائی زبانوں میں بھی اسی نوعیت کا نظام ملتا ہے۔ لیکن ایسی مثالیں بھی پائی گئی ہیں جن میں کئی صورتوں میں یہ تبدیلی نہیں بھی ہوتی۔مثلاً:
اردو سنسکرت پہلوی سندھی
وہ مارے مارینتی زند هو ماري
وہ ماریں مارینتی زند اهي مارين
اس نے مارا تینا ماریتہَ زد هن ماريو
میں نے مارا میاماریتہَ … مون ماريو
ہم نے مارا اسمابھرماریتہَ زد اسان ماريو
تم نے مارا یشمابھرماریتہَ توهان ماريو
ضمیری لاحقے بھی صرف پنجابی، سرائیکی، کشمیری اور سندھی میں ہیں ۔ ضمیری لاحقہ/م/ معنی’’میں‘‘کی مثال یہ ہے۔
اردو سندھی
میں نے مارا ماریم
یہ لاحقے اردو ، ہندی اور دیگر آریائی اور ایرانی زبانوں میں نظر نہیں آتے۔‘‘(۲۴)
اس تفصیل کی روشنی میں موجودہ دور کے ماہرینِ لسانیات کی یہ رائے درست ہے کہ سندھی اور پاک و ہند کی تمام زبانیں سنسکرت سے پیدا نہیں ہوئیں بلکہ قدیم مقامی پراکرتوں سے ظہور پذیر ہوئیں۔جنہیں عوامی زبانوں کا درجہ حاصل تھا ۔ یہ پراکرت کوئی ایک زبان نہیں تھی ۔ بلکہ اس کی علیحدہ علیحدہ صورتیں تھیں جو مختلف علاقوں میں مروج تھیں۔
بقول عین الحق فرید کوٹی:
’’جب آریائی قبائل یہاں وارد ہوئے تو انہوں نے ان زبانوں سے گہرے اثرات قبول کیے اور کچھ حد تک مقامی زبانوں کو بھی متاثر کیا۔لیکن اس سے مقامی زبانوں کا لغوی پہلو ہی متاثر ہوا اور صرف ونحو کا بنیادی ڈھانچہ ان اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رہا جو آج بھی موجود ہے۔‘‘(۲۵)
سندھی اور جپسی زبان
عین الحق فریدکوٹی جپسیوں اور ان کی زبان کا تعارف کچھ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جہاں جپسی نہ ہوں اور کوئی پیشہ ایسا نہیں جسے وہ بُرا سمجھتے ہوں۔ یہ لوگ تجارت سے لے کر قسمت کا حال بتانے تک سب کام کر لیتے ہیں۔ بعض نسلی خصوصیات کے علاوہ جو خاص بات ان میں قدرِ مشترک ہے وہ ہے ان کی زبان جسے اب ’’روما‘‘ (Roma) کہا جانے لگا ہے۔‘‘(۲۶)
ڈاکٹر غلام علی الانا اپنی کتاب ’’سندھی صورتخطی‘‘ میں جپسیوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
ترجمہ:جپسیوں کو بنجارا بھی کہتے ہیں ’’ بنجارا‘‘ لفظ سندھی لفظ ’’وٹجارا‘‘ کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جپسی (وٹجارا) قوم ابتدا میں برصغیر کے شمال۔ مغرب (پنجاب۔سندھ) والے حصے کے باسی تھے اور وہاں سے نقل مکانی کرکے پہلے ایران اور میسو پوٹیمیا ایراضیوں میں آکر آباد ہوئے اور پھر وہاں سے مصر کی جانب گئے۔ جپسی زبان اور سندھی میں جو مماثلتیں ثابت ہوئی ہیں ان سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ قوم اصل سندھ کے باشندے تھے۔ یہ قوم یورپ کے کچھ حصوں میں خود کو ’’زنگنلی‘‘، کہیں پر ’’رومی‘‘ تو کہیں پر ’’سنتی‘‘ کہلاتی ہے۔ غور کیا جائے تو ’’سنتی‘‘، ’’سندھی‘‘ کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ خود جپسی بھی ایک دوسرے کو مخاطب ہوتے وقت ’’سنتی‘‘ کہتے ہیں جس کا مطلب ہے ’’ساتھی‘‘۔(۲۷)
الانا صاحب، مزید لیلو رچندانی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ:
’’سندھی نامی ایک چھوٹی ہندی قوم، کالے سمندر (Black Sea) کے نزدیک ٹامن نامی جزیرے میں رہتی تھی۔ وہ دور عیسوی صدی سے چھے آٹھ سو برس پہلے کا ہے۔‘‘(۲۸)
مذکورہ بالا حوالوں سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ جپسی قوم سندھی بنجارے (وٹجارا) تھے۔ جو چھے، آٹھ سو سال ماقبل عیسوی سن کالے سمندر (Black Sea) تک پہنچ چکے تھے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ سندھی زبان کے آثار چھ، آٹھ سو سال ق۔م میں بھی ملتے ہیں جو جپسی زبان کی بدلی ہوئی صورت میں موجود ہیں۔
ذخیرۂ الفاظ:
سندھی اور جپسی زبان میں بہت سے الفاظ ایک جیسے ملتے ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سندھی زبان ۶۰۰۔۸۰۰ ق۔م میں بھی معیاری زبان تھی اور جس کا موجودہ ڈھانچہ بالکل اس دور والی زبان سے مماثلت رکھتا ہے۔ ذیل میں ایسے الفاظ کی مثالیں ملاحظہ کیجئے:
جپسی سندھی اردو جپسی سندھی اردو
چُھری چُھری چُھری بال وار بال
کن کن کان نک نک ناک
یک ہک ایک کارو کارو کالا
توں توں تم مانس مانھو آدمی
بکرو بکرو بکرا سنگ سنگ سینگ
انگر آنگر انگلی تُد ڈدھ لسی
پانی پانی پانی رت رت خون
میل میل۔مر میل رانی رانی رانی
چور چور چور ارو اٹو آٹا
مڑس مڑس شوہر جَو جَوَ جو
دریاو دریاء دریا فین بہین بہن
فرل بھاء ُ بھائی سسرو سہرو سُسَر
سسئہ سس ساس کاک کاکو/ چاچو چچا
سالو سالو سالہ(۲۹)
سامی زبانوں (عربی )کے اثرات
ڈاکٹر غلام علی الانا نے اپنی کتاب ’’سندھی بولی جو ابھیاس‘‘ میں بھی جپسیوں کے متعلق لکھا ہے۔ سندھی زبان کو سامی زبانوں خصوصاً عربی زبان نے کافی حد تک متاثر کیا ہے۔ یہ اثرات نہ صرف ذخیرہ الفاظ کی حد تک ہیں بلکہ رسم الخط اور گرامر بھی اس اثر سے نہ بچ سکے۔ اس ضمن میں میمن عبدالمجید کی تحقیق کا جائزہ لیتے ہیں۔ بقول میمن عبدالمجید:
’’ہندو سندھ کے بارے میں قدمائے عرب سے ہمیں یہ روایت ملتی ہے کہ ہندوسندھ سام بن نوح کے بیٹے تھے ۔ نیز یہ کہ ہندوسندھ جنوبی عرب کے ہم نسب تھے۔ایک عرب شاعر کہتا ہے:
لنا الہند و السند والارسیون
واہل الشرق واہل الغرب
ترجمہ: (ہند بھی ہمارا تھا سندھ بھی ہمارا تھا۔ اریسوں بھی ہمارے تھے مشرق والے بھی ہمارے تھے مغرب والے بھی ہمارے تھے)
سرجان مارشل نے اپنی کتاب ’’موہن جو دڑو‘‘میں جن مہروں کے نقوش نقل کیے ہیں ان میں سے بعض مہروں سے ملتی جلتی مہریں عیلم کے پایہ تخت ’’سوسا‘‘ سے تین ’’لغاش‘‘سے اور ایک ’’کش‘‘سے بھی دستیاب ہوئی ہے۔ ان مہروںاور دوسری اشیاء کا عراق و عیلم میں پایا جانا سندھ اور عراق کے درمیان گہرے رابطے کا پتادیتاہے۔آثار سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ۲۷۵۰ ق م تک سندھ اور عراق کے درمیان بڑی مدت سے آمدورفت کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ زمانہ عراق کے اندر سومیوں کے روزافزوں زوال اور سامیوں کے عروج کا تھا۔ مغربی ماہرینِ آثار قدیمہ اور پاکستانی ماہرینِ تسلیم کرتے ہیں کہ اس زمانہ کی ’’ہڑپا‘‘ اور ’’موہن جو دڑو‘‘کی تہذیب پر سامی اثر تھا۔‘‘(۳۰)
میمن مجید آگے مولانا ابوالجلال ندوی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
’’ موہن جو دڑو‘‘ کی مہروں کے حروف جنوبی یمن کی تحریروں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ سندھی مہروں کے یہ حروف ہم کو جنوبی عرب کی تحریر میں جب بھی ملتے ہیں تو وہ جداجدا مہروں کی بجائے ایک مربوط عبارت کی شکل میں پائے جاتے ہیں ۔ ان تمام نوشتوں کو خواہ ان کے حروف الگ الگ مہروں پر ہوں یا کسی مربوط عبار ت کی شکل میں ملیں، انہیں اسی زبان کی مدد سے پڑھا
جا سکتا ہے جو مہر نویسوں کی تھی اور اتفاق سے اس شہادت کا دامن اہل عرب، ان کی تاریخی قدامت، زبان کے تدریجی ارتقا اور عربی زبان کی ان مختلف حالتوں سے وابستہ ہے جن کا مجموعی زمانہ بہت ہی محدود ہے۔ لہٰذا ہمیں عرب ہی نہیں بلکہ عبرانیوں اور فنیقیوں کی تاریخ اور حسب نسب پر بھی نظر ڈالنی ہوگی۔ تاکہ مہروں کی عبارتیں پڑھی جاسکیں۔ قدیم زمانے میں بلوچستان پر جنوبی عرب کے لوگ چھائے ہوئے تھے۔ آثار قدیمہ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب پر ایک طرف تو بلوچستان کا اثر ہے اور دوسری طرف ہڑپا کا ۔ ہڑپا کے آثار قدیمہ سے شمال مشرقی ایران کا اثر بھی ثابت ہوتا ہے اور اس کے علاوہ عراق کی تہذیب کا رنگ بھی نمایاں ہے۔‘‘(۳۱)
مذکورہ حوالوں سے قطع نظریہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ قدیم عراقی تہذیب اور قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب کے باشندوں کے درمیان گہرے تجارتی ، ثقافتی اور ذاتی نوعیت کے تعلقات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ نے ’’سندھی زبان کی تاریخ‘‘ میں یہ نظریہ پیش کیا کہ تھاکہ سندھی زبان سنسکرت سے نہیں نکلی تھی بلکہ یہ قدیم سندھ کی ایک علیحدہ زبان ہے جو مختلف ارتقائی مراحل سے گزر کر ایک مضبوط زبان بنی اور سامی صفت کی زبانوں کی ہمعصر ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وادیٔ سندھ کی زبانوں کے اثرات اور باقیات بھی اس میں موجود ہیں۔کتب تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وادیٔ سندھ کے لوگ مسلمانانِ عرب کی حکومت سے بھی پہلے اپنے پڑوسی ممالک ایران و عرب سے تجارتی تعلقات رکھتے تھے۔ اس حوالے سے میمن عبدالمجید سندھی، مولانا سید سلیمان ندوی کا حوالہ دے کر یوں بیان کرتے ہیں کہ:
’’حضرت عمرؓ نے ایک عرب سیاح سے پوچھا ہندوستان کے متعلق تمہاری رائے کیا ہے؟ اس نے کہا:اس کے دریا موتی ہیں۔ اس کے پہاڑ یا قوت ہیں اور اس کے درخت عطر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہنداور سندھ اور عرب کا اہم راستہ جو خلیج فارس کے ذریعے تھا۔ وہ ہمیشہ عربوں کے ساتھ رہا ہے۔سواحل کے پارسی اور عرب ہمیشہ اپنا سامان اس راستے سے لاتے اور لے جاتے رہے۔‘‘(۳۲)
اس پر مزید لکھتے ہیں کہ:
’’نہ صرف یہ بلکہ ایران اور عرب کے تاجر عراق، بندرگاہ عباس شہر اور بصرہ سے نکل کر سندھ کی بحری اور دریائی بندرگاہوں سے ہوتے ہوئے گجرات کی طرف جاتے تھے اور کناروں پر آباد شہروں اور تجارتی منڈیوں تک ان کی آمدورفت جاری تھی یا سندھ کے ہندو تاجر بھی ایران، افغانستان، عرب، بلخ اور بخارا تک جاپہنچے تھے اور اس آمدورفت کی وجہ سے کئی الفاظ کی آمدورفت کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی کے شروع میں جب وادیٔ سندھ میں مسلمانانِ عرب کی حکومت قائم ہوئی تو اسلامی لشکر عراق اور شیراز سے گزر کر لسبیلہ کے راستہ سندھ میں پہنچا۔ جس کی وساطت سے کئی عربی اور فارسی الفاظ سندھ میں رائج ہوگئے۔ اس وقت سینکڑوں عرب اور ایرانی سوداگر بھی سندھ میں مقیم ہوگئے۔ علاوہ ازیں بحری جہازوں کے افسر اور خلاصی بھی دنیا کے دور دراز ممالک میں پہنچ کر وہاں کی زبانوں کے کئی الفاظ اپنے ساتھ لائے۔‘‘(۳۳)
آٹھویں صدی عیسوی میں عباسی خلیفوں کے دور میں وادیٔ سندھ کے بعض قبائل بغداد کی طرف آتے جاتے رہے۔’’تاریخ بغداد‘‘ (عربی)میں مرقوم ہے کہ سندھ کے ایک بہت بڑے قبیلے کے لوگ خلیفہ ہارون الرشید کے یہاں محکمہ دفاع میں ملازم تھے۔ ان لوگوں کو’’زط‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ’’زط‘‘ قبیلہ وہی ہے جو وادیٔ سندھ میں ’’جٹ‘‘ اور’’جاٹ‘‘ کہلاتا ہے۔ سنہ ۱۲۳ ہجری(یعنی آٹھویں صدی عیسوی ) میں خلیفہ بغداد نے سندھ کے کئی پنڈتوں کو اپنے دربار میں بلایا اور انہیں تعلیمی اور طبی شعبوں پر مقرر کیا۔ان پنڈتوں نے بغداد میں رہ کر علم طب اور علم ریاضی کی متعدد کتب کا عربی میں ترجمہ کیا۔ حکومت بغداد کی طرف سے ان ایام میں وسیع علمی شعبہ قائم کیا گیا تھا جس میں متعدد علوم کے تراجم متعدد زبانوں سے عربی میں کیے جاتے تھے۔ اس وقت سینکڑوں سندھی اور ہندی اصطلاحات اور عطریات و ادویات کے نام عربی زبان میں داخل ہوئے اور آج تک مروج ہیں۔
جہازوں پر جو پلنگ بچھائے جاتے تھے انہیں سندھ اور ہند کے لوگ متفقہ طور پر’’پلنگ‘‘ ہی کہتے ہیں۔جسے سن کر عرب کے لوگ بھی اسے اپنے مخصوص عربی لہجے میں ’’بلنج‘‘ کہنے لگے۔اسی طرح عربی زبان میں چندن کو ’’صندل‘‘ ،’’کپور‘‘ کو’’کافور‘‘، ’’کرن پھول کو ’’کرنفل‘‘کہا گیا۔ ’’بھات‘‘ جو چاولوں سے تیار کیا جاتا ہے اور سندھی اور ملتانی میں اسے ’’بھت‘‘ کہتے ہیں۔ عربی میں ’’بہط‘‘کہلانے لگا۔’’آنب‘‘(آم) جو سندھی ،پنجابی اور ملتانی میں ’’انب‘‘مروج ہے،اسے ’’امبج‘‘ کہتے رہے۔’’کافور‘‘ کا لفظ تو قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ لفظ ’’سندس‘‘بھی قرآن حکیم میں موجود ہے۔ جو دراصل ’’سندھن‘‘کی عربی صورت ہے۔ سندھ کا بنا کپڑا عرب اوردیگر بیرونی ممالک میں مشہور تھا۔ جس کو سندھ کی نسبت سے ’’سندھن‘‘کہا جاتا تھا۔ عرب اور فارسی ملاحوں میں لفظ ’’بارجہ‘‘مشہور تھا۔ البیرونی نے لکھا ہے کہ یہ اصل میں ہندی لفظ ’’بیڑہ‘‘ ہے۔(بارجہ فارسی لفظ بارچہ کی معرب صورت معلوم ہوتا ہے۔بار یعنی بوجھ کی نسبت سے بار بردار کا ہم معنی دکھائی دیتا ہے۔ کشتی سے چونکہ باربرداری کا کام بھی لیا جاتا تھا اس لیے قیاس کہتا ہے کہ اس کا نام بارچہ یا بارجہ رکھا گیا ہوگا ۔ سندھی زبان میں بھی بڑی کشتی کو ’’بیڑو‘‘ اور چھوٹی کشتی کو ’’بیڑی‘‘ کہتے ہیں۔ دوسرا لفظ ’’دونیج‘‘مشہور تھا۔یہ سندھی لفظ ’’دونگی ‘‘ کی عربی صورت ہے۔ سندھی میں ’’دونگی‘‘ یا ’’دنگی‘‘ چھوٹی کشتی کو کہتے ہیں۔(۳۴)
اس سلسلے میں میمن عبدالمجید نے اپنی تحقیق کے حوالے سے چند نتائج بیان کئے ہیں، جوذیل میں بیان کیے جاتے ہیں:
وادیٔ سندھ کے اکثر علاقوں میں لوگ عربی زبان بولتے تھے۔ ابھی مسلمانوں کی حکومت کو نہ تو زیادہ عرصہ گزرا تھا اور نہ اس ملک میں عربی زبان کے لیے مدرسے کھولے گئے تھے جس کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ لوگ قلیل عرصے میں عربی زبان کے اس قدر ماہر ہوگئے کہ اپنی مقامی زبان کی طرح عربی بھی روانی کے ساتھ بول سکتے۔ ان کی عربی دانی توان کے تاجرانہ ماحول کا ایک قدیم حصہ تھی۔
اسلامی حکومت سے قبل سندھ کے تاجر، تجارت کی غرض سے عرب ممالک جانے کی وجہ سے عربی زبان روانی کے ساتھ بول سکتے تھے۔
ہندی لفظ’’ کپور‘‘ قرآن مجید کے نزول سے بھی پہلے ’’کافور‘‘بن کر عربی زبان میں داخل ہو چکا تھا اور عربی کا جزو بن گیا تھا۔اس لئے قرآن حکیم میں استعمال ہوا۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل سندھی/ ہندی الفاظ بھی قرآن حکیم میں پائے جاتے ہیں:
مشک(ہندی:مسک)، زنجیل(ہندی: سونٹھ یا ادرک، سندھی’’سنڈہ‘‘) سندس (معنی: کپڑا، سندھی:’’سندھن‘‘)
اسلامی دور حکومت میں بھی سندھ کے سوداگر اپنے قدیمی دستور کے مطابق تجارت کیا کرتے تھے۔ جب خلفاء بغداد کے دور حکومت میں وادیٔ سندھ میں اصلاحا ت کی وجہ سے ترقی کا دور دورہ ہوا اور بیرونی ممالک کے ساتھ تجارتی مراسم زیادہ بڑھے اور تجارتی منڈیاں بھی قائم ہوئیں تو بغداد ان تمام اشیاء کا مرکز بن گیا۔ وادیٔ سندھ کے وہی تاجر جو عرب ممالک میں عموماٌ اور بغداد میں خصوصاٌ آتے جاتے ہوں گے وہ مانوس عربی الفاظ کا ذخیرہ بھی اپنے ساتھ ضرور لائے ہوں گے۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ جوں جوں اقوام و ممالک میں تہذیب کی روشنی بڑھنے لگتی ہے ان کی زبان میں بھی مزید اصلاح اور ترقی ہوتی گئی ۔ایسے وقت میں متعدد علوم ، متعدد اسباب ، متعدد اشیاء اور متعدد ضروریات خود بخود نمودار ہوتی جاتی ہیں۔لہٰذا الفاظ اور اصطلاحات کا ذخیرہ فطری طور پر خود بخود بڑھنے لگتا ہے اورگھروں ، بازاروں، محفلوں، مجلسوں،دفتروں، درباروں اور تجارتی کاروبار میں ان کا استعمال بکثرت ہونے لگتا ہے۔
اس زمانے میں وادیٔ سندھ کے ہندوؤں میں عربی اور دوسری زبانوں کے بارے میں کسی قسم کی نفرت اور چھوت چھات موجود نہ تھی اور نہ وہ عربی زبان کو اپنی ہندوسبھیتا کے خلاف تصور کرتے تھے۔
وادیٔ سندھ کے جو پنڈت عربی تراجم کے سلسلے میں بغداد گئے اور انہوں نے برسوں تک وہاں رہ کر متعدد ہندی کتب عربی میں منتقل کر ڈالیں وہ یقینا عربی کے بھی ماہر ہوں گے۔ انھوں نے ترجمے جیسا مشکل اور اہم کا م خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ کتب علوم کا ترجمہ عربی زبان میں اس وقت تک ممکن نہ تھا جب تک عربی علوم اور اصطلاحات سے وہ بخوبی واقف اور لغات عربیہ کے کامل عالم نہ ہو۔
اس سے پہلے بھی دلائل سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وادیٔ سندھ کی زبان سنسکرت سے نہیں نکلی بلکہ وہ قدیم دور کی ایک منفرد زبان ہے اور اس کا کسی قدر تعلق ایک طرف آریائی یا سنسکرت اور دوسری مقامی زبانوں کے ساتھ ہے تو دوسری طرف سامی زبانوں کے ساتھ زیادہ گہرا ہے ۔وادیٔ سندھ کے لوگ ۱۲۔۱۳ سو برس پہلے سے عربی جانتے تھے اور بول بھی سکتے تھے اور بغرض تجارت عرب ممالک کی طرف آیا کرتے تھے اور ان کا تجارتی لین دین بھی عربوں کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔ لہٰذا اس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ لوگ شاید قدیم زمانے سے عربی رسم الخط بھی استعمال کرتے ہوں۔
وادیٔ سندھ کے لوگ مدتوں سے عربی زبان لکھ پڑھ سکتے تھے اور دوسرے ممالک کی زبان سے بھی آگاہ تھے۔ یہ چیز ان کی خدا داد صلاحیت اور ذہانت پر بھی دلالت کرتی تھی کہ وہ دوسری زبانوں پر ایسے قادر ہوتے تھے جیسے اپنی مقامی زبان پر۔
وادیٔ سندھ میں عربوں کے دور حکومت میں سب سے بڑی ترقی یہ ہوئی کہ وادیٔ سندھ کی علاقائی زبانوں، محاورات اور روز مرہ میں ایک قسم کی مرکزیت پیدا ہوئی اور ایک جامع’’سندھی، سرائیکی زبان‘‘ (یا جو نام اس وقت اس کا تھا ) کی تشکیل ہوئی۔ یہی زبان عام ملکی زبان بنی اور اس کی بنیاد مضبوط ہوئی ۔ اس لسانی مرکزیت کی کئی خاص وجوہات تھیں۔وادیٔ سندھ میں ایک طاقتور نظام حکومت عمل میں آگیا اور تاریخ سندھ میں پہلی منظّم حکومت وجود میں آئی جس نے ملک کے گوشے گوشے میں قضا اور خراج کے نظام کے ذریعے رعایا کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ تقریباً تین سو برس تک سندھ کی حکومت عرب سیاست کے زیر نگین رہی۔وادیٔ سندھ کے لوگ حلقۂ اسلام میں شامل ہوتے گئے اور اسلامی عقائد اور اسلامی زندگی نے سیاسی ولسانی مرکز یت کو اور بھی زیادہ مضبوط اور مستحکم بنا دیا۔ قبائلی امتیازات ختم ہوتے گئے اور اسلامی شریعت نے علاقے میں گھر کرلیا۔
عرب حکمران کے دور میں کئی شہر آباد ہوئے اور تجارتی مقاصد کے لیے متعدد نئے بری اور بحری راستے اختیار کیے گئے۔ تجارت میں ترقی ہوئی اور قافلوں کی آمدورفت کی وجہ سے ملک کے مختلف حصے آپس میں مل کر ایک ہوگئے اور ان تعلقات کی وجہ سے ملک کی مختلف زبانوں اور ان کے محاورات میں لسانی وحدت پیدا ہوئی اور وادیٔ سندھ کی مرکزی زبان ترقی کرکے بام عروج تک جا پہنچی ۔ ایسے میں یہ کیوں کر ممکن تھا کہ وادیٔ سندھ کی زبان جاذبیت سے تہی دامن رہ جائے اور اس پر عربی زبان کی لسانی کیفیات اور نفسیات کا اثر نہ ہو؟ اردو اور وادیٔ سندھ کی زبانوں کے الفاظ کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایسے بہت سے الفاظ مل جائیں کے جن کی شکل و صورت عربی الفاظ سے ملتی ہے۔ اس قسم کے چند الفاظ ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔
عربی سندھی اردو
خرچ خرچ (خرچ) خرچ
مخ مِک مِکھّ (ہڈیوں کی) مِکھّ
مصالح مصالو (مصالو) مصالا (مسالا)
بط/ بطخ بدڪ (بدک) بطخ
قفل قلف (قلف) قفل
عِطر عطر (عطر) عطر
دلو(ڈول) دلو (دلو) ڈول
ُاُبّ ابو(ابا) ابا
امٌ امان (اماں) اماں
صھر سهرو (سہرو) سُسر
قاطع ڪاتي (کاتی) چھری
قند کنڊ (کھنڈ) چینی
غنہ گهڻو (گھنوں) کثیر
کوب ڪوپ(کوپ) کوپ
دمدمہ ڌماڌم(دھمادھم) دھمادھم
قوافی ڪافي (کافی) کافی
بزاز بجاجي (بجاجی) بجابی/بزاز قمیض قميص (قمیص) قمیص
قتل عام قتلام (قتلام) قتلام/قتل عام
صبح صبح (صبح) صبح
کیسہ کيسو(کھیسو) کھیسا
مسخری مشڪري(مشکری) مسخری
طبلہ دٻلو(دبلو) دبلہ
فوارہ ڦوهارو (پھوہارو) فوارہ
نقارہ نقارو (نقارو) نقارہ
جل جهل(جھل) …
سیرانی سيلاني (سیلانی) سیلانی
نفیر نفيل (نفیل) نفیل۔نفیر(۳۵)
اب ذیل میں عربی الفاظ کی ایک فہرست پیش کرتے ہیں جس کی بنا پر قارئینِ کرام خود اندازہ لگا سکیں گے کہ سندھی زبان پر عربی زبان کا کتنا گہرا اثر ہے۔
’’ابابیل۔ ابجد۔ ابدل۔ ابر۔ ابرق۔ ابلق۔ ابلیس۔ اجازت۔ اجر۔ آخرت۔ آدم۔ آدمیت۔ آفت۔ آل۔ ابتدا۔ ابتر۔ ابرار۔ بصار۔ ابواب۔ ابیات۔ اتباع۔ اتحاد۔ اتصال۔ اتفاق۔ اثبات۔ اثر۔ اجابت۔ اجازت۔ اجتماع۔ اجتناب۔ اجتہاد۔ اجرت۔ اجل۔ اجلاس۔ اجمال۔ احتجاج۔ احتراز۔ احترام۔ احتساب۔ احتشام۔ احتیاج۔ احتیاط ۔ احد۔ احرام۔ احساس۔ احسان۔ احسن۔ احقر۔ احکام۔ احمر۔ احمق۔ احوال۔ اخبار۔ اختتام۔ اختصار۔ اختلاج۔ اختلاف۔اختیار۔اخذ۔ اخراج۔ اخلاص۔ اخلاق۔ اخوت۔ ادارہ۔ ادب۔ ادبار۔ ادراک۔ ادغام۔ اولاد۔ ادنی۔ ادیب۔ اذان۔ اِذن۔ انکار۔ اذیت۔ ارادو/ خیر۔ شر۔ تیر۔ فہرست۔ فساد۔ فرحت۔ غم۔ فکر۔ اقرار۔ انکار۔ قدر۔ قیمت۔ حشمت۔ ہمت۔ لباس۔ طعنو۔ طاقت۔ تقدیر۔ جلسو۔ اشراف۔ اسرار۔ تقدیر۔ تکبیر۔ تحقیق۔ تحقیقات۔ ورثو۔ کرسی۔ عرش۔ شہید۔ شاہد۔ عقیدو۔ ایمان۔ تصویر۔ صورت۔ کمال۔ زوال۔ جمال۔ بخار۔ غبار۔ شروط۔ مشابہت۔ شکل۔ عذاب۔ ثواب۔ خطا۔ صلاح۔ حال۔ حالت۔ صلح۔ فتح۔ تعلق۔ تحریک۔ منظور۔ قبول۔ قیدی۔ مختار۔ معلوم۔ منصوبو۔ امداد۔ مدد۔قمیص۔ صاف۔ صفا۔ دائم۔ قائم۔ شروع۔ شریر۔ شرارت۔ درزی۔ حجام۔ صراف۔ عام۔ خاص۔ انتظار۔ البتہ۔ رخصت۔ شک۔ شبہو۔ شراب۔ شربت۔ خارج۔ داخل۔ مبارک۔ موقعو۔ آخرت۔ عاقبت۔ دین ودنیا۔ استعفائ۔ موقوفی۔ مقرری۔ لفافو۔ شخص۔ حیوان۔ انسان۔ ظاہر۔ باطن۔ ضلعو۔ رعیت۔ بغاوت۔ خالق۔ مخلوق۔ خاص۔ خلق۔ خلقت۔ نقصان۔ غریب۔ غنی۔ مرید۔ مرشد۔ فقیر۔ صوفی۔ فنا۔ بقا۔ صلو۔ وسیلو۔ تمام۔ مخالف۔ موافق۔ وفا۔ وعدو۔ روح۔ راحت۔ جسم۔ جثو۔ وقت۔ سنہ۔ تاریخ۔ عمر۔ ملائک۔ ملک۔ جماعت۔ قوم۔ موت۔ حیات۔ قتل۔ قاتل۔ بندوق۔ اسباب۔ انقلاب۔ نثر۔ نظم۔ شعر۔ شاعر۔ الفت۔ صحت۔ اتفاق۔ اتحاد۔ علاج۔ دوا۔ شفا۔ مرض۔ مریض۔ طمع۔ شمع۔ محفل۔ مجلس۔ مفتون۔ عشق۔ عاشق۔ حبیب۔ طبیب۔ حکیم۔ حاکم۔ مشکل۔ محل۔ فوج۔ رسالو۔ عقل۔ فصل۔ خریف۔ ربیع۔ بیان۔ باب۔ اظہار۔ وکیل۔ وکالت۔ وزیر۔ وزارت۔ مال۔ امیر۔ دولت۔ شان۔ فتح۔ نصرت۔ امین۔ فیصلو۔ فتویٰ۔ منصف۔ امانت۔ عدل۔ عادل۔ انصاف۔ غلط۔ صحیح۔ عالم۔ جاہل۔ سوال۔ جواب۔ سبق۔ امتحان۔ استاد۔ مدرسو۔ علم۔ عمل۔ تعلیم۔ تحریر۔ تقریر۔ لفظ۔ معنی۔ مضمون۔ خوف۔ جلد۔ ورق۔ صفحو۔ حسابِ۔ کتاب۔ قلم۔ کاغذ۔ قانون۔ منشی۔ وغیرہ۔ علیٰ ھذاالقیاس۔(۳۶)
ان کے علاوہ بہت سے عربی الفاظ اصل صورت میں یا تھوڑی سی املائی تبدیلی کے ساتھ سندھی زبان میں موجود ہیں جن کی تفصیل طوالت کا باعث ہوگی ۔ان کے ساتھ بہت عربی الفاظ سندھی زبان میں زبان کی اپنی ساخت کے مطابق مصدر کی صورت میں استعمال ہوتے ہیں۔ نمونے کے طور پر کچھ مصاد رپیش کیے جاتے ہیں۔
عربی اردو سندھی
طلب طلبنا طلبڻ (طلبن)
ضرب ضربنا ضربڻ (ضربن)
نظر نظرنا نظرڻ (نظرن)
شرم شرمانا شرمائڻ (شرمائن)
اب عربی کے ان الفاظ کی فہرست ملاحظہ فرمائیے جو سندھی کے اپنے مصادرمعاون کے ساتھ مل کر یکساں طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
عربی اردو سندھی
بشارت بشارت دینا بشارت ڏيڻ (بشارت ڈین)
اثر اثر کرنا اثر ڪرڻ (اثر کرن)
احرام احرام باندھنا احرام ٻڌڻ (احرام بدھن)
احسان احسان ماننا احسان مڃڻ (احسان منجن)
اخذ اخذ کرنا اخذ ڪرڻ (اخذ کرن)
اخلاص اخلاص بڑھانا اخلاص وڌائڻ (اخلاص ودھائن)
ارادہ ارادہ کرنا ارادو ڪرڻ (ارادو کرن)
استخارہ استخارہ کرنا استخارو ڪرڻ (استخارو کرن)
بیان بیان کرنا بيان ڪرڻ (بیان کرن)
تابع تابع کرنا تابع ڪرڻ (تابع کرن)
تاثیر تاثیر کرنا تاثيرڪرڻ (تاثیر کرن)
تاکید تاکید کرنا تاڪيدڪرڻ (تاکید کرن)
تاویل تاویل کرنا تاويل ڪرڻ (تاویل کرن)
تائید تائید کرنا تائيدڪرڻ (تائید کرن)
تبدیل تبدیل کرنا تبديل ڪرڻ (تبدیل کرن)
عرب دور حکومت میں سندھی زبان کے صوتیات اور صرف ونحو پر عربی کا گہرا اثر پڑا۔ ان اثرات کی وجہ سے سندھی میں مرکزیت، نفسیاتی تبدیلی اور تمدنی ترقی ہوئی۔چنانچہ حروف تہجی میں مندرجہ ذیل حروف کا اضافہ ہوا ۔
’’ث۔ح۔خ۔ص۔ض۔ط۔ظ۔ع۔غ۔ف۔ق‘‘
علاوہ ازیں الفاظ اور جملوں کی ساخت پر بھی عربی کے اعراب کا اثر ہوا۔ چنانچہ حرف جار کے سلسلہ میں سندھی ’’لائے‘‘دراصل عربی حرف جار’’ل‘‘سے مشتق ہے ۔ اس کے علاوہ ’’فی ماہ‘‘،’’فی صدی‘‘،’’با للہ‘‘،’’واللہ ‘‘وغیرہ کے الفاظ سندھی زبان میں بکثرت استعمال ہوئے ہیں۔
حروف ندا:
’’یا‘‘،’’الا‘‘،’’شل‘‘(ان شاء اللہ)بھی عربی الاصل ہیں۔(۳۷)
فارسی زبان کے اثرات:
ڈاکٹر محمد صدیق خان شبلی کے مطابق:
’’فارسی ایک آریائی زبان ہے ۔ اس کا تعلق آریائی زبانوں کے خاندان کی ایرانی شاخ سے ہے۔ یہ زبان جنوبی ایران کے خطہ پارس میں بولی جاتی تھی۔ اسی نسبت سے یہ پارسی (فارسی) کے نام سے موسوم ہوئی۔ فارسی نے موجودہ شکل اور موجودہ نام ایران میں اسلام کی آمد کے بعد تیسری صدی ہجری میں اختیار کیا۔‘‘(۳۸)
فارسی کی ابتدا کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
’’فارسی کی اصل کے سلسلے میں ایک اور زبان کا ذکر بھی ضروری ہے اور وہ اوستائی ہے ۔ اوستاز رتشیتوں کی مقدس کتاب ہے۔ جس زبان میں لکھی گئی وہ ’’اوستائی‘‘ کہلاتی ہے۔ بعض محقق اسے ایران کی قدیم ترین زبان
قرار دیتے ہیں۔ اس کی قدامت کا تعین زرتشت کے زمانے ہی سے کیا جا سکتا ہے۔ زرتشت کا ظہور بعض کے خیال میں ۱۱۰۰ ق م اور بعض کے نزدیک ۶۰۰ ق م میں ہوا۔ اب زیادہ تر محقق ۶۰۰ ق م پر متفق ہیں۔ ایرانیوں کی یہ مذہبی کتاب بیلوں کی چار سو کھالوں پر لکھی ہوئی تھیں ۔ لیکن ہخامنشی دور میں سکندر اعظم کے حملے میں یہ کھالیں ضائع ہوگئیں ۔ موجودہ اوستا کی تدوین کا کام اشکانی بادشاہ بلاش سوم۱۶۸۔۱۹۱ ء کے زمانے میں شروع ہوا اور ساسانی عہد میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ موجودہ اوستا جس خط میں لکھی گئی ہے وہ دنیا کا مکمل ترین خط ہے۔ اور’’دین دبیرہ ‘‘کے نام سے مشہور ہے ۔ اوستا ۸۳۰۰۰ کلمات پر مشتمل ہے۔ ہخامنشیوں کی زبان فارسی باستان، اوستا کی زبان سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔ دونوں زبانیں کسی ایک زبان کی شاخیں معلوم ہوتی ہیں۔ دونوں کے قواعد صرف و نحو بھی ملتے جلتے ہیں ۔ ان مشابہتوں کے باوجود دونوں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیں۔ یہی دونوں زبانیں فارسی کا نقشِ اولین کہی جاسکتی ہیں۔ ان دونوں زبانوں کا تعلق فارسی کے ارتقا کے اولین مرحلہ سے ہے۔‘‘(۳۹)
ایران میں اسلام کی آمد کے بعد فارسی پر عربی کے اثرات کس طرح ہوئے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر شبلی لکھتے ہیں:
’’ایران میں اسلام کی آمد کے بعد ایرانی بڑی تعداد میں مسلمان ہوگئے۔ عربی کو دینی و سرکاری اور علمی زبان کی حیثیت حاصل تھی۔ اس لیے عربی، فارسی پر اثر انداز ہوئی۔ عربی کے بہت سے الفاظ و تراکیب فارسی میں داخل ہوگئے۔ اسی طرح یہ زبان ساسانیوں کی پہلوی سے مختلف ہو گئی۔ پہلوی کارسم الخط بہت ہی مشکل تھا۔ یہ دائیں سے بائیں کو لکھا جا تا تھا ۔ اس میںحروف کی تعداد۲۵ تھی ۔ بعض حروف کئی کئی آوازوں کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ اس لیے اس کا لکھنا اور پڑھنا دونوں بہت مشکل تھے ۔ ایران میں عربوں کی حکومت کے بعد پہلوی خط آہستہ آہستہ متروک ہو گیا۔اس کی جگہ عربی خط نے لی جو پہلوی خط کے مقابلے میں بہت آسان تھا۔‘‘(۴۰)
تاریخی پس منظر میں دیکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ایران اور برصغیر کے سماجی ، معاشرتی اور تہذیبی تعلقات بہت پرانے اور دور کی بات ہے۔ یہاں تک کہ آریاؤں کے تمدن اور ان کی حکومت سے بھی پہلے یہ تعلقات اور روابط قائم رہے ہیں۔ بقول محمد کیو مرثی :
’’وادیٔ سندھ یا سندھ اور موہن جو دڑو میں جو آثار و شواہد پائے جاتے ہیں وہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان دونوں قوموں کے درمیان پہلے ہی سے بہت مشابہتیں موجود ہیں۔ ایران اور وادیٔ سندھ یا موجودہ پاکستان کے مشترکہ تعلقات خاص طور پر سیاسی ، تہذیبی سطح پر یہ روابط ماقبل تاریخ کے دور تک پہنچ جاتے ہیں۔ تاریخ بھی اس بات پر شاہد ہے کہ پیشتر ادیان اور ہخا منشیا ں جو ایران کی پہلی حکومتوں کی حیثیت سے ظاہر ہوگئیں تو اسی زمانے سے ان دونوں ممالک میں آنا جا نا اور آمد و شد شروع ہوگیا۔‘‘(۴۱)
اس سلسلے میں ڈاکٹر محمد صدیق شبلی یوں رقمطراز ہیں:
’’برصغیر میں فارسی مسلمان فاتحین کے ساتھ آئی۔ ان کی فتوحات کا سلسلہ ۹۳ھ میں محمد بن قاسم کی فتح سندھ سے شروع ہوتا ہے۔ لشکر کشی سے پہلے محمد بن قاسم چھ ماہ تک ایران کے شہر شیر از میں مقیم رہا اور وہاں لشکر تیار کرتا رہا۔ بعض کا خیال ہے کہ محمد بن قاسم کے لشکر میں ایرانی سپاہی بھی موجود تھے۔ شمس العلماء مولوی محمد ذکا ء اللہ دہلوی نے یہاں تک لکھا ہے کہ سندھ کی فتح کو عربوں کی فتوحات میں شمار کرنا درست نہیں ہے۔ ایک عرب اس لشکر کا
سپہ سالار ضرور تھا لیکن اس لشکر میں ایرانی بھی شامل تھے ۔ ایرانیوں کے ساتھ ان کی زبان بھی سندھ میں پہنچی ۔ سندھ میں ایرانی تمدن کے اثرات محمد بن قاسم کی لشکر کشی سے بہت پہلے پہنچ چکے تھے۔ عرب مؤرخین او ر جغرافیہ دانوں نے دریائے سندھ کا نام مہران لکھا ہے اور یہ خالص ایرانی نام ہے۔ اسی طرح برہمن آباد نام کا ایک شہر سندھ میں موجود ہے ۔ اس شہر کے نام کے ساتھ آباد کا لاحقہ اس کے ایرانی اصل ہونے کی دلیل ہے۔ دراصل ایران اور سندھ کے درمیان صدیوں سے سیاسی اور تجارتی تعلقات قائم چلے آرہے ہیں۔ سندھ ایرانی مقبوضات میں بھی شامل رہا۔ ایرانی بادشاہ بہمن ارد شیرنے اپنے نام پر تین شہر آباد کیے تھے ان میں سے ایک بہمن آباد سندھ میں تھا۔ یہی شہر سندھ میں برہمنوں کے عہد حکومت میں برہمن آباد ہوگیا۔ سندھ میں عربوں کے ساتھ ساتھ کچھ ایرانی خاندان بھی سکونت پذیر رہے ہیں۔‘‘(۴۲)
وہ مزید لکھتے ہیں:
’’تیسری صدی ہجری کے آغاز میں عباسی خلیفہ معتمد باللہ (۲۵۶۔۲۷۹ھ)نے اپنے ایک امیر یعقوب بن لیث صفاری کو سندھ کی حکومت عطا کی۔ اس کے بعد اس کا بھائی عمروبن لیث سندھ کا حاکم بنا ۔ دونوں کے ساتھ ایرانی فوج اور عامل سندھ آئے۔۳۷۲ھ میں سندھ میں ایک اسماعیلی حکومت قائم ہوگئی۔ ان واقعات سے سندھ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ عرب سیاحوں اور جغرافیہ نویسوں نے سندھ اور اس کے نواح میں مروج زبانوں کے بارے میں اپنی کتابوں میں مفید معلومات تحریر کی ہیں۔‘‘(۴۳)
پھر آگے لکھتے ہیں :
’’فارسی ملتان اور مکران میں رواج پا چکی تھی ۔ مکران کی سرحد ، ایران سے ملتی ہے اس لیے اس کا ایران کے اثر میں ہونا قدرتی بات ہے۔ ملتان ایران کی سرحد سے تودور تھا مگر یہ بہت تجارتی مرکز تھا اور ایران سے آنے والے تجارتی قافلوں کی گزرگاہ پر واقع تھا ۔ اس لیے یہاں فارسی سمجھی جاتی تھی اگرچہ سندھ کا علاقہ ایک مدت سے سیاسی و ثقافتی طور ایران کے زیر اثر رہا لیکن عرب سیاحوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصورہ اور دیبل کی زبان عربی اور سندھی تھی ۔ پاکستان کے معروف محقق پیر حسام الدین راشدی نے ان بیانات کی صحت سے انکار کیا ہے۔ ان کے خیال میں جب فارسی ملتان اور مکران میں سمجھی جاتی تھی اور لوگ اس میں گفتگو کرتے تھے تو سندھ فارسی سے محروم کس طرح رہ سکتا تھا۔ جبکہ منصورہ اور دیبل وغیرہ بہت بڑے تجارتی مرکز تھے ۔ ان دلائل سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ فارسی برصغیر میں سب سے پہلے سندھ میں آئی۔ چونکہ مسلم فتوحات کا سلسلہ ایک مدت تک سندھ تک محدود رہا اس لیے فارسی سندھ سے دوسرے علاقوں میں منتقل نہ ہوسکی۔برصغیر میں فارسی کی اشاعت کا اصل کارنامہ غزنویوں (۲۸۶۔۵۸۲ھ) اور سلاطین دہلی(۵۸۲۔۹۳۳ھ)نے انجام دیا۔ ان سب نے فارسی کی ترویج میں گہری دلچسپی لی۔‘‘(۴۴)
ایران اور سندھ کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر نواز علی شوق بیان کرتے ہیں کہ:
’’سندھ اور ایران کے درمیان قبل از تاریخ گہرے روابط کے آثار پائے جاتے ہیں ۔ تاریخی کھنڈرات سے کشف شدہ چیزیں ، سماجی اور تجارتی تعلقات کا پتہ دیتی ہیں۔ قدیم سلطنت بہمن آباد ، ساسانی ساخت کا رنی کوٹ دیوار چین کا چھوٹا سا نمونہ ہے یا خود میرے تاریخی قصبہ بہمن کے نام سے اس بات کی شہادت آج بھی موجود ہے کہ ہمارے سیاسی روابط کے نقوش قدیم زمانہ ہی سے کس قدر گہرے ہیں ۔‘‘(۴۵)
ڈاکٹر صاحب آگے سید حسام الدین شاہ راشدی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
’’اسلام کے بعد ایران اور سندھ کے باہمی روابط اتنے گہرے اور اس طرح مرتب رہے ہیں کہ چودہ سو برس میں کبھی یہ سلسلہ ٹو ٹنے نہیں پایا۔ سیاسی پہلو ہو یا ثقافتی، فرہنگی ہو یا فنی بہر حال کسی نہ کسی روپ او ر ڈھنگ میں یہ روابط ہر دور اور ہر سمے میں قائم اور مستحکم رہے ہیں۔‘‘(۴۶)
مسلمانوں کی بدولت فارسی تقریباً آٹھ سو سال تک بر صغیر کی سرکاری علمی، تہذیبی اور عربی کے بعد دینی زبان بھی رہی۔ دفتروں میں یہ رائج تھی۔ مدرسوں میں پڑھائی جاتی تھی ۔ علمی حلقوں میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ لوگ فخر سے فارسی بولتے تھے ۔ دراصل بر صغیر میں آنے والے مسلمان فاتحین ایک مختلف تہذیبی و ثقافتی پس منظر سے آئے تھے۔ وہ اپنے ساتھ بہت سی ایسی اشیاء اور تصورات لائے جو یہاں پہلے سے موجود نہیں تھے۔جہاں یہ اشیاء اور تصورات عام ہوئے ان کے ساتھ ساتھ ان کے فارسی نام بھی ترجیحاً رائج ہوگئے۔ برصغیر میں فارسی کی ترویج سے یہاں کی تمام زبانیں اور بولیاں متاثر ہوئیں ۔ ان زبانوں میں شاید ہی کوئی زبان ایسی ہو جس نے فارسی سے اثر نہ لیا ہو ۔ بقول میمن عبدالمجید:
’’پاکستان کے مغرب میں ایران ہے قدیم زمانے سے اس ملک سے بھی ہمارے روابط رہے ہیں۔ بہت سے آریائی قبائل ایران سے وادیٔ سندھ میں وارد ہوئے۔ بعد میں بھی ایران سے تعلقات قائم رہے۔ ایران کے حکمران سندھ اور پنجاب پر حملہ آور بھی ہوتے رہے اور وادیٔ سندھ کے علاقو ں پر بعض اوقات قابض بھی ہوئے۔ ان تعلقات کی بناء پر ایرانی تمدن اور زبان کے اثرات ان علاقوں میں کافی وقعت اختیار کر گئے۔ یہی وجہ ہے کہ وادیٔ سندھ کی تمام زبانوں اردو، پنجابی ، سندھی، سرائیکی ، پشتو، بلوچی وغیرہ پر فارسی زبان کا یکساں اثر پڑا ۔ بے شمار فارسی الفاظ ان زبانوں میں اصلی صورت یا تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ رائج ہوئے۔‘‘ (۴۷)
سندھی زبان پر فارسی کے اثرات کی چند مثالیں ذیل میں پیش کی جاتی ہیں۔
مذہب سے متعلق الفاظ
خدا، پیغمبر،رسول،نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ، ایمان، کفر، مسجد۔
متعلقات حرب
توپ، بندوق،تفنگ،تیر،پسپا، یلغار،اردو(لشکر)، آل تمغا (تمغو)، سپاہی، سپاہ،فوج،سپہ سالار، جمعدار، منصب دار۔
کھانے
قلیہ(قليو)، قورمہ(قورمو)، قیمہ(قيمو)، کوفتہ(ڪوفتو)، پلاؤ(پلاءُ)، بریانی(، مزعفر، زردہ(زردو)، شوربا(شوربو)، نان، یخنی، کباب، سموسہ(سموسو)، کچک، (گزک)، طاہری، قبولی،حلوہ(حلوو)،مربا (مربو)۔
ظروف
دیگ،دیگچہ،کفگیر،طشت،کشتی، قرابہ،بادیہ،شقاب،یسنی،قاب،آفتابہ وغیرہ
لباس
پاجامہ(پاجامو)، شلوار،قمیض، پیراہن(پهراڻ)، جبہ(جُبو)، چوغا (چوغو)، رومال، کرتہ(ڪرتو)، جیب، گریبان، شال، دوشالہ، برقعہ(برقعو)، صدری، لحاف۔
سواری اور اس کے متعلقات
زین، لگام، رکاب، مہمیز، تنگ، زیربند، فراک، پویہ، نعل، سم، دریف، پائدان، کجاوہ، شتربان، محمل، مہار، عماری، چابک، ابلق، سائیس، سمندر، سبزہ، ملاح، کشتی، بادبان، لنگر، مستول۔
عمارت اور اس کے متعلقات
محل، قلعہ، بارہ دری، برج، مینار، گنبذ، محراب، روکار، شہ نشین، طاقچہ(طاق)، دیوار، فیل، پایہ(پايو)۔
سامان نوشت و خواند
قلم، دوات، قلمدان، قلمتراش، خط، کاغذ۔
رشتے
بیگ، بیگم، خان، خانم، آکا، آتون، خاتون، انگہ، باجی، خالہ، خسر۔
فرنیچر ومتعلقات
کرسی، میز، تخت، منبر، مسند، چادر، چارپائی(کٽ)، قالین۔
خوشبوومتعلقات
عطر،عطردان،مشک،عنبر،عود،عوددان۔
روشنی
چراغ،فتیلہ،فتیلہ سوز،فانوس،شمع،شمعدان۔
پیشے
زردوز، قصاب، درزی، حلوائی، آبدار، صیقل گر، آتش باز، باورچی، مشعلچی، ایلچی۔
سکہ وحساب
دام، اشرفی، مہر، ریزگاری، خوردہ، مبلغ، باقی، تحویل، برآمد، جمع، دستوری، دکان، صراف، صرافہ۔
شادی بیاہ کے متعلقات
جہیز،آرسی، نسبت،عقد،نکاح،شادی،وداع۔
تجہیزو تکفین
قبر،تعویذ،جنازہ،مزار،کفن،چہلم، قل۔
ساز
طبل، طنبورہ (طنبوره)، شادیانہ (شاديانو)، طاؤس، سرود، رباب، قرنا، قانون، شھنا(شہنائی)۔
اعضاء
دل،گردہ(گردو)،سینہ(سينو)،معدہ(معدو)،مغز،جگر۔(۴۸)
فارسی الفاظ کی بڑی تعداد اپنی اصل شکل یا تھوڑی سی تبدیلی سے سندھی زبان میں استعمال ہوتے ہیں ۔ ایسے کلمات و الفاظ کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ اسی طرح بعض ایسے مصادر اور افعال موجود ہیں جو ڈاریکٹ فارسی مصادر، افعال اور کلمات سے بنائے گئے ہیں اور ان کی جڑوں میں کافی مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔ ملاحظہ کیجئے چند مثالیں۔
فارسی ضرب الامثال
فارسی زبان کے اثرات کی وجہ سے نہ صرف فارسی الفاظ و مصادر کی بڑی تعداد سندھی زبان میں اصل صورت یا کچھ تبدیلی سے مستعمل ہیں بلکہ فارسی ضرب الامثال اور محاورات بھی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔جیسے
دیر آید درست آید
دشمن دانا بہ ازدوست نادان
ایک اناروصد بیمار
نیکی وپر سش
عقل رایک اچارہ بس باشد
نیم حکیم خطرہ جان، نیم ملا خطرہ ایمان
یار زندہ صحبت باقی
مال مفت دل بے رحم
آمدن بہ ارادت رفتن بہ اجازت
دیوار ہم گوش دارد
خود کر دہ اعلاجی نیست
قہر درویش بہ جان درویش
اول طعام بعد کلام
باادب بانصیب بے ادب بے نصیب
با مسلمان اللہ اللہ بابرہمن رام رام
زیارت بزرگان کفارہ گناہ
ہمت مردان مدد خدا
یک جان دو قالب۔(۴۹)
اس طرح کے بے شمار محاورات وضرب الامثال یکساں طور پر مستعمل ہیں ۔ فارسی نے نہ صرف روز مرّہ استعمال ہونے والے الفاظ و محاورات کو متاثر کیا ہے بلکہ ادبی لحاظ سے بھی اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ فارسی کے سایہ میں نشوونما پانے والی سندھی زبان نے نظم ونثر ، اُسلوب و مضمون ، بحروقافیہ اور شکل وہیئت ورثے میں پائی۔ ان دنوں میں جو شاعری پروان چڑھ رہی تھی اس پر فارسی کا رنگ غالب تھا اور یہ اثر اس حد تک عمیق اور وسیع ہے کہ اس دور کی شاعری فارسی شاعری کا پر تو نظر آتی ہے۔ تمام شعری اصناف مثلاً قصیدہ ، غزل، مثنوی، مرثیہ، رباعی،ترکیب بند، ترجیح بند ،مسمط،مستزاد،شہر آشوب وغیرہ فارسی سے ان کے ناموں اور ہیئتوں سمیت مستعارلیں ۔ان تمام اصناف میں سندھی شعراء نے فارسی اساتذہ کی پیروی کی۔یہ تقلید صرف ہیئت کی حد تک نہیں تھی بلکہ فارسی کے بعض مضامین و پیرایوں کو بھی اپنے اندر سمولیا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر عبدالجبار جونیجو کا پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ بعنوان ’’سندھی شاعری تے فارسی شاعری جو اثر‘‘ بنیادی کام ہے۔
ترکی زبان کے اثرات
عابدہ حنیف ترک قوم کے حوالے سے لکھتی ہے کہ:
’’ترک قوم کا نام چھٹی صدی عیسوی میں گوک ۔ ترک (Gok-Turk ) ریاستوں کے معرض وجود میں آنے سے سامنے آیا۔ یہ قوم چینیوں کے ہاں توکن اور باز نطینیون میں ترکوئی(Turkoi) کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔‘‘(۵۰)
آگے ترکی زبان کا تعارف عابدہ حنیف نے کچھ یوں بیان کیا ہے:
’’ترکی ایک قدیم زبان ہے اس کی تاریخ تقریباً دو ہزار سال پرانی ہے۔ لسانیاتی تقسیم کے لحاظ سے یہ مغربی ترکی کی شاخ ہے۔ جس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ آج تک ترکی زبان کے لیے تقریباً اٹھارہ رسم الخط استعمال ہوچکے ہیں۔ اسلام لانے کے بعد ترکوں نے عربی رسم الخط اختیار کیا۔ سلطان محمد ثانی کا ایک فرمان اور یغوری اور عربی رسم الخط میں موجود ہے۔ مصطفی اتاترک کی حکومت نے ترکیہ میں عربی رسم الخط کی بجائے لاطینی رسم الخط رائج کیا۔ ترکی آئین کے مطابق ترکی زبان سرکاری زبان کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔‘‘(۵۱)
وادیٔ سندھ اور ترک و تاتار
وادیٔ سندھ اور وسط ایشیاء کے ایک دوسرے کے پڑوس میں واقع ہونے کی بناء پر دونوں خطوں میں ازمنہ قدیم ہی سے گہرے ثقافتی تعلقات موجود رہے ہیں۔ وادیٔ سندھ بالکل وسط ایشیا کی دہلیز پر واقع ہے ۔ وسط ایشیا سے جو بھی لہر اٹھی وہ ان پانچ دریاؤ ں کی سر زمین تک ضرور پہنچی۔ سمر قند و بخارا کی وادیوں سے گڈریوں، جنگجوؤں ، مہم بازوں ، سیاحوں ، تاجروں، مبلغوں اور درویشوں کا ایک لامتناہی سلسلہ کوہِ ہمالیہ کے درون سے گزر کر وادیٔ سندھ کی زرخیز زمین میں وارد ہوتا رہا اور کچھ قیام کے بعد گنگا اور جمنا کی طرف رخ کرتا رہا۔پھر ایسا ہی ہواکہ واد یٔ سندھ کے نو آباد کار وسط ایشیا کی سر زمین میں جا نکلے اور وہاں بدھ مذہب کے جھنڈے گاڑ دیے اور ان زمینوں کو گندھارا آرٹ سے روشناس کرایا۔ ان ثقافتی تعلقات کے نتیجے میں دونوں خطوں کے لسانی عناصر کا ایک دوسرے سے گہرے طور پر متاثر ہونا لازمی امر تھا۔
اگر وادیٔ سندھ اور ترکی و تاتا ری قبائل کی آبائی سر زمین وسط ایشیا کے باہمی تعلقات کا انداز ہ لگانا ہو تو اس کی شروعات تاریخ کے دھند لکے دور میں پہنچ کر نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ لیکن پھر بھی آثار اتی مطالعہ، تاریخی شواہد اور تقابلی لسانی جائزے کی روشنی میں یہ امر ضرور پایہ ثبوت تک پہنچ جاتا ہے کہ آریاؤں کے ورود سے قبل ہڑپائی اور وسط ایشیا کی ہم عصر تہذیبوں کے درمیان گہرے ثقافتی مراسم موجود تھے۔ اس ضمن میں عین الحق فریدکوٹی روسی ماہرِ آثارِ قدیمہ وی ایم میسن (V.M.Masson ) کی تصنیف ’’روسی وسط ایشیا کا آثاراتی مطالعہ ‘‘کے حوالے سے یوں رقمطراز ہیں:
’’وسط ایشیا میں حالیہ کھدایوں کے دوران جو حقائق سامنے آئے ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنوبی ترکمانیہ کی چار ہزار تا دو ہزار سال قبل از مسیح کی مستقل زرعی نظام کی حامل تہذیب کا اپنی ہمعصر ایرانی، افغانی اور پاک و ہند تہذیبوں سے گہرا رشتہ تھا‘‘(۵۲)
ایک اور برطانوی ماہر آثارِ قدیمہ سٹیورٹ پگٹ(S.Piggott) کی تصنیف ’’قبل از تاریخ کا ہندوستان‘‘ کے حوالے سے فریدکوٹی لکھتے ہیں کہ:
’’روس ترکستان میں واقع’انو‘ اول اور ’انو‘ دوم (چار ہزار تا اڑھائی ہزار سال قبل از مسیح) کے مقامات سے دستیاب شدہ سیاہ نقوش والے سرخ برتن،سرخ اور کالے نقوش والے پیلے برتن اور نمایا ں طور پر نظر آنے والے زینہ نما نقوش کی ساخت والے پیلے برتن ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا حقیقی وطن بلوچستان ہے۔ کیونکہ وہ یہاں کے آثارات سے برآمد ہونے والے مٹی کے برتنوں سے پوری طرح مطابقت رکھتے ہیں۔‘‘(۵۳)
جہاں تک وادیٔ سندھ میں ترک قبائل کی آمد کا تعلق ہے اس کہانی کا پہلا باب بوہ چی قبائل کے ورود (پہلی صدی عیسوی) سے شروع ہو کر عہدِ غزنوی سے کچھ عرصہ قبل گندھارا کے علاقے میں ترکی شاہی خاندان کی حکومت کے خاتمے پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ دوسرا باب ترکان یا غمہ کے سپہ سالار امیر سبکتگین کے حملے سے شروع ہوتا ہے اور ایبک، قلیج(خلجی) اور تغلق خاندان سے ہوتا ہوا تیموری خاندان پر جا کر اختتام پذیر ہوتا ہے ۔ غرض یہ کہ ترکان امراء کے ساتھ تعلقات کی جو داستان پہلی صدی عیسوی سے شروع ہوئی تھی وہ عہدِ ظفر میں ختم ہوتی ہے۔ دو ہزار سال کے اس طویل مدت میں جہاں ایک طرف وادیٔ سندھ کی زبان نے ترکی اور تاتاری زبانوں کو مختلف طور پر متاثر کیا۔ وہاں تاتار اور ترک قبائل کی زبانوں نے وادیٔ سندھ کے لسانی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔بر صغیر میں ترکوں کی آمد کے حوالے سے میمن عبدالمجید سندھی بیان کرتے ہیں:
’’برصغیر میں ترکوں کی آمد کا سلسلہ سلطانی دور ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ وہ پاک و ہند میں آکر آباد ہو گئے تھے۔وادیٔ سندھ میں ترکی النسل لوگ آج بھی موجود ہیں لیکن ان میں اب ترکوں کی کوئی علامت باقی نہیں رہی۔ شکل و صورت اور لباس و رہائش میں ترکوں سے ان کی کوئی مناسبت باقی نہیں۔ تاہم انہیں ترکوں کے ابتدائی قافلوں کی وساطت سے براہِ راست چند ترکی الفاظ بھی وادیٔ سندھ کی زبانوں میں شامل ہوگئے۔‘‘(۵۴)
وادیٔ سندھ کی زبانوں میں ترکی الفاظ کی آمیزش کے حوالے سے عین الحق فرید کوٹی کا مؤقف کچھ یوں ہے:
’’ہر نئی آنے والی قوم اپنے مخصوص ملبوسات ،طعام ،ظروف ، اوزار، آلات حرب اور رشتوں ناطوں کے نام اپنے ساتھ لے کر آتی ہے۔ نئی سر زمین ان اجنبی چیزوں کے نام بعض دفعہ جوں کے توں اپنی اصل صورت میں اور بعض دفعہ تبدیل شدہ صورت میں اپنے اندر جذب کرلیتی ہے ۔ یہی کچھ ترکوں کے وادیٔ سندھ میں ورود کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوا۔ آج کتنے ہی ترکی الفاظ ہماری روز مرہ کی زبان میں مروج ہیں۔‘‘(۵۵)
ایک اندازے کے مطابق ترکی اور پاکستان کے اندر بولی جانے والی زبانوں میں۳۵۰۰ کے لگ بھگ الفاظ مشترک ہیں۔ یہ الفاظ اردو ، سندھی اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں بولی جانے والی زبانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ بر صغیر پاک و ہند میں مختلف کھانے ، مثلاً پلاؤ،شوربہ، سلاد، جاجی اور باورچی خانے میں استعمال ہونے والی اشیاء مثلاً روز مرہ استعمال کے الفاظ یعنی قلم ، کتاب ، مشعل ،مشغول وغیرہ کا مشترک ہونا اس بات کا کھلاثبوت ہیں کہ ترکی اور ہماری زبانیں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ ترکی زبان کالاحقہ’’چی‘‘سندھی زبان میں عام استعمال میں ہوتا ہے۔ جیسے صندوقچی،باورچی، ڈھنڈورچی وغیرہ…تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ محاورات اور ضرب الامثال بھی کافی حد تک ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ذیل میں ملاحظہ کیجئے وہ الفاظ جو سندھی زبان میں ترکی زبان کے اثرات کی وجہ سے مستعمل ہیں:
آلات حرب: توپ،بندوق،تفنگ،چاقو
جنگی اصطلاحات: یلغار،یورش،یرغمال،ہراول،بکاول،تمغہ
آلات اور ظروف: قینچی،تسمہ،طشت،قاب،چمچی،چلمچی
معاشرتی القابات: آغا،آقا،بیگ،بیگم،خان،خانم،خاتون،باجی،آنا،بی بی، انگہ، اتالیق
کھانوں کے نام: قورمہ،قیمہ،دولمہ
متفرقات: قاش،قالین،غالیچہ،چوغہ،چق،ایلچی،قزاق،خچروغیرہ۔(۵۶)
کچھ ضرب الامثال جو حرف بہ حرف ایک ہیں:
ضرب الامثال
ظالم کی عمر کوتاہ ہوتی ہے ظالم جي عمر ڪوتاه ٿئي ٿي
Zalimin omru as olur
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ٻڌندڙ کي ڪک جو سهارو
Denize dusen yilana sarln
چادر دیکھ کر پاؤ ں پھیلاؤ چادر ڏسي پير ڊگهيريو
ayagm yorgana gore uzat
بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جاتی ہے وڏي مڇي ننڍي مڇي کي ڳڙڪائي ٿي
buyuk balik kucuk baligayutan
جھو ٹ کی ناؤ نہیں چلتی ڪوڙ جي ٻيڙي ٻڏي ٿي
yalancinin gemisi yurumez
آج کا کام کل پر مت چھوڑو اڄ جو ڪم سڀاڻي تي نه ڇڏيو
Bugunku isini yarina birkma
باتوں سے پیٹ نہیں بھرتا ڳالهين مان پيٽ نه ٿو ڀرجي
Lafla karin doymaz
بات پر بات یاد آتی ہے ڳالهه سان ڳالهه ياد اچي ٿي(۵۷)
lakirdi lakrdiy acar
نوٹ: یہاں سندھی جملے راقم کے دیئے ہوئے ہیں۔
یونانی زبان کے اثرات
سکندر اعظم نے وادیٔ سندھ میں مختصر سے قیام (۳۲۶ ق م) کے دوران یہاں چند ایک نئی چھاؤنیوں کی بنیاد رکھی جہاں یونانی سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد کو آباد کردیا ۔ اس کے ساتھ اپنے مقرر کردہ صوبہ داروں کی معیت میں یونانی حفاظتی دستے تعینات کیے۔ لازماً یہ یونانی آپس میں اپنی مادری زبان ہی میں بات چیت کرتے ہوں گے لیکن جہاں تک مقامی آبادی سے راہ و رسم کا تعلق ہے اس کے لیے انہیں ماسوائے اشارو ں اور کنایوں کے کسی حد تک مقامی زبان سیکھنی پڑی ہوگی۔ نیز وہ طبقہ جن کا شب و روز یونانیوں سے واسطہ پڑتا ہوگا کئی ایک یونانی الفاظ سے بھی واقف ہوگیا ہوگا ۔ لیکن سکندر کی آنکھیں بند ہوتے ہی وادیٔ سندھ میں یونانی بالادستی ختم ہوگئی اور چندر گپت موریہ نے ایک نئی حکومت کی بنیاد ڈالی۔ اس طرح اس وقت یونانی زبان بھی سیاسی طور پر قریب قریب ختم ہوگئی ۔ اس لئے اس دور کو لسانیاتی لحاظ سے کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاسکتی۔
قدیم زمانے میں یونانی اور مقامی زبانوں کے استعمال کے حوالے سے عین الحق فریدکوٹی لکھتے ہیں کہ:
’’۱۹۵ق م میں دیمترئیس (Demetrius)کے حملے سے لے کر ۵۰ء میں ہرمیئوس (Hermios) کی حکومت کے خاتمے یعنی اڑھائی سو سال کے عرصے تک یونانیوں کی سیاسی بالادستی کے ساتھ ساتھ یونانی زبان کو بھی حکمرانوں کی زبان ہونے کی حیثیت حاصل رہی۔ہندیونانی عہد میں درباری اور سرکاری کاروبار کے لیے یونان اور مقامی دونوں زبانیں مستعمل تھیں جس کا اندازہ اس عہد کے سکوں کی تحریروں سے لگایا جا سکتا ہے جن کے ایک طرف یونانی زبان یونانی حروف ابجد میں اور دوسری طرف مقامی زبان خروشتی رسم الخط میں کندہ ہے۔‘‘(۵۸)
یونانی زبان کی داستان ہندیونانی شہزادوں کی حکومت کے ساتھ ہی ختم نہیں ہو جاتی ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس عہد میں یا تو یہ زبان عوام میں اتنی زیادہ مقبول ہوچکی تھی کہ آنے والے حکمران بھی اسے ختم نہ کر سکے یا پھر اس نے سرکاری کاروبار پر اتنا گہرا تسلط جمالیا تھا کہ بعد میں اسے قائم رکھے بغیر کوئی اور چارہ کار نظر نہ آیا۔کشن عہد ۱۴۰تا ۳۶۰ء میں سکوں پر خروشتی اور براہمی کے ساتھ ساتھ یونانی تحریر بھی استعمال ہوتی رہی۔ سابق شمال مغربی سرحدی صوبے کے دور دراز علاقوں سے بعض ایسے قیمتی پتھروں کے نمونے دستیاب ہوئے ہیں جن پر یونانی دیو مالا کے کردار منقش ہیں اور ان پر یونانی عبارت کندہ ہے۔ اسی طرح ایسی پتھر کی لوحیں بھی دستیاب ہوئی ہیں جن پر یونانی عبارت مرقوم ہے۔ یہ لوحیں پشاور اور لاہور کے عجائب گھروں میں محفوظ ہیں ۔ ختن اور چینی ترکستان کی کھدائیوں کے دوران جو اشیاء دستیاب ہوئی ہیں ان میں علاوہ سنسکرت خروشتی اور براہمی زبان کی تحریروں کے یونانی زبان کی تحریریں بھی شامل ہیں۔ عین الحق فرید کوٹی یونانی زبان کی تحریروں کے متعلق محققین کی آراء کو یوں بیان کرتے ہیں:
’’محققین کی رائے ہے کہ یہ تحریریں گپتا خاندان کے عہد سے تعلق رکھتی ہیں۔ یقیناوادیٔ سندھ کے نو آباد کارنقل مکانی کرتے وقت یہ زبانیں اور رسم الخط اپنے ساتھ لیتے گئے ہوں گے۔روسی ماہرین کی ایک رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں آج بھی ایسے قبائل آباد ہیں جو کہ وادیٔ سندھ کی موجودہ زبانوں سے ملتی جلتی زبان استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح وادیٔ سندھ میں یونانی زبان کا دور پانچ ساڑھے پانچ سو سال کے طویل عرصے تک جا پہنچتا ہے۔ کیا یہ ممکنات میں سے ہے کہ اس طویل عرصے میں یونانی زبان نے مقامی زبانوں کو بالکل متاثر نہ کیا ہو؟ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ دودھارے ایک ہی راستے پر چلیں اور آپس میں نہ ملیں ۔ دو تہذیبیں ایک ہی سر زمین میں پرورش پائیں اور ایک دوسرے سے متاثر نہ ہوں؟ یقینا اس عہد میں کتنے ہی یونانی الفاظ یہاں کی روز مرہ کی زبان میں شامل ہوگئے ہوں گے۔ ان میں سے کچھ تو مرور زمانہ کے ساتھ زبان سے متروک ہوگئے ۔ پھر بھی کچھ الفاظ ضرور ایسے ہوں گے جو ہماری زبان کا ایک حصہ بن گئے۔ آج ان کی شکل کچھ ایسی بدل چکی ہے کہ گھس پـٹ کر ہماری زبان میں اس طرح ڈھل چکے ہیں کہ ان کا پہچاننا مشکل ہے۔ اب ان پر غیریت کا گمان نہیں ہوتا ۔ پھر بھی اگر کوشش کی جائے تو ان الفاظ کی پہچان کر نا ناممکنات میں سے نہیں۔‘‘ (۵۹)
عین الحق فرید کوٹی کے مطابق وادیٔ سندھ کی زبانوں میں چار قسم کے یونانی اصل الفاظ پائے جاتے ہیں۔
’’اول: وہ الفاظ جو آریائی زبانوں کا مشترکہ سرمایہ ہونے کی حیثیت سے سنسکرت اور یونانی دونوں میں مشترکہ طور پر پائے جاتے ہیں ۔ اگر چہ مقامی زبانوں میں یہ یونانی سے نہیں بلکہ سنسکرت سے آئے ہیں ۔ دوسرے وہ الفاظ جو عربی اور فارسی کی راہ سے وادیٔ سندھ میں وارد ہوئے ۔ تیسری: قسم کے وہ یونانی الفاظ ہیں جو مغربی زبانوں خاص کر انگریزی کے ذریعے ہماری زبان میں داخل ہوئے۔ چوتھے: وہ الفاظ ہیں جو ہند یونانی عہد یا اس کے بعد براہ راست یونانی زبان سے منتقل ہو کر ہماری زبان کا ایک حصہ بن گئے۔‘‘(۶۰)
یونانی الفاظ قافلہ، افرنگ کے ہمراہ
مغربی اقوام کے ذریعے جو الفاظ ہماری زبانوں میں وارد ہوئے اس سلسلے میں عین الحق فریدکوٹی لکھتے ہیں :
’’سب سے پہلے ہم ان الفاظ کا ذکر کرتے ہیں جو مغربی اقوام کے ذریعے ہماری زبان میں آئے۔ سائنس ، انجینئرنگ او ر میڈیکل کی اصطلاحات تو زیادہ تر یونانی الفاظ ہی پر مشتمل ہیں اگر ان کو یکجا کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوسکتی ہے۔ یہاں مشتے از خروارے کے مصداق صرف چند ایک الفاظ قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتے ہیں۔ جیسے کہ: ’’اسکول، اکادمی، کیمرہ، ڈراما، تھیٹر، کلرک، گرامو فون، فوٹو گراف، ٹیلیگراف، کارڈ، کلینڈر، گرامر، جغرافیہ، جیومیٹری، پتلون، پالیسی، ٹیموکریسی، پروگرام اور ایٹم وغیرہ۔‘‘ (۶۱)
عرب و یونان کے تعلقات
عربوں اور یونانیوں کے تعلقات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے فرید کوٹی لکھتے ہیں :
’’عربوں اور یونانیوں کے تعلقات کا تذکرہ بذات خود ایک طویل داستان ہے۔ عرب اور یونان جغرافیائی لحاظ سے ایک حد تک پڑوسیوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں عرب اسی شاہراہ پر آباد تھے جہاں سے یونانی جہازران شب و روز گزر تے تھے بدھ مذہب کی کتاب ’’مسائل‘‘ میں منینڈرکے عہد(۱۵۵ تا۱۴۰ق م ) میں یونانیوں کے ساتھ ساتھ عرب جہاز رانوں اور تاجروں کا وادیٔ سندھ کے شہروں میں موجود ہونا مذکور ہے۔ اس کی تائید پہلی صدی عیسوی کے مشہور بحری سفرنامہ بحرہ قلزم کی سیر (Periplus)سے بھی ہوتی ہے جس میں کئی جگہ تجارت پیشہ اور جہاز ران عربوں کا ذکر آتا ہے۔
حضورﷺ کی ولادت کے وقت حضو رﷺ کے ماموں تجارت کی غرض سے ملک چین گئے ہوئے تھے۔ جہاں اس وقت عرب تاجروں کی ایک چھوٹی سی بستی موجود تھی۔ چین میں سب سے پہلی مسجد کا نٹن میں ۶۲۷ء میں یعنی حضورﷺ کی وفات سے پانچ سال قبل تعمیر ہوئی تھی۔ بلکہ ایک تاریخ دان نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ: ’’چند عرب جہاز ۳۰۰ء میں کانٹن اور ہانگ چاؤ کی بندرگاہوں پر پہنچے ‘‘۔ جنوبی ہند میں بھی زمانہ قدیم سے عربوں کی
آمد و رفت کا پتہ چلتا ہے۔خاص کر وہاں پہلی صدی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری سینیٹ ٹامس کی آمد اور وہاں پر شامی عیسائیوں اور یہودیوں کا ازمنہ قدیم ہی سے موجود ہونا اس امر کا بین ثبوت ہے۔ حضور ﷺ کے زمانے میں بھی عرب قافلے تجارت کی غرض سے ملک شام کا سفر کرتے تھے۔خود حضور ﷺ بھی بعثت سے قبل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مال لے کر ان قافلوں کے ہمراہ تجارت کی غرض سے جاتے تھے۔ اگر چہ ان دنوں شام اور اس سے ملحقہ علاقے رومن سلطنت میں شامل تھے تاہم وہاں کی فضا یونانی تہذیب وتمدن اِن میں رچی بسی تھی۔ ان حالات میں بعض یونانی اور لاطینی الفاظ کا عربی زبان میں شامل ہوجانا بعید از قیاس نہیں۔ نیز اپنے عروج کے زمانے میں جب عرب دانشور یونانی علم و حکمت کی کتابوں کا ترجمہ کر رہے تھے تو انہوں نے بعض یونانی الفاظ کو جوں کا توں اپنی اصل شکل میں رہنے دیا۔‘‘(۶۲)
ذیل میں ایسے یونانی الاصل الفاظ کی مختصر سی فہرست دی جاتی ہے جو کہ عربی کے ذریعے اردو اور پنجابی (سندھی) میں داخل ہوئے۔
عربی یونانی یونانی الفاظ کے معنی سندھی
قانون کانانوس (Kananos)قانون ،چھڑی قانون
دفتر دیفتھیر ا Diphthera باریک کاغذ یا جھلی جوکہ دفتر
زمانہ قدیم میں لکھنے کے کام آتی تھی
درہم درہم Drachma ایک یونانی سکہ اوروزن کا نام درهم
قیراط کیراتیئن Keration ایک وزن(تقریباً دس رتی کے قریب) قيراط
قرن خرانوس Khronosزمانہ زمانو
اجنب زینو Zenos غریب الوطن،اجنبی اجنبي
صوفی سوفوس Sophos دانشور،عقلمند(کہہ نہیں سکتے کہ آیا صوفي
یہ لفظ عربی کے ذریعے آیایافارسی کے)
شاب ہیب Hebe جوان جوان
سیف زیفوس Xiphos تلوار تلوار
زرع اگروس Agros کھیت(’گ‘کا ’ز‘یا’ج زراعت
سے تبادل عام ہے)
بلغم پھلگم Phlegam بلغم بلغم
ذمی دیموس Demos عوام الناس نے والا ذميدار
الکیمیا خیمیا Chemeia کیمیا ڪيميا
الاکسیر کسیران Xeron سفوف،دوائی اڪسير- دوا
تریاق تھریاک Theriake سانپ اور دوسرے زہریلے ترياق
جانوروں کے کاٹے کی دوائی
قولنج کالیکوس Kolikos بڑی آنت کا دردیونانی کالون قولنج
Kolon بمعنی بڑی آنت سے مشتق
آبنوس ایبنوس Ebenos ایک قسم کی سخت لکڑی آبنوس
اسطرلاب اسٹرولابن Astrolabon اجرام فلکی کے ارتقا وغیرہ
معلوم کرنے کا آلہ
زنار زوناریون Zonarion یہودیوں اور مشرقی عیسائیوں زنار
کے گلے میں پہننے کی مالا
طلسم تلسمأ Telesmos جادو طلسم
کلیسہ اکلیسیا Ekklesia اکٹھے ہونے کی جگہ،گرجا ڪليسا
تابوت تافوس Tophos مقبرہ تابوت
کفن کوفینوس Kophinos مردے رکھنے کے لیے ڪفن
صندوق یا ٹوکرا
نوٹ:۔ یہاں سندھی الفاظ راقم نے درج کیے ہیں۔
ایران اور یونان
ایران اور یونان کے تعلقات اور فارسی اور یونانی زبانوں کے لسانی اثرات و روابط پر بحث کرتے ہوئے عین الحق فرید کوٹی لکھتے ہیں:
’’اگرچہ لسانی لحاظ سے ایرانی اور یونانی آریائی گروہ کی دو بڑی شاخیں ہیں اور جغرافیائی لحاظ سے بھی ایران اور یونان ایک دوسرے کے پڑوس میں واقع ہیں لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ یہ دونوں بھائی ہمیشہ آپس میں برسر پیکار رہے۔ ان کی باہمی چپقلش تاریخ عالم کا ایک اہم باب ہے۔سکندریونانی کے حملے کے بعد خانوادۂ سیلوکس کو ایک عرصے تک سرزمینِ ایران پر بالادستی حاصل رہی۔ اُس سے جہاں زندگی کے دیگر شعبے متاثر ہوئے وہاں زبان کے معاملے میں بھی باہمی لین دین کا ثبوت ملتا ہے ۔‘‘(۶۳)
ذیل میں فارسی اور یونانی الفاظ کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
فارسی یونانی یونانی الفاظ کے معنی سندھی
ناؤ ناؤسNavos کشتی نائو- ٻيڙي
موسیقی موسیکاسMoushikos موسیقی موسيقي
ققنس ککنوسKyknos ہنس هنس/ هنج
زمرد زمردوسSmargdos ایک قیمتی پتھر زمرد
فانوس پھانوسPhanos چراغ،چمکدار فانوس
کلید کلیدوسKleidos چابی ڪليد/چاٻي
خربزہ کرپوش Karpos پھل گدرو/خربوزو
نوٹ:۔ سندھی الفاظ راقم نے درج کیے ہیں۔
ہند آریائی
یونانی اور سنسکرت زبانوں کے رشتے اور باہمی اثرات کو عین الحق فرید کوٹی یوں بیان کرتے ہیں:
’’یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ یونانی اور سنسکرت دونوں ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔ گویہ قصہ ابھی تک زیر بحث ہی ہے کہ آیا ان کی اصل وسط ایشیا ہے یا مرکزی یورپ یا ان کا آبائی وطن بحر منجمد شمالی تھا یا مشرقی یورپ ۔ بہرحال یہ قبیلہ شروع میں کسی ایک ہی چراگاہ میں آباد تھا ۔ وہاں اچانک کسی وجہ سے سب نے جلاوطن ہونے کی ٹھان لی یا پھر کسی دوسرے طاقتور قبیلے نے ان کے آبائی وطن پر قبضہ کر کے انہیں باہر دھکیل دیا۔ اس پر انھوں نے اپنی اپنی بھیڑ، بکریاں اور گھوڑے سنبھالے اور جس طرف منہ اُٹھایا، چل دیے۔ نئے دیشوں کے نئے ماحول سے لب ولہجے میں تبدیلی آگئی۔ مقامی لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے سے زبان بھی بدل گئی۔ گو آج ہزاروں سال بیت چکے ہیں لیکن پھر بھی اگر ان زبانوں کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو آج بھی ان میں بنیادی مشابہت اور مطابقت واضح طور پر سامنے آ جاتی ہے۔ ‘‘(۶۴)
یونانی اور سنسکرت زبانوں کے چند مشترکہ الفاظ بطور نمونہ :
سنسکرت یونانی فارسی معنی سندھی
ستھان ختھانChithon ستان ستان آستان
گرام کومیKome گام گاؤں ڳوٺ
دوار تھیرا Thyra در در در
مندر ماندراMandra … مندر مندر
اکشی اوسےOsse … آنکھ اک
بھرو اوفرسOphrys ابرو ابرو آبرو
باہو پازوPazus بازو ٻانهن
واک ایپاسEpos آواز آواز آواز
ہنس خینKhin … ہنس هنس
مھیش بشانBishon … بھینسا مينهن
اشو ھیپوس Hippos اسپ … اسپ
بھومی گی Ge زمین زمین ڀون
وسنت ھارHar بہار بہار وسنت، بهار
پوروا بوریاBoreas … پردا پردو
پتی پوتیسPotes زند پتی پتي، ور
دیو تھیوسTheos دیو دیو ديو
راجن ریجنRegien رئیس راجہ راجا
پلیتا پولیوسPolios … پیلا پيلو
… مزدوس Mizdos مزد مزدوری مزدوري
امرت ایمبروسیاAmbrosia… آب حیات امرت
سنوشہ نووسNous … بہو نُنهَن
تری ترئیسTreis … تین ٽي، ٽري
سپت ھپتHeptha ہفت سات ست
داشا ڈیکاDeka دہ دس ڏهه
ببھرو پھرونوPhrunos … بھورا ڀورو
نوٹ:۔ سندھی الفاظ راقم نے درج کیے ہیں ۔
یورپی زبانوں کے اثرات
سنہ ۱۴۰۰ ئ۔ ۱۵۰۰ ء میں پرتگالی ،ڈچ اور فرانسیسی اور اس کے بعد انگریز وادیٔ سندھ میں بغرض تجارت وارد ہوئے۔اس ضمن میں بھیرومل مہر چند ’’سندھی بولی جی تاریخ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ :
’’پندرہویں سو لھویں صدی میں پرتگیزی، فرینچ،ڈچ اور انگریز تجارت کی غرض سے ہندوستان میں آکر کوٹھیاں قائم کیں تو بہت سے الفاظ سندھی اور دیگر دیسی زبانوں میں مروج ہوگئے۔‘‘(۶۵)
وہ مزید لکھتے ہیں:
’’حیرت کی بات ہے کہ ’’روٹی ‘‘ اور ’’مانی‘‘ الفاظ بھی ہمیں پر تگیزوں نے سکھائے ہیں۔ سنسکرت لفظ ’’پرشٹ‘‘ معنی پکی ہوئی اس لفظ کا تلفظ پرتگیزوں نے بگاڑ کر ’’پاروٹی‘‘ یعنی ’’پکی روٹی‘‘ ہم نے ’’پا ‘‘ کو حذف کر دیا باقی صرف ’’ روٹی‘‘ رہ گیا۔ ’’مانی“Manna لفظ اصل بنی اسرائیل (یہودیوں) کا ہے وہ بھی پرتگیزوں نے ہمارے یہاں استعمال کیا۔ پیسہ،(سندھی ۔پیسؤ) لفظ بھی پرتگیزوں نے ہمارے یہاں استعمال کیا جو اصل میں اسپین (Spain)کا Pess ہے۔‘‘(۶۶)
انگریزوں کی آمد سے پہلے پرتگالیوں نے برصغیر کا رخ کیا۔ ۱۴۹۸ء میں واسکوڈی گاما کے برصغیر کے مغربی ساحل پر پہنچنے کے ساتھ بر صغیر اور یورپ کے درمیان براہ راست تعلقات کی ابتدا ہوئی اور پھر پرتگالیوں نے تجارت کا پروگرام بنایا۔ اس طرح پرتگال سے سمندری جہاز یہاں آنے لگے۔ یہ لوگ یہاں سے ادرک ،سیاہ مرچ،مصالحہ،چمڑا،کپڑا وغیرہ لے کر یورپ کی منڈیوں کی طرف جاتے۔ واسکوڈی گاما کے بعد پیدروالوں ارس کیبرل یہاں آیا۔ اس کے بعد الفالشوری البو کر ک نے مغربی ساحل کے کئی مقامات پر قبضہ کرلیا اور ۱۵۱۰ء میں گوا کو پر تگال کے سمندر پا ر حکومت کا دار الخلافہ بنالیا گیا۔ اب پرتگالیوں اور برصغیر کے باشندوں کے سماجی، تمدنی اور تجارتی تعلقات مستحکم ہونگے۔ اس کے بعد اس کے جانشینوں نے مزید ساحلی شہروں بمبئی حتٰی کہ گوادر (بلوچستان) کو بھی اپنے دائرہ اختیار میں شامل کرلیا۔ ۱۶۰۲ء میں ہالینڈ میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی بر صغیر کے مشرقی اور مغربی ساحلی علاقوں سے تجارت کے لئے قائم ہوئی۔ یہ کمپنی ۱۸۷۲ء تک قائم تھی۔ اور نگ زیب عالمگیر کے عہد میں ۱۶۶۸ء میں فرانسیسیوں نے سورت میں ایک تجارتی کوٹھی قائم کی۔ ۱۶۶۹ء میں گولکنڈہ کے حکمران عبداللہ قطب شاہ کی اجازت سے مسولی پٹم میں فرانسیسیوں نے ایک اور تجارتی کوٹھی قائم کی۔ چار سال بعد۱۶۷۳ء میں دو فرانسیسی تاجروں نے مدارس کے جنوب میں ساحل کارامنڈل کے قصبہ ولی کونڈا پورم کو وہان کے حکمران سے حاصل کرلیا۔
برطانیہ اور برصغیر کے تعلقات کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالرحمان براہوی یوں لکھتے ہیں:
’’برطانیہ اور برصغیر کے تعلقات سولہویں صدی عیسوی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کی وجہ سے عمل میں آئے۔ انگریز جب یہاں پہنچے تو برصغیر کے دونوں ساحلوں پر پرتگالیوں کا قبضہ تھا اور یہاں پرتگالی ہندوستانی بولی بول چال کا ذریعہ تھی۔ یہاں کے کئی الفاظ انگریزی اور دوسری زبانوں میں چلے گئے۔ Dr.S.R.Dalgado نے تین سو سے زائد الفاظ کی نشاندہی کی ہے جس میں سے بہت سے اب متروک ہو چکے ہیں ۔ ان تعلقات سے صدیوں قبل یونانی، لاطینی، عرب وغیرہ یہاں کی تجارتی اشیاء کے ناموں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ مثلاً کافور،پلپل، کوپرا،شکر ،جنجر،صندل وغیرہ۔ برطانیہ اور برصغیر کے تعلقات سولہویں صدی میں قائم ہوئے۔ تعلقات کی ابتدا تجارت سے ہوئی اور صدیوں قائم رہی اس لیے ابتدا میں تجارتی اور معاشی الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے خاتمہ کے بعد جب انگریزوں نے بر صغیر پر قبضہ کرلیا تو دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی تعلقات کا بھی آغاز ہوا اور سیاسی، انتظامی، فوجی، تجارتی ، معاشی، سماجی الفاظ کا بھی تبادلہ ہوا۔‘‘(۶۷)
ذیل میں یورپی زبانوں کے الفاظ کی فہرست ملا حظہ کیجئے۔ جو سندھی زبان میں مستعمل ہیں:
پر تگالی الفاظ
نیلام،فالتو،فٹ(فٹا)،پگھار،ٹرنک،پستول،پیپ،صابن،تولیہ،بالٹی وغیرہ۔
اطالوی الفاظ
انٹلکچوئل اسٹیڈیم، فورم، لسٹ، میل، میٹر، نیوکلیرانرجی، اومنی بس، ریفرنڈم، کمرہ (پرتگالی اپنے ساتھ لائے)
لاطینی الفاظ پادری(پرتگالی اپنے ساتھ لائے)
فرانسیسی الفاظ:
آملیٹ، کارتوس، ڈیزل، بالکونی، جوبلی، بینک، کیمرہ، ایمبولینس، کریکٹر، ایسڈ، نوٹ، فیکلٹی، پلاسٹک، پیکٹ۔
ہسپانوی الفاظ سگریٹ،کوکا ،پلاٹینیم،سگار۔(۶۸)
انگریزی زبان کے اثرات
انگریزی زبان، موجودہ دور کی ایک اہم اور زیادہ بولی جانیوالی زبان ہے۔ اپنی
اہمیت اور افادیت کے حوالے سے وہ پوری دنیا میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ بقول ڈاکٹر عطش درانی:
’’انگریزی زبان کے علمی ارتقا کی کہانی تین چار سو سال سے زیادہ پرانی نہیں ۔ ایک زندہ زبان کی طرح یہ زبان بھی عروج و زوال کا شکار ہوئی ۔ قدیم انگریزی جس پر انگلستان کو ناز کرنا چاہیے تھا جدید صنعتی انقلاب کی بھینٹ چڑھ گئی۔اس کے لہجے، ہجے، معانی اور استعمالات بدل گئے۔ قواعد وضوابط میں ترمیم ہوئی۔ بیسوی صدی کے اوائل میں ایک ایسی انگریزی سامنے آئی جو اس صدی کے آخر تک اپنے علمی و اصلاحی ذخیرے اور اسالیب بیان پرفخر کر سکتی ہے۔‘‘(۶۹)
انگریزی جرمانوی گروہ کی زبان ہے۔ اس مین جرمن ،ولندیزی ، فلیمش، ڈینش، سویڈش، اور نارویجن زبانیں شامل ہیں ۔ اس کے قواعد اور ذخیرہ الفاظ کا ان زبانوں کے ساتھ خاصا اشتراک ہے۔ لیکن اس کا نصف سے زیادہ ذخیرہ لا طینی سے آیا۔ کچھ براہ راست اور کچھ فرانسیسی اور رومانوی زبانوں کی وساعت سے۔ نتیجتاً انگریزی کا موجودہ ذخیرۂ الفاظ زیادہ تر لاطینی ، فرانسیسی، اطالوی ہسپانوی اور پرتگالی زبانوں پر مبنی ہے۔
انگریزی زبان کا سندھی زبان پر گہرا اثر پڑا اور بے شمار انگریزی زبان کے الفاظ داخل ہو گئے ۔ بقول میمن عبدالمجید:
’’انگریزی کے کئی الفاظ تو ایسے ہیں جو سندھی زبان میں براہ راست آئے اور اپنی اصل پر قائم ہیں بعض ایسے بھی ہیں جن کے داخل ہونے کے بعد ان کی صورت کسی قدر تبدیل ہوگئی ہے ۔‘‘(۷۰)
مثلاً:
انگریزی اردو سندھی
اسٹیشن سٹیشن ٽيشن
ٹکٹ ٹکٹ ٽڪس
ہاسپیٹل ہسپتال اسپتال
ٹاول تولیہ ٽوال
پسٹل پستول پستول
اسٹامپ اشٹام اشٽام
باٹل بوتل بوتل
ربر ربڑ رٻڙ
گوڈاؤن گودام گدام
اس طرح کے دیگر کئی انگریزی الفاظ سندھی زبان میں تھوڑے ردو بدل کے ساتھ مستعمل ہیں۔ عربی اور فارسی زبان کے برعکس انگریزی کا کوئی ایسا لفظ آج تک ہماری نظر سے نہیں گزرا جو سندھی علامت مصدر کے ساتھ تمدنی مصدر کی حیثیت سے استعمال ہوتا ہو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے، بقول میمن عبدالمجید :
’’انگریزی زبان عربی اور فارسی کی طرح ہمارے ملک کے مزاج کے مطابق نہیں ہے۔ البتہ تعلیم یا فتہ اور امیر طبقے میں ملکی زبانوں کے معاون مصادر شامل کرکے انہیں تمدنی مصادر بنانے کا رواج کسی قدر ہوچلا ہے اور بعض الفاظ ان کی بول چال میں بھی جاری ہوگئے ہیں۔‘‘(۷۱)
اس ضمن میں ڈاکٹر ہدایت پریم کے مقالے: ’’سندھی بولی تے انگریزی بولی جو اثر‘‘ میں بھی سندھی پر انگریزی اثرات کے حوالے سے مختصر روشنی ڈالی گئی ہے جو نومبر ۱۹۹۸ء میں شاہ عبداللطیف بھٹائی چیئر کے تحقیقی جرنل کلاچی میں شائع ہوا ہے۔
اُردو زبان اثرات و روابط
اردو اور سندھی کے ایک دوسرے پر اثرات و روابط کے حوالے سے ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی کا پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ بعنوان ’’اردو سندھی کے لسانی روابط‘‘ اور ڈاکٹر خالد خان خٹک کا پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ بعنوان ’’سندھی، پشتو ، اور اردو کے لسانی روابط‘‘ نہایت اہم اور بنیادی حوالے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے علماء اور محققین نے اس ضمن میں بہت سے مقالے اور مضامین لکھے ہیں۔ یہاں ڈاکٹر غلام علی الانا کی کتاب ’’زبان اور ثقافت‘‘ سے اردو زبان کے سندھی زبان پر اثرات کا مختصر جائزہ بیان کیا جاتا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد آبادیوں کے تبادلوں کا سلسہ شروع ہوا۔ لاکھوں کی تعداد میں وہ مسلمان جن کی مادری زبان اُردو تھی، ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہجرت کرکے مستقل طور پر سندھ میں آئے اور زیادہ تر سندھ کے بڑے بڑے شہروں میں آباد ہوگئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی، حیدرآباد، نواب شاہ، میرپور خاص اور سکھر وغیرہ جیسے بڑے شہروں میں آباد لوگوں کی اکثریت کی زبان اُردو بن گئی۔ علاوازیں پنجاب، شمالی علاقہ جات اور صوبہ خیبر پختونخوا کے لوگ روزگار کی خاطر جوق در جوق مذکورہ شہروں میں آکر رہائش پذیر ہوئے تو انہوں نے بھی رابطے کے لئے اُردو کو وسیلہ بنایا، جس کی وجہ سے مقامی زبان سندھی ان شہروں میں اقلیت کی زبان بن کر رہ گئی۔
مہاجرین اور سندھیوں کے اکٹھے رہنے کی وجہ سے باہمی بول چال کا ذریعہ اُردو ہی رہی۔ جس کے باعث اُردو کا سندھی زبان پر قدرے گہرا اثر، لغوی الفاظ کے روپ میں ظاہر ہونے لگا ہے۔ اِس کے برعکس دیہاتوں، قصبوں اور چھوٹے شہروں میں جہاں اکثریت کی زبان سندھی ہے، اردو بولنے والوں، پٹھانوں اور پنجابیوں کی زبانوں پر سندھی زبان اثرانداز ہوئی ہے۔ اب دونوں صورتوں میں اردو اثر قدرے گہرا ہو رہا ہے۔ بول چال کے علاوہ ادبی سطح پر بھی، سندھی ادب اُردو ادب سے واضح طور پر متاثر نظر آنے لگا ہے۔ سندھی کے ممتاز ادیب اور شعراء نے اردو میں بھی شہ پارے تخلیق کیے ہیں اورکر رہے ہیں۔ ایسے علماء میں پیر حسام الدین شاہ راشدی، ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، شیخ ایاز،ڈاکٹر ابرہیم خلیل، لطف اﷲ بدوی، شیخ عبدالرزاق راز، غلام محمد گرامی، امر جلیل، نورالہدیٰ شاہ اور دیگر شخصیات کے نام فخریہ پیش کئے جاسکتے ہیں۔
قومی زبان کی حیثیت سے اُردو کو سندھ کے اسکولوں میں بھی لازمی قرار دیا گیا۔ ان مخصوص وجوہات کے علاوہ رابطے کی زبان ہونے کے ناتے سے اُردو پہلے ہی سندھ میں عموماً اور پورے پاکستان میں خصوصاً رابطے کے واحد ذریعے کی حیثیت سے مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ زبان پاکستان میں ہر صوبے کی مادری زبان سے ہم آہنگ نظر آنے لگی ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے علاوہ فلموں اور ڈراموں (اسٹیج ڈراموں) نے اِس زبان (اُردو ) کو دوردراز علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں مزید آسانی پیدا کردی ہے۔ یوں بھی برصغیر کی تحریک آزادی کے دوران اُردو، جہاں دیگر علاقوں میں کثرت سے اظہار کا ذریعہ بنی تھی وہاں اس سے سندھ میں بھی لوگوں کو شناسائی ہوچکی تھی اور اس طرح قیام پاکستان سے قبل سندھ کے بڑے بڑے شہروں کے لوگ اردو لکھنے اور پڑھنے لگے تھے۔ باوجود اس کے کہ سندھی اور اردو کو عربی اور فارسی کے حوالے سے لغوی ذخیرہ حاصل ہوا ہے لیکن کئی اردو مصادر، اصطلاحیں، کہاوتیں اور ضرب الامثال قیام پاکستان کے بعد بھی سندھی لغات میں شامل ہوئی ہیں۔ ان میں سے خاصی اصطلاحیں، کہاوتیں اور ضرب الامثال پہلے ہی ہندی کے حوالے سے دونوں زبانوں میں مستعمل رہی ہیں۔
ان اسباب کے علاوہ بعض خاندانوں کی باہمی رشتہ داریوں کی وجہ سے سندھ میں اردو مروّج ہونے کے لئے زیادہ وسائل میسر آئے۔ مطلب یہ کہ شہروں پر اُردو کے غلبے، ادیبوں اور شاعروں پر اردو ادبیات کا اثر اور بعض خاندانوں کی طرف سے گھروں میں اردو کو مادری زبان کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے سندھی زبان پر اردو صرف ونحو کا نمایاں اثر نظر آنے لگا ہے۔ درج ذیل میں ایسی مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
جنس :
بے شمار ایسے اسم ہیں جو کہ سندھی زبان میں جنس مؤنث واحد کے طور پر مروج ہیں لیکن اردو اثرات کے بعد رفتہ رفتہ مؤنث کی بجائے مذکر واحد کی صورت میں تلفظ ہونے لگے ہیں۔ مثلاً ’’موسم‘‘ کو سندھی زبان میں عموماً مؤنث کے صیغے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اب بعض لوگ اس لفظ کو ’’مذکر‘‘ صیغے میں استعمال کرنے لگے ہیں۔
عام سندھی استعمال اردو اثر کے بعد استعمال
موسم سٹھی آہے موسم سٹھو آہے
موسم تھدھی آہے موسم تھدھو آہے
اس قسم کی دیگر مثالیں یہ ہیں۔
لفظ عام سندھی فقرہ اردو فقرہ اردو اثر کے بعد سندھی فقرہ
دل منهنجي دل میرا دل منهنجو دل
کتابُ منهنجو ڪتاب میری کتاب منهنجي ڪتاب
کتابَ منهنجا ڪتاب میری کتابیں منهنجون ڪتابون
لفظ عام سندھی استعمال اردو اردو اثر کے بعد سندھی فقرہ
غزل تنهنجو غزل تیری غزل تنهنجي غزل
غزلَ تنهنجا غَزَلَ تیری غزلیں تنهنجون غزلون
نظم منهنجو نظم میری نظم منهنجي نظم
نظمَ منهنجا نظم میری نظمیں منهنجون نظمون
مصدر:
مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اُردو کے بہت سے مصدر سندھی لغات میں شامل ہوگئے ہیں۔ مثلاً:
اردو مصدر سندھی مصدر اردو مصدر سندھی مصدر
پھیلانا ڦهلائڻ اپنانا اپنائڻ
ڈھلنا ڍلڻ مسکرانا مسڪرائڻ
خریدنا خريدڻ پہچانا پهچائڻ
حرف اضافت:
شہروں کے اسکولوں میں اردو کو ذریعہ تعلیم اختیار کرنے کا اردو بولنے والی اکثریت کے محلے میں رہنے یا ایسے خاندان جو اپنی روزمرہ گفتگو میں سندھی نحوی ترکیب میں کوئی فرق نہیں کرتے ان کے ساتھ روابط کی وجہ سے بہت سارے نوجوانوں کی زبان بہت تیزی سے متاثر ہورہی ہے۔ مثال کے طور پر:
اردو فقرہ اردو کے ذیر اثر فقرہ عام سندھی فقرہ
کون سی والی کتاب ڪهڙي واري ڪتاب ڪهڙو ڪتاب
پہلی والی کتاب پهرين واري ڪتاب پهريون ڪتاب
کس کی نظم ڪنهن جي نظم ڪنهن جو نظم
ضرب الامثال:
یوں اردو اور سندھی کا صدیوں کا ساتھ ہے لیکن قیام پاکستان کی تحریک سے لے کر ان دونوں زبانوں کی قربت گہری ہورہی ہے۔ اس قربت کی وجہ سے سندھی زبان نے بہت ساری ضرب الامثال بھی مستعارلی ہیں لیکن یہاں محض یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ زیادہ تر ہندی کہاوتیں اور ضرب الامثال جو ادبی کتب، خصوصاً ڈراموں، ناولوں اور افسانوں کے تراجم کے ذریعے سندھی نے اپنائی ہیں۔ تقریباً وہی کہاوتیں اور ضرب الامثال اردو نے بھی اپنائی ہوئی ہیں۔ مثلاً
جیسی کرنی ویسی بھرنی
اتحاد میں برکت ہے
آپ سکھی تو جگ سکھی
آپ گھاتی مہا پاپی
ایک پنتھ دو کاج
بڑا کہاون بڑا دُکھ پاون، چھوٹے کا دُکھ دور
آسمان کا تھوکا منہ میں آتا ہے
اونٹ کے منہ میں زیرہ
آٹے میں نمک
تو بھی رانی میں بھی رانی کون بھرے گا پانی
دودھ کا دودھ پانی کا پانی
پیسہ پھینک تماشا دیکھ(۷۲)
گجراتی زبان اثرات و روابط
سندھ کے لسانی جغرافیہ کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سندھی زبان کے کچھی، لاڑی، تھری اور پارکری بولیوں پر گجراتی زبان کا اثر زیادہ رہا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ کَچھ اور تھرپارکر کے علاقے، گجرات کے ہمسایہ علاقے ہیں اور اس کے علاوہ کَچھ کی مکمل تجارت گجرات کے زیر اثر تھی۔ دوسری جانب سندھ اور گجرات کے آپس میں سیاسی اور سماجی تعلقات سومرہ عہد (۱۰۱۰ ء۔۱۳۵۱ ء) تک حکومت سے بھی پہلے موجود تھے۔
انگریز دورِ حکومت کے ابتدائی دنوں (۱۸۴۷ء) میں سندھ کو بمبئی صوبے سے ملا کر بمبئی پریذیڈنسی قائم کی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے ہزاروں گجراتی اور کاٹھیاواڑ کے تاجروں نے سندھ میں سکونت حاصل کی اور سندھ و گجرات کے درمیان تجارت کو مزید فروغ حاصل ہوا۔ یہی وہ دن تھے جب سندھ کے سکولوں میں سندھی کے ساتھ ساتھ گجراتی پڑھائی جانے لگی تھی۔
علاوہ ازیں خواجہ، میمن، بوہرہ، کچھی، پارسی اور گجرات سے آئی ہوئی دیگر قومیتیں روزمرہ کاروبار میں گجراتی ہی بولتی تھیں جس کی وجہ سے سندھ کے کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور سکھر وغیرہ جو کہ تجارتی مراکز بھی تھے وہاں گجراتی کا بہت اثر رہا ۔ شروع میں بتایا جا چکا ہے کہ آبادی کی ہجرت، عام لوگوں، امیروں اور حاکموں کی رشتہ داریوں اور باہمی شادیوں کے علاوہ کاریگروں، فنکاروں، علماء، فضلاء اور مبلغین کی آمد و رفت نے بھی دونوں زبانوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا تھا۔ اس سلسلے میں مسرا کے حوالے سے ڈاکٹر ٖغلام علی الانا یوں رقمطراز ہیں کہ :
’’سندھ کے لوگوں کی کثیر تعداد برودہ میں مقیم تھی، جہاں وہ ریاست کی پولیس اور فوج میں شامل ہیں۔ اور اسی طرح شمالی گجرات کے علاقے پالینور کی طرف بھی سندھ کے لوگوں کی بڑی تعداد پولیس اور دیگر سرکاری ملازمتوں میں موجود ہے۔ سندھ کے بعض لوگ ساحلی سمندر پر بھی آباد ہیں جو کہ پیشہ کے اعتبار سے کشتیوں کے ناخُدا اور ملاح ہیں۔‘‘(۷۳)
یہ اور اس قسم کے دیگر تعلقات کی وجہ سے سندھی زبان کا گجراتی زبان پر اثر ہوا، اسی طرح گجراتی زبان نے سندھی زبان کو بھی متاثر کیا۔ ذیل میں سندھی زبان پر گجراتی زبان کے اثرات کی چند مثالیں ڈاکٹر غلام علی الانا کی کتاب ’’زبان اور ثقافت‘‘ سے دی جاتی ہیں۔ سندھی زبان کی کچھی بولی پر تو گجراتی کا بہت بڑا اثر ہے، لیکن اس کی لاڑی، تھری اور پارکری بولیاں بھی ان اثرات سے خالی نہیں ہیں۔ مثلاً:
صوتیاتی اثر
صوتیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سندھی زبان کی کچھی، لاڑی اور پارکری بولیوں میں کوئی قابلِ ذکر فرق نہیں ہے لیکن گجراتی زبان کے اثر کی وجہ سے کچھی اور لاڑی لہجوں (بولیوں) میں بعض الفاظ میں ’’ز‘‘ کو ’’ج‘‘ اور ’’ج‘‘ کو ’’ز‘‘ میں بدل کر تلفظ کیا جاتا ہے۔ مثلاً
اصل لفظ گجراتی لفظ کچھی بولی پارکری بولی
معجزو موزجو موزجو موزجو
حاضر ھاجر ھاجر ھاجر
نظر نجر نجر نجر
بازار باجار باجار باجار
دوسری طرف گجراتی میں اکثر ’’ش‘‘ کو ’’س‘‘ اور ’’س‘‘ کو ’’ش‘‘ میں بدل کر بولنے اور ’’ف‘‘ کو ’’پھ‘‘،’’غ‘‘کو ’’گ‘‘ اور ’’خ‘‘ کو ’’کھ‘‘ میں تبدیل کر کے بولنے کا رواج بہت زیادہ ہے۔ یہی اثرات ہمیں کچھی، لاڑی اور پارکری میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔
حروف جملہ
سندھی زبان کا بغور مطالعہ کرتے وقت یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کہیں کہیں سندھی زبان پر گجراتی کے صرف و نحو کا اثر بھی موجود ہے۔ ذیل میں حروف جملہ اور حروف جار اور حالت مکانی کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
حروف جملہ
سندھی گجراتی کچھی فقرے میں استعمال
۽ (اَئیں) نے نے چھوکرو نے چھوکری
۾ (میں) مان (مانھ) مان (مانھ) شیریں نے فاطمہ، چھلے
لئی ہاتھ مان لٹک پھٹک رمتی باجار ماں
وٽ (پاس) وٹے وٹے موں وٹے
حالت
سندھی زبان میں حالت مکانی کی صورت میں اسم کے آخر میں حروف جار استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’گهر ڏي‘‘ (گھر کی طرف) ’’گھر میں‘‘ یا ’’گھر کھے‘‘ حالت مکانی میں مذکورہ حروف کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔
حالت مکانی حالت تغیری
گھر میں گھرِ
گھر ڈے گھرے
گھر مان گھراں
گجراتی میں ’’گھر ڈے‘‘ کے لئے ’’گرین‘‘ یا ’’گرے‘‘ (گھرے) استعمال کیا جاتا ہے۔ لُطف کی بات یہ ہے کہ یہی خاصیت ہمیں کچھی اور پارکری میں بھی ملتی ہے۔ مثلاً :
سندھی گجراتی کچھی پارکری
گهر وڃان ٿو گرین / گرے گرین/گرے گریں جاؤں تو
جاؤن چھون دیان/ ونان تو
ظرف
سندھی زبان میں گزرے ہوئے دن کے لئے ’’کالھ‘‘ اور آنے والے دن کے لئے ’’سبھانی‘‘ کے الفاظ مروج ہیں۔ گجراتی زبان میں دونوں کے لئے ’’کالھ‘‘ استعمال ہوتا ہے لیکن اس کا تلفظ ’’کالے‘‘ کرتے ہیں اور کچھی اور پاکری دونوں بولیوں میں مذکورہ دونوں حالتوں میں لفظ ’’کالے‘‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر:
سندھی گجراتی کچھی پارکری
سڀاڻي ايندس کالے آوسون کالے آویس
ڪالهه آيس کالے آویوھتو کالے آویس
حروف (Particles) کا استعمال
سندھی زبان میں کسی بھی اسم یا ضمیر پر زور ظاہر کرنے کے لئے ’’ئی‘‘ کا حرف استعمال کیا جاتا ہے لیکن گجراتی میں ’’ئی‘‘ کے برعکس ’’ج‘‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی صورت کھچی اور پارکری کی بھی ہے۔ جیسا کہ:
سندھی گجراتی کچھی پارکری
تون لک تو ج لکھ توج لکھ توج لکھ
توهين/ اوهين تمہیں ج لکھو آئین ج لکھو تمہیں ج لکھو
لکو
ذخیرۂ الفاظ
سندھی زبان کے لغات کے مطالعے کے لغوی ذخیرے میں خاص طور پر تھری / لاڑی، کچھی اور پارکری کے حوالے سے بے شمار گجراتی الفاظ مروج ہو چکے ہیں۔ جن میں اکثریت رشتوں اور دنوں کے ناموں اور دیگر اشیاء کے اسماء کی ہے۔ مثلاً:
سندھی گجراتی لاڑی کچھی پارکری
وڏو ڏير(بڑا دیور) جیٹھ جیٹھ جیٹھ جیٹھ
وڏي ڏيرياڻي جیٹھانی جیٹھانی جیٹھانی جیٹھانی
(بڑی دیورانی)
پير پڳ پڳ پڳ پڳ
مٿو ماتھا متھو ماتھو ماتھو(۷۴)
سرائیکی زبان اثرات و روابط
ذیل میں سندھی اور سرائیکی اثرات و رابط کو الانا صاحب کی کتاب ’’زبان و ثقافت‘‘ سے بیان کیا جاتا ہے۔ سندھ میں تالپور حکمرانوں کی زبان ہونے کے علاوہ ڈیرہ جات، ملتان، رحیم یار خان اور سرائیکی بولنے والی آبادی کے دیگر علاقوں سے آکر سندھ میں لوگوں کے مستقل طور پر آباد ہوجانے کی وجہ سے سرائیکی گرامر کا سندھی گرامر پر بہت گہرا اثر ہوا ہے۔ سرائیکی بولنے والے لوگوں کی کثیر تعداد قدیم زمانے سے سندھ میں آباد ہوتی چلی آرہی ہے جن میں سے اکثریت نہ صرف سماجی، ثقافتی اور معاشرتی طور پر سندھ میں ضم ہو چکی ہے بلکہ ذہنی طور پر بھی اب وہ اپنے آپ کو سندھی تصور کرتی ہے۔ یہ لوگ خود کو سندھ کے مسائل سے الگ نہیں سمجھتے، بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ آزمائش کے وقت ان لوگوں نے اجتماعی اور مُلکی مسائل کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ یہ لوگ روزمرّہ زندگی کے کاروبار میں سندھی زبان کو مادری زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ البتہ اس آبادی کا کچھ حصہ اپنے ماحول کے اندر اور نجی زندگی میں سرائیکی بولتا ہے۔ اس پوری آبادی کی سندھی بول چال اور صوتیاتی نظام اور صرف و نحوی ترکیب پر سرائیکی کے صوتیاتی نظام اور گرامر کا اثر واضح نظر آتا ہے۔
صوتی اثر
سندھی زبان کے شمالی لہجے (خصوصاً سکھر ،اُوباڑو اور ان کے مضافات) میں ’’ٹ‘‘ اور ’’ٹر‘‘ یا ’’ڈ‘‘ اور ’’ڈر‘‘کی ایسی آوازیں ہیں جو سندھی زبان کی فقط کچھی بولی میں موجود ہیں، چنانچہ اس بولی میں بھی ’’ٹ‘‘ اور ’’ڈ‘‘ کی آوازیں موجود نہ ہونے کی وجہ سے ان کی آوازوں کے نعم البدل ’’تر‘‘ ،’’در‘‘ ہیں جنہیں سندھی کی شمالی بولی کی آوازوں کی طرح الگ الگ ’’ٹ‘‘ اور ’’ٹر‘‘، ’’ڈ‘‘ اور ’’ڈر‘‘ کی آوازوں کی طرح ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے سندھی کی شمالی بولی پر مذکورہ اثر کو واضح طور پر سرائیکی کے صوتیاتی اثر سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
سندھی اور سرائیکی کی بعض آوازیں باہمی تبدیلی کے ساتھ ادا کرنے کا رواج تو بہت ہی قدیم ہے۔ مثلاً:
سندھی لفظ سرائیکی آواز تبدیلی
ٻار ٻال ر،ل
وار وال ر،ل
صوتی اثر
سندھی زبان کے شمالی لہجے میں جنس مؤنث واحد کو جمع بنایا جاتا ہے تو حاصل شدہ جمع کی صورتیں ہوبہو سرائیکی صورتوں کی طرح ہوتی ہیں۔ مثلاً:
مؤنث عام سندھی جمع سندھی کا شمالی لہجہ
میز میزوں میزاں
زال زالوں زالاں
اجرک اجرکوں اجرکاں
کھٹ کھٹوں کھٹاں
اسمِ فاعل
سرائیکی زبان کی گرائمر کے مطابق اسم فاعل کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اسمِ فاعل کے آخر میں ’’وال‘‘ یا ’’والا‘‘ کا اضافہ ہوتا ہے۔ سندھی میں مذکورہ آوازوں میں آخری ’’ل‘‘ کو ’’ر‘م میں تبدیل کرکے اس میں ’’اُ‘‘ یا ’’او‘‘ کی آوازیں شامل کی جاتی ہیں۔ مثلاً:
اسم علامت اسم فاعل
ٻچر/ٻچار/ٻچڙا ۔وال ٻچڙوال/ٻچڙيوال
کوٹ ۔وال کوٹ وال
سرندی ۔وال سرندی وال/ سرندیال
صفت
سندھی زبان کی نصابی کتب کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام سندھ میں پہلی سندھی جماعت کے بچوں کو جو ’’دو‘‘ کا پہاڑا سکھایا جاتا ہے اس میں مروّج ہند سے یا جو گنتی رائج ہے وہ ہوبہو سرائیکی زبان سے لی گئی ہے۔ یہاں مذکورہ پہاڑا پیش کیا جاتا ہے۔
ایک ڏون ڏون
ٻه ڏون چار
ٽي ڏون ڇهه
چار ڏون اٺ
پنج ڏون ڏهه
ڇهه ڏون ٻارهن
ست ڏون چوڏهن
اٺ ڏون سورهن
ناءِ ڏون ارڙهن
ڏهه ڏون ويهه
نحوی اثر
سندھی زبان کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اسم واحد کی صورت میں سندھی کے ایسے اسماء جن کا آخری حرف ’’زبر (۔َ) پر متحرک ہے اُن کا تلفظ کرتے وقت سرائیکی بولنے والے لوگ زبر (۔َ) کی بجائے زیر (۔ِ) میں تبدیل کرکے تلفظ کرتے ہیں۔ اگرچہ مذکورہ رواج سرائیکی بولنے والوں میں موجود ہے لیکن ہمارے بہت سے سرائیکی بولنے والے ادیب بھی ایسے الفاط کا تلفظ سرائیکی کے زیر اثر ان سرائیکی بولنے والوں کی طرح کرتے ہیں۔ مثلاً:
اعراب سندھی تلفظ سرائیکی ادائیگی
اِ سیٹھِ سیٹھَ
راتِ راتَ
سندھِ سندھَ
انہی الفاظ کو جملوں میں اس طرح استعمال کیا جاتا ہے:
سندھی لہجہ سرائیکی لہجہ
سیٹھِ اکبرَ کھے دعوت ڈے سیٹھَ اکبرِ کھے دعوت ڈے
اَج راتِ جو کونہَ اینداسین اجَ راتَ جو کونہ اینداسیں
سندھُ میں راتِ تھدھی تھیندی آہے سندھَ میں راتَ تھدھی تھیندی آہے
سندھی ویاکرنے کے مطابق ایسے مؤنث یا مذکر اسماء جن کو آخر میں زبر (۔َ) اعراب سے متحرک کرنے کا رواج ہے انہیں اسم حال سے اسم ماضی میں تبدیل کرنے کے لیے یا ان کی حالت تغیری (حالت جری، حالت اضافت اور حالت مکانی وغیرہ) میں گردان کرنے کے لیے جب ایسے اسماء کے ساتھ حروف جار کا اضافہ کیا جاتا ہے تب ایسے اسم کی آخری ’’ای‘‘ آواز کے فوراً بعد ’’اُو‘‘ اعراب ادا کی جاتی ہے اور ’’آ‘‘ کے تلفظ کے بعد حروف جار استعمال کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
عام سندھی ادائیگی سرائیکی تلفظ
پَنَج پنجِ
سَتَ ستِ
اَٹھ اَٹھِ
ھَتھَ ھَتھ
اُٹھ اُٹھ
ذیل میں ایسے الفاظ کو جملوں میں استعمال کرکے ادائیگی میں فرق کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
عام سندھی ادائیگی سرائیکی تلفظ
هِي پنَجَ ٻڪريون آهن هِي پنجِ ٻڪريون آهن
هِي سَتَ ڀائر آهن هِي سَتِ ڀائر آهن
هٿ ۾ ڪتاب آهن هَٿِ ۾ ڪتاب آهن
اُٺَ کي مهار وجهه اُٺِ کي مهار وجهه
ایسے سندھی الفاظ جو آخر میں زیر (۔ِ) یا پیش (۔ُ) اعراب پر متحرک ہوتے ہیں۔ انہیں ’’سرائیکی بولنے والے سندھی‘‘ زبر (۔َ) میں تبدیل کرکے ادا کرتے ہیں۔ سرائیکی کا یہ اثر ہمیں سندھ کے بہت سارے تعلیم یافتہ لوگوں خصوصاً ادیبوں اور شاعروں کی بول چال میں بہت ہی واضح نظر آتا ہے۔
زمان اسم حال سندھی فقرہ سرائیکی فقرہ
حال چھوکری فاعلی چھوکری مانی کھائے تھی چھوکری مانی کھائے تھی
حال چھوکری جری چھوکریٔ کھے مانی ملی چھوکری کھے مانی ملی
حال چھوکری اضافت چھوکریٔ جو پیء ُ آیو چھوکری جو پیء ُ آیو
ماضی چھوکری مفعولی چھوکریٔ نانگ کھے ماریو چھوکریٔ نانگِ کھے ماریو
حال بکری جری بکریٔ کھے پنج پھَرَ آہن بکری کھے پنجِ پھَرِآہن
مطالعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دور حاضر کے سندھی نصاب کی کتب، ادبی رسائل، روزانہ اخبارات، شعروشاعری، ادبی مضامین اور تحقیقی مقالات میں بھی سرائیکی کا یہ اثر نمایاں ہے۔ نصابی کتب میں هاريءَ، ڏاڙهونءَ اور ڇوڪريءَ وغیرہ جیسے اسموں کے آخر میں جملوں میں استعمال ہونے والی اعراب (ءَ) کا استعمال تقریباً ختم ہورہا ہے۔ اس بہاؤ میں سندھی کے بڑے بڑے عالم اور ادیب بھی بہتے چلے جارہے ہیں۔
فقروں کی ساخت اور نام
سندھ میں سرائیکی بولنے والے علاقوں سے لوگوں نے آکر سکونت اختیار کی اور اپنے دیہات اور قصبے تعمیر کئے تو ان کے نام بھی سرائیکی کی نحوی ساخت کے مطابق مقرر ہوئے۔ ان ناموں سے بھی سندھی اور سرائیکی زبانوں کے نحوی اصول وضح ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر:
سرائیکی بولنے والے علاقوں میں دیہات کے نام سندھ کے دیہاتوں کے نام
علی شیر واھن خان واھن
آدم واھن حسن واھن
پتافی واھن /واھن پتافی ٹھل میر رکن
نواں کوٹ/ شورکوٹ نئوں کوٹ / کوٹ میر رستم
کوٹ سلطان / کوٹ اَدو کوٹ عالم
یہاں یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سرائیکی میں کوٹ کا اسم تصغیر کوٹلی یا کوٹلہ ہوتا ہے مثلاً کوٹلی نجابت۔ کوٹلاں مغلاں۔ سندھی زبان میں ’’ل‘‘ کو ’’ڑ‘‘ میں تبدیل کیا گیا اور اس طرح یہ کوٹڑی کبیر۔ کوٹڑی اﷲ رکھیو شاہ۔ مغلن جی کوٹڑی بن گئے ہیں۔
کہاوتیں اور ضرب الامثال
سندھی کے لغوی سرمائے اور لوک ادب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سندھی میں سینکڑوں کہاوتیں اور ضرب الامثال سرائیکی سے مستعار لیے گئے تھے جو کہ اب اس زبان و ثقافت کے اہم جزو بن گئے ہیں۔ ان میں سے بعض ہوبہو اصل روپ یعنی خالص سرائیکی لہجے میں پورے سندھ میں رائج ہیں اور کچھ بتدریج تراجم کی صورت میں سندھی زبان میں اپنا مقام پا چکے ہیں۔ ملاحظ ہون چند مثالیں:
سرائیکی ضرب الامثال سندھی ترجمہ
باؤلی کتی اندھے گلر جنیدی ہے تڪڙي ڪُتي انڌا گلر ڄڻي
بکھا کراڑ تے وہیاں جاچی کٽل واڻيو اڳوڻيون ويهون جاچي
بیتھ اوہ سونا جھڑا کن تروڑے ٻن پوي اهو سون جو ڪن ڇني
جتلی سوڑ ھووے اتلے پیر ڈگھیرو سوڙ آهر پير ڊگهير
جم نہ مکی نانی دے مھاندرے اڃا ڄائي ڪانهي چئي نانيءَ مهانڊي
جنج پرائی احمق نچے پرائي دهلين احمق نچي
سگھڑیاں دعائیں پلوتے دی جا سکڻي دُعا پِٽَ برابر
گوہ کون موت چایا جو ھڑے دا گھر تکسیں ڳوهه کي کڻي کُٽي ته موچين جا گهر نهاري
ناں وڈا تے دیھ سنجی نالو وڏو، ڳوٺ سڃو
ناں چڑھیا چور پھاہی چڑھے نالي چڙهيو چور ڦاسي کائي
نان چڑھیا وپاری کھٹکے کھاوے نالي چڙهيو واپاري کٽيو کائي
سرائیکی کہاوتیں جو ہوبہو صورت میں مستعمل ہیں
اپنا مال ہے روسوں بہ کھاسوں بھی
اپنی گھوٹ تے نشا تھیوئی
بے شرمی دے سیرے کنوں سرنھن دا ساگ چو کھا
بلی شیر پڑھایا پھر بلی کوں کھاون آیا
انباں بور کلا لاں لاھا
زالاں دھاون مرداں کھاون
سچ مرچاں، کوڑ گز، پیر پئسا مرال گر
دل دے قصے دل ہی جانیں، کی جانیں قاضی
کوڑے کتاباں وہوں بھلا کبھہ تھیسی؟
مرسا مرسا پر ڈربھ نہ چرساں
مرسوں مرسوں پر سندھ نہ ڈیسوں(۷۵)
سندھی اور سرائیکی زبانوں کے لسانی اشتراک کے سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے اسکالر اشوک کمار کھتری نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ پاکستانی زبانیں سے ’’سندھی ائیں سرائیکی بولین میں ہکجہڑائیوں‘‘ عنوان پر مقالہ تحریر کیا ہے جس میں سندھی اور سرائیکی زبانوں کے درمیان لسانی اشتراک پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
بلوچی زبان اثرات و روابط
بلوچی زبان کا شمار بھی قدیم زبانوں میں ہوتا ہے۔ یہ بلوچستان کی سب سے زیادہ بولی جانیوالی زبان ہے۔ سندھ میں رہنے والے بلوچ قبائل کی مادری زبان بلوچی ہے۔ گوکہ وہ سندھی زبان بھی روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ خاص طور پر کراچی میں آباد بلوچ لوگ روانی کے ساتھ بلوچی بولتے ہیں۔ جہاں تک سندھی اور بلوچی زبانوں کے لسانی روابط یا اثرات کا تعلق ہے تو سندھ کے عظیم شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کو بھی بلوچوں اوربلوچی زبان سے بے حد محبت تھی جس کا انہوں نے برملا اظہار اپنی شاعری میں پیش کیا ہے۔ ’’شاہ جو رسالو‘‘ میں سسئی پنہوں کا قصہ شاہ صاحب نے پانچ سروں میں پیش کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ صاحب کو بلوچوں سے کتنی محبت تھی۔ اس ضمن میں بلوچی زبان کے مایہ ناز شاعر، ادیب، مفکر سید ظہور شاہ ہاشمی نے ٹھیک لکھا ہے:
بے کیچء ُ بلوچ دست ئِ دلئَ اِنت شاہ جو رسالو
بے شاہ لطیف، سندھڑیء سندھی چو سٹیار (۷۶)
معنی: ’’اگر شاہ جو رسالو میں سے کیچ و بلوچ یعنی سُرسسئی کو نکال دیا جائے تو شاہ جو رسالو ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح صاف ہوجائیگا۔‘‘
اس ضمن میں گل محمد گل بلوچ ملیری لکھتے ہیں کہ:
’’شاہ صاحب اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ یہاں مختلف قومیں رہتی ہیں اور ان میں دو بڑی قومیں اور دو بڑے مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ ان دونوں مذاہب کو شیر و شکر کرنے کے لیے شاہ صاحب نے صوفیانہ رنگ اختیار کرکے انسانیت کا پیغام دیا۔ دو بڑی ذاتوں یعنی سندھی اور بلوچ جسے عام لفظوں میں بلوچ اور سماٹ کہتے ہیں۔ رشتہ داری ق۔ م سے چلی آرہی ہے ۔ ان کی اجنبیت کو ختم کرنے کے لیے اپنے سُر میں بلوچوں کی زبان، نفسیات اور ثقافت کی باریک بینی سے تعریف کی ہے جو شاہ کے سوا اور کوئی معمولی نہیں کر سکتا تھا۔ شاہ صاحب بلوچوں اور سندھیوں کی اسی رشتہ داری کے متعلق فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ جو چاہتے ہیں کہ یہ رشتہ ٹوٹ جائے لیکن جب ایک رشتہ داری مضبوط ہوتی ہے تو اس کو توڑنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں
ڇنڻ تان ٻيو هي سڱ نه ڇنڻ جهڙو
ٹوٹنے والی کوئی اور چیز ہے یہ رشتہ تو کبھی نہ ٹوٹنے والا ہے‘‘ (۷۷)
بلوچی زبان پر سندھی کے اثرات کے حوالے سے بھیرومل انگریز اسکالر لانگ ورتھ ڈیمز کی کتاب ’’بلوچی زبان کی گرامر اور لغت‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
’’بلوچی زبان کی نحوی بناوٹ، پراکرت زبانوں خاص طور پر سندھی زبان کی بناوٹ سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔‘‘(۷۸)
اس ضمن میں سندھی کے بلوچی پر اثرات کے سلسلے میں چند الفاظ بھی دیئے ہیں۔ جیسے:
سندھی بلوچی اردو
اُٻاسي اباسی جمائی دینا
پنڌ پند پیدل
دڙڪو دڑکھو ڈانٹ
هٻڪڻ ہبکغ ہچکچانا
اوجاڳو اوجاغو جاگنا
پڙلاءُ پرلا آواز
ڌيان دھیان توجہ
هڏڪي ھڈکی ہچکی
چاڙهي چاڑہی سیڑھی
هيڻو ہینا کمزور (۷۹)
سندھی اور بلوچی زبانوں کے اشتراکات کے حوالے سے ابھی کوئی کام نہیں ہوا۔ مگر سندھی بلوچی بول چال کے سلسلے میں عبدالخالق خالد نے ایک کتاب گپء ُ تران (بول چال) لکھی ہے۔ جس کو ۲۰۱۰ء میں بلوچی اکیڈمی کوئٹہ نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کے حوالے سے بلوچی زبان کے اسکالر پروفیسر صبا دشتیاری یوں بیان کرتے ہیں:
’’سندھی اور بلوچی زبان میں ایک بول چال والی کتاب لکھنے کی (میرے خیال میں) یہ نہ صرف پہلی کوشش ہے بلکہ بڑی کامیاب کوشش ہے۔ کیونکہ اس کتاب میں ایک زبان کی بنیادی چیزوں کو سیکھنے کے لیے تمام ضروریات کو محسوس کرتے ہوئے شامل کیا گیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے نہ فقط ایک سندھی بولنے والا، بلوچی زبان سیکھ پائے گا مگر ایک بلوچی بولنے والا بھی سندھی زبان کو سیکھ پائے گا۔ اس کتاب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں بیشمار لغت (Lexicon) استعمال کی گئی ہے۔‘‘(۸۰)
سندھی بلوچی لسانی روابط کے حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے یہ مختصر جائزہ اس ضمن میں پہلا قدم ہے۔
براہوئی زبان اثرات و روابط
براہوئی زبان کا شمار بلوچستان کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سندھ میں بھی بہت سے براہوئی بولنے والے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالرحمان براہوئی، میر گل خان نصیر اور ملک صالح محمد لہڑی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’براہوئی طائفہ دوسری بلوچوں کی نسبت بہت پہلے ہجرت کرکے ترک وطن کے بعد وہ البرز پہاڑ کے قرب وجوار میں آباد ہوگئے اور برزکوہ کی نسبت سے برزکوہی مشہور ہوئے اور کثرت سے استعمال یہ لفظ بروہی (براہوئی) مشہور ہوا۔‘‘(۸۱)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سے براہوئی بولنے والے قبائل کو بروہی (براہوئی) کہاجانے لگا تب سے اس زبان کو بروہی یا براہوئی کہا جانے لگا۔ براہوئی کا تعلق بھی پاکستان کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے۔ اور اب تک کی تحقیقات کے مطابق براہوئی کا تعلق دراوڑی گروہ کی زبانوں سے ہے۔
سندھی اور براہوئی کے تعلق یاناتے کے ایک دوسرے پر اثرات کا جائزہ لیا جائے تو سندھی زبان کے متعلق کچھ محققین کا خیال یہ ہے کہ سندھی دراوڑی گرہ سے تعلق رکھتی ہے اور براہوئی کا تعلق تو دراوڑی گروہ سے ہی ہے۔
سندھی زبان کے براہوئی زبان پر بہت سے اثرات ملتے ہیں خاص طور پر جو سندھ میں براہوئی زبان بولی جاتی ہے اس پر گہرے اثرات موجود ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر داد محمد خادم بروہی کا کام نمایاں طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب کی ’’سندھی اور براہوئی زبان کا تقابلی مطالعہ‘‘ ۱۹۹۴ء اور ’’سندھی ۔ براہوی لغت‘‘ ۲۰۰۴ء نہایت اہم تصانیف ہیں۔ جو سندھی لینگوئج اتھارٹی، حیدرآباد سندھ نے شائع کی ہیں۔ ان میں سندھی اور براہوئی زبانوں کا تقابل اور ایک دوسرے پر اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔
سندھی براہوئی اردو
ڦوٽو پوٹا الائچی
ڳڙ گڑ گڑ
ٻوهاري بوہاری جھاڑو
چلم چلم حقہ
پڙڇ پڑچ چٹائی
لٺ لٹھ لاٹھی
موچڙو موچڑی جوتا
ڍنڍ ڈنڈ جھیل
ڏڪار ڈکال قحط
موج موج مہر
ڳوڻ گون بوری
رڍ رڈھ بھیڑ
ساڳي ساگی جیسی
ونڊ ونڈ حصہ
ڳڻتي گنڑتی فکر
نوٹ:۔ براہوی زبان کے الفاظ کے حوالے سے ڈاکٹر واحد بخش بزدار صاحب کی معاونت رہی۔
پشتو زبان اثرات و روابط
پشتو قدیم زبان ہے۔ یہ پختون یا پشتون نامی باشندوں کی زبان ہے۔ اس زبان پر یہ نام کیسے پڑا اس سلسلے میں انوارالحق لکھتے ہیں:
’’جہاں تک زبان کے نام سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ جب سے ا س کے بولنے والے پشتون کہلائے، تب ہی سے ان کی بولی بھی پشتو کہلاتی ہوگی۔‘‘(۸۲)
یونانی موٴرخ ہیروڈوٹس نے پانچویں قبل مسیح میں ’’پے کئی ٹی‘‘ نامی ایک قوم کا ذکر کیا تھا۔ یہی وہ پے کئی ٹی یا پشتون ہیں جن کی زبان کو پشتو پکارتے ہیں۔(۸۳)
سندھی اور پشتو کے لسانی روابط یا ان دونوں زبانوں کے ایک دوسرے پر اثرات کا اگر جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ سندھی اور پشتو زبانوں کے مابین لسانی روابط ہیں پشتو زبان کے معروف اسکالر ڈاکٹر خالد خان خٹک نے ’’سندھی، پشتو، اردو کے لسانی روابط‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر سندھ یونیورسٹی، جام شورو کے شعبہ اُردو سے ۱۹۷۸ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی جو حال ہی میں پشتو اکیڈمی، پشاور یونیورسٹی سے شائع ہوا ہے، جس میں ڈاکٹرصاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سندھی، پشتو اور اُردو قدیم زبانیں ہیں اور ان کے آپس میں گہرے، تاریخی، سماجی، تہذیبی اور لسانی روابط ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’سندھی، پشتو اور اُردو تینوں کا رشتہ بہت قدیم ہے۔ تینوں ایک ہی ماں سے پیدا ہوئیں اور مختلف علاقوں میں آکر ان کے خدوخال میں فرق آتا گیا۔ بعد میں تینوں زبانوں پر ایک ہی قسم کے اثرات پڑے۔ جن سے یہ برابر متاثر ہوتی رہیں۔‘‘(۸۴)
وہ مزید لکھتے ہیں کہ:
’’بنیادی طور پر تینوں زبانیں بولنے والے ایک ہی تہذیب و تمدن کی لڑی میں پروے ہیں۔ تا ہم تینوں نے اپنی انفرادیت برقرار رکھی ہے۔ جن سے ان کی پہچان کی جاسکتی ہے۔‘‘(۸۵)
جہاں تک سندھی زبان پر پشتو زبان کے اثرات کا تعلق ہے تو اس ضمن میں بھیرومل مہرچند آڈوانی اپنی تصنیف ’’سندھی بولی جی تاریخ‘‘ میں ڈاکٹر ارنیسٹ ٹرمپ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
ترجمہ:
’’ڈاکٹر ٹرمپ جس نے سندھی زبان کا نہایت عمدہ گرامر لکھا، اسی نے پشتو زبان کا گرامر بھی لکھا ہے ۔اس گرامر کی ابتدا میں اس صاحب نے لکھا ہے کہ جو خالص پشتو الفاظ کہلاتے ہیں ان میں بہت سے پڑوسی پراکرت زبانوں خاص طور پر سندھی کچھ قدر پنجابی سے لیے ہیں۔ اس کے علاوہ پشتو زبان کے اسماء کے گردانوں اور افعال کے گردانوں کی ترتیب سندھی نمونوں سے بہت قریبی مشابہت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ پشتو میں جو متعدی معروف اور بالواسطہ افعال، زمان ماضی میں استعمال ہوتے ہیں، ان کی تمام بناوٹ (Structure) سندھی طرز پر ہے۔ یہ بالکل اہم باتیں ہیں جو سندھی کا پشتو زبان پر گہرے اور زیادہ اثرات کو ثابت کرتے ہیں۔‘‘(۸۶)
بھیرومل نے سندھی کے پشتو زبان پر اثرات کے حوالے سے کچھ الفاظ بھی دیئے ہیں جو ذیل میں درج ہیں:
سندھی پشتو اردو
اڱڻ انگن آنگن
ٽوڪ توکھ طنز
ڳڻڻ گنرل گننا
ڀنگ بنگ بھانگ
ڏڪار دکال قحط
منگهڻ منگنڑ کھٹمل
ڌڪ تق مارنا
کٽ کت چارپائی
هڏ ہڈ ہڈی(۸۷)
ڈکٹر حنیف خلیل، پشتو اور سندھی کے تعلق کے سلسلے میں ’’پشتو زبان و ادب کی تاریخ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’سندھ میں نہ صرف آج کل بڑی آبادی پشتونوں کی موجود ہے بلکہ ایک زمانے میں پشتون سندھ میں جاگیردار اور حکمران بھی رہے ہیں۔ اس وجہ سے سندھی کے ساتھ پشتو کا لسانی لین دین رہا ہے۔ کچھ اشتراکات مندرجہ ذیل ہیں:
پشتو سندھی
سہ حال دے چھا حال آہے
جوڑ تکڑہ جوڑ تکڑو
ستا نوم سہ دے تنہنجو نالو چھا آہے(۸۸)
حنیف خلیل کی بات درست ہے کہ سندھی میں پشتونوں کی بڑی آبادی روزگار کی وجہ سے آباد ہے۔ مگر یہ کہنا کہ سندھی میں پشتون جاگیردار اور حکمران رہے ہیں۔ اس سے یہ اختلاف کیاجاسکتا ہے کیونکہ پشتونوں نے کبھی بھی پورے سندھ پر حکومت نہیں کی۔ ہاں نادرشاہ اور احمدشاہ ابدالی نے سندھ پر حملے کیے اور سندھ کا سکھر اور شکارپور کا حصہ افغانستان کے زیرِ تسلط رہا۔ پورا سندھ کبھی بھی پشتون کے قبضے میں نہیں رہا۔
سندھی اور پشتو کے صرف و نحو کا ڈھانچا ایک ہے۔ الفاظ کا بہت بڑا ذخیرہ مشترک ہے۔ اس ضمن میں ’’ہفت زبانی لغت‘‘ جو مرکزی اردو بورڈ لاہور نے۱۹۷۴ء میں شائع کی۔ یہ سندھی پشتو کے الفاظ کے لئے رہنما لغت ہے۔ اس طرح ’’نوزبانی لغت‘‘ بھی مرکزی اردو بورڈ لاہور کی جانب سے شائع ہوئی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کے ساتھ پریشان خٹک اور حاجی پر دل خٹک کی مرتب کردہ ’’اٹوٹ لسانی رابطہ‘‘ بھی اس ضمن میں اہم لغت ہے۔
پنجابی زبان اثرات و روابط
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی زبان کو پنجابی کہا جاتا ہے۔ پنجابی بھی بہت قدیم زبان ہے۔ تا ہم اس کو یہ نام بہت بعد میں دیا گیا۔ پنجابی کا یہ نام پانچ دریاؤں جہلم، چناب، راوی، ستلج اور بیاس کی وجہ سے پڑا ہے۔ پنجاب فارسی کے دو الفاظ (پنج +آب) کا مرکب ہے۔ فارسی کے اس لفظ ’’پنجاب‘‘ کی وضاحت اکرام علی ملک یوں کرتے ہیں:
’’پنجاب ایک فارسی اصطلاح ہے اور اس کے لغوی معنی پانچ پانی یعنی پانچ دریاؤں سے سیراب ہونے والی سرزمین ہے۔ قدیم زمانے میں بھی یہ خطہ اپنے دریاؤں کی وجہ سے ہی منسوب و مشہور تھا۔ اس اعتبار سے سب سے پہلے اس کا ذکر یجر (Yajur) وید میں ملتا ہے رگ وید میں اس کے لیے دو اصطلاحات ’’سپتا سندھو‘‘ (Sapta Sindhu) یعنی دریائے سندھ اور اس کی چھ شاخوں کی سرزمین اور پنج جنا(Panj janna) یعنی پانچ اقوام (قبیلوں) کی سرزمین استعمال کی گئی ہیں۔ مہا بھارت اور رامائن میں اس خطے کے لیے پنج نادا (Panj Nada) یعنی پانچ ندیوں کی اصطلاح ملتی ہے۔ چنانچہ پنجاب کا لفظ درحقیقت اسی اصطلاح کا فارسی ترجمہ ہے۔‘‘(۸۹)
پنجابی کا لفظ بطور زبان پہلی مرتبہ حافظ برخوردار نے اپنی کتاب ’’مفتاح الفقہ‘‘ ۱۸۸۰ ھ میں استعمال کیا ۔ جیسے:
حضرت نعمان دا فرمایا اس وچ اُہ مسائل
ترت پنجابی آکھ سنا دیں جے کو ہووے مائل (۹۰)
جہاں تک سندھی اور پنجابی زبان میں لسانی ہم آہنگی کا سوال ہے تو دونوں زبانوں میں لسانی حوالے سے کافی حد تک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب وادی سندھ کی قدیم تہذیب ہے۔ جہاں ان دونوں زبانوں نے ارتقائی مراحل طے کیے۔ اس ضمن میں عین الحق فرید کوٹی کی تصنیف ’’اُردو زبان کی قدیم تاریخ‘‘ بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے علاوہ پنجابی اورسندھی کے درمیان لسانی ہم آہنگی پر جمیل احمد پال نے ایم فل کا تحقیقی مقالہ بعنوان ’’سندھی تے پنجابی زباناں وچ لسانی سانجھ‘‘ پنجابی میں لکھا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو دونوں زبانوں کا لسانی گروہ ایک ہے یعنی دونوں ہند آریائی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ دونوں زبانوں پر قدیم زبانوں جیسے منڈاری، دراوڑی، آریائی، یونانی، ترکی، فارسی، عربی وغیرہ زبانوں کے یکساں گہرے اثرات پائے جاتے ہیں۔ دونوں زبانوں کا صرف و نحوی ڈھانچہ ایک جیسا ہے۔ سب سے نمایاں بات کہ دونوں میں بیشمار الفاظ باہم مشترک پائے جاتے ہیں۔
ذیل میں چند مشترک الفاظ ملاحظہ کیجئے:
سندھی پنجابی اردو
کنڊ کھنڈ چینی
ڪڻڪ کنک گندم
لسي لسی لسی
چنڊ چن چاند
طوفان طوفان طوفان
پيءُ پیو باب
ڀيڻ پینڑ بہن
پُٽ پتر بیٹا
نُنهن نونہہ بہو
مٿو متھا سر
ليکڪ لکھاری مصنف
سيارو سیالا سردی
مڇي مچھی مچھلی
ڪڪڙ ککڑ مرغی
ٿوم تھوم لہسن
اس کے علاوہ بہت سے اصطلاحات، ضرب الامثال، نحوی و صرفی اشتراکات دونوں زبانوں میں پائے جاتے ہیں۔
مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ سندھی زبان کی ساخت میں قدیم، اُن کے ہمسایہ اور حاکمانہ زبانوں نے بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ان اثرات کی وجہ سے پاکستان کی دیگر زبانوں اور سندھی زبان کے آپس میں گہرے لسانی روابط پائے جاتے ہیں۔
v......v......v
حوالہ جات
۱۔ الانا، غلام علی، ڈاکٹر، زبان اور ثقافت، اسلام آباد، علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی، ۱۹۸۷ء، ص ص۔۷۷۔۷۸
۲۔ میمن عبدالمجید سندھی ، ڈاکٹر ، لسانیات پاکستان ، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان ، ۲۹۹۲ء ص:۴۶
۳۔ فرید کوٹی، عین الحق، ، اردو زبان کی قدیم تاریخ ، طبع دوم، لاہور ،اور ینٹ ریسرچ سنٹر ، ۱۹۷۹ء ، ص:۹۶
۴۔ ایضاً:ص:۹۸
۵۔ ایضاً
۶۔ ایضاً:ص ص:۱۰۴تا ۱۰۸
۷۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر ، لسانیات پاکستان،ص ص:۵۱۔۵۳
۸۔ بھیرومل مہر چند، آڈوانی، سندھی بولی جی تاریخ، (سندھی) جام شورو، سندھی ادبی بورڈ، سندھ، طبع ششم، ۲۰۰۴ء ، ص:۱۲
۹۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر، لسانیات پاکستان، ص:۴۴
۱۰۔ سجاد حیدر، پروفیسر ،ڈاکٹر، سرائیکی زبان و ادب کی مختصر تاریخ، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، ۲۰۰۱ء، ص:۱۰
۱۱۔ زور، سید محی الدین قادری ڈاکٹر، ہندوستانی لسانیات، لاہور، مکتبہ معین لادب، طبع دوم، ۱۹۵۰ء، ص:۷۸
۱۲۔ فرید کوٹی، عین الحق، اردو زبان کی قدیم تاریخ ، ص:۱۳۴
۱۳۔ ایضاً،ص:۲۱۸
۱۴۔ ایضاً
۱۵۔ ایضاً،ص:۱۳۲
۱۶۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر، لسانیات پاکستان، ص ص:۵۵۔۶۰
۱۷۔ ایضاً،ص:۶۴
۱۸۔ ایضاً،ص ص:۶۵۔۶۷
۱۹۔ زور سید محی الدین قادری، ہندوستانی لسانیات، ایضاً، ص:۵۷
۲۰۔ ایضاً،ص:۵۸
۲۱۔ ایضاً،ص:۵۴
۲۲۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر ،لسانیات پاکستان، ایضاً، ص:۶۸۔
۲۳۔ ایضاً،ص ص:۶۹۔۷۰
۲۴۔ ایضاً، ص۔۷۲
۲۵۔ فرید کوٹی، عین الحق، مقالہ ، ’’پنجابی زبان کا پس منظر‘‘، مشمولہ، پنجابی زبان و ادب کی مختصر تاریخ، مرتبہ: انعام الحق جاوید ، ڈاکٹر ، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، ۱۹۹۷ء، ص:۱۹
۲۶۔ ایضاً، ص۔۳۴
۲۷۔ الانا، خواجہ غلام علی، سندھی صورتخطی (سندھی) حیدرآباد، سندھی زبان پبلی کیشن، طبع سوم، ۱۹۶۹ء، ص۱۰۴
۲۸۔ ایضاً
۲۹۔ ایضاً، ص ص۔۱۰۵۔۱۰۶
۳۰۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر ،لسانیات پاکستان، ایضاً، ص:۷۲
۳۱۔ ایضاً، ص۔۷۳
۳۲۔ ایضاً، ص۔۷۴
۳۳۔ ایضاً، ص۔۵۷
۳۴۔ ایضاً، ص۔۷۶
۳۵۔ ایضاً، ص ص۔۷۷۔۸۱
۳۶۔ ایضاً، ص ص۔۸۲۔۸۳
۳۷۔ ایضاً، ص ص۔۸۴۔۸۵
۳۸۔ شبلی، محمد صدیق خان، ڈاکٹر، اردو کی تشکیل میں فارسی کا حصہ، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، ۲۰۰۴ء، ص۔۱
۳۹۔ ایضاً، ص۔۲
۴۰۔ ایضاً، ص۔۴
۴۱۔ مرثی، محمد کیو، مقالہ: ’’اردو پر فارسی زبان کے اثرات‘‘، مشمولہ پاکستان کی قومی اور علاقائی زبانوں پر فارسی کا اثر (مرتبہ: سید غیور حسین)، پشاور، خانۂ فرہنگ جمہوریہ اسلامی ایران، ۲۰۰۵ء، ص۔۶۲
۴۲۔ شبلی، محمد صدیق خان، ڈاکٹر، ایضاً، ص۔۴
۴۳۔ ایضاً، ص۔۵
۴۴۔ ایضاً، ص۔۶
۴۵۔ شوق، نواز علی، ڈاکٹر، مقالہ: ’’فارسی زبان کے سندھی زبان و ادب پر اثرات‘‘، مشمولہ، ایضاً، ص ص۔۲۲۸۔۲۲۹
۴۶۔ ایضاً
۴۷۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر ،لسانیات پاکستان، ایضاً، ص:۸۵
۴۸۔ شبلی، محمد صدیق خان، ڈاکٹر، ایضاً، ص ص۔۲۴۔۲۷
۴۹۔ ایضاً، ص ص۔۱۷۸۔۱۸۸
۵۰۔ عابدہ حنیف، مقالہ: ’’ترکی اردو کے مشترک الفاظ کا جائزہ‘‘، مشمولہ اردو ترکی لغت ، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان پاکستان،۲۰۰۴ء
۵۱۔ ایضاً
۵۲۔ فرید کوٹی، عین الحق، اردو زبان کی قدیم تاریخ ، ایضاً، ص:۲۴۹
۵۳۔ ایضاً
۵۴۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر ،لسانیات پاکستان،ایضاً، ص:۸۹
۵۵۔ فرید کوٹی، عین الحق ، اردو زبان کی قدیم تاریخ ، ایضاً، ص:۲۷۴
۵۶۔ ایضاً، ص:۲۷۵
۵۷۔ عابدہ حنیف، مقالہ: ’’ترکی اردو کے مشترک الفاظ، ایضاً
۵۸۔ فرید کوٹی، عین الحق، اردو زبان کی قدیم تاریخ ، ایضاً،ص:۲۸۸
۵۹۔ ایضاً، ص:۲۸۹
۶۰۔ ایضاً، ص:۲۹۰
۶۱۔ ایضاً، ص:۲۹۱
۶۲۔ ایضاً، ص ص:۲۹۲۔۲۹۴
۶۳۔ ایضاً، ص:۲۹۵
۶۴۔ ایضاً، ص:۲۹۶۔۲۹۸
۶۵۔ بھیرومل مہر چند، آڈوانی، سندھی بولی جی تاریخ، ایضاً، ص۔۱
۶۶۔ ایضاً، ص:۲۱۶
۶۷۔ براہوئی، عبدالرحمان، ڈاکٹر، انگریزی پر اردو کا اثر، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، ۱۹۹۷ء، ص۔۱۱
۶۸۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر ،لسانیات پاکستان، ایضاً۔ ص:۹۰
۶۹۔ عطش درانی، ڈاکٹر، مقالہ: ’’اردو زبان کی ترقی کا پس منظر‘‘ مشمولہ: اردو جدید تقاضے، نئی جہتیں، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، ۲۰۰۶ ، ص۔۷۱
۷۰۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر ،لسانیات پاکستان، ایضاً، ص:۹۱
۷۱۔ ایضاً
۷۲۔ الانا، غلام علی، ڈاکٹر، زبان اور ثقافت، ایضاً، ص ص:۱۰۲۔۱۰۶
۷۳۔ ایضاً،ص۔ ۱۰۷
۷۴۔ ایضاً،ص۔ ۱۰۸۔۱۱۰
۷۵۔ ایضاً، ص۔ ۱۱۱۔۱۱۹
۷۶۔ گل محمد گل، بلوچ ملیری، مضمون: ’’بلوچ و بلوچی اور شاہ‘‘، مشمولہ برگِ گل (شاہ لطیف بھٹائی نمبر)، کراچی، وفاقی گورنمنٹ اردو کالج، ۱۹۹۴ء، ص۔۲۴۱
۷۷۔ ایضاً
۷۸۔ بھیرومل، مہرچند آڈوانی، سندھی بولی جی تاریخ، ص۔۳۵۱
۷۹۔ ایضاً، ص۔۳۵۲
۸۰۔ صبا دشتیاری، پروفیسر، ’’پیش لفظ‘‘، کتاب: گپ ء ُ تران، مصنف، عبدالخالق خالد، کوئٹہ، بلوچی اکیڈمی، ۲۰۱۰ء، ص۔۹
۸۱۔ عبدالرحمان براہوئی، ڈاکٹر، براہوئی زبان و ادب کی مختصر تاریخ، لاہور، مرکزی اردو بورڈ، ۱۹۸۲ء، ص۔۴۴
۸۲۔ انوارالحق سید مقالہ: ’’پشتو زبان‘‘ مشمولہ، تاریخ ادبیات مسلمانانِ پاکستان و ہند، تیرہویں جلد،لاہور، پنجاب یونیورسٹی، ۱۹۷۱ء، ص۔۱۹
۸۳۔ سندھی، غلام حیدر، ڈاکٹر، پاکستان کا لسانی جغرافیہ، اسلام آباد، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز، قائد اعظم یونیورسٹی،۲۰۰۵ء، ص۔۹۷
۸۴۔ خٹک، خالد خان، ڈاکٹر، سندھی، پشتو، اردو کے لسانی روابط، پشاور، پشتو اکیڈمی، پشاور یونیورسٹی،۲۰۰۷ء، ص۔۴۴۳
۸۵۔ ایضاً، ص۔
۸۶۔ بھیرومل، مہرچندآڈوانی،’’ سندھی بولی جی تاریخ‘‘، ص۔۳۵۲
۸۷۔ ایضاً
۸۸۔ حنیف خلیل، پشتو زبان و ادب کی تاریخ (ایک خاکہ)، پشاور، یونیورسٹی بکس پبلشرز، ۲۰۰۹ء، ص۔۳۲
۸۹۔ ملک، اکرام علی، تاریخ پنجاب، جلد اول (قدیم زمانہ تا ۱۸۵۷ء)، لاہور، سلمان مطبوعات، جون ۱۹۹۰ء، ص۔۱
۹۰۔ اعوان، انور بیگ، دھنی ادب و ثقافت، چکوال، بزم ثقافت، ۱۹۶۸ء، ص۔۱۷۹
v......v......v