Video

پیش لفظ

زبان ایک دوسرے کو قریب لانے، تعلق قائم رکھنے اور آپس میں محبت بڑھانے کا ایک وسیلہ ہے۔ زبان کے ذریعے ہی انسان اپنے احساسات جذبات، خیالات ایک دوسرے تک پہنچاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں تقریباً ۶۰۰۰ سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہمارے ملک پاکستان کو جہاں اﷲ تعالیٰ نے دیگر نعمتوں سے نوازا ہے وہاں زبانوں کی دولت سے بھی نوازا ہے۔ لسانی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ۵۰ سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔

          ان زبانوں میں سے سندھی بھی ایک قدیم اور شاہوکار زبان ہے جو اپنے ذخیرہ الفاظ، لوک ادب اور معیاری ادب کے خزانے سے مالامال ہے۔ جس کو شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست ، سامی، مرزا قلیچ بیگ، علامہ آئی ۔ آئی قاضی، شیخ ایاز، ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ جیسے شعراء، ادباء اور علماء نے اپنی تخلیقات سے مالا مال کیا ہے۔

          ۱۸۴۳ ء میں جب انگریزوں نے سندھ کو فتح کیا تو انہوں نے سندھی زبان کو سرکاری اور تعلیمی زبان کا درجہ دیا، تب سے سندھی زبان پر جدید سائنٹفک تحقیق شروع ہوئی جو اب تک جاری ہے۔ سندھی زبان پر لسانیات کے حوالے سے کافی تحقیق ہو چکی ہے۔ جس میں بیرونی اور مقامی اسکالرز شامل ہیں۔ جنہوں نے سندھی زبان کے مختلف پہلوؤں کو انگریزی، اردو سندھی اور دیگر زبانوں میں تحریر کیا ہے۔ مذکورہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

          راقم سندھی زبان کا طالب علم ہے۔ اور سندھی زبان کے مختلف پہلوؤں پر کچھ عرصے سے مطالعہ کرتا آرہا ہے۔ لہٰذا ذہن میں یہ تصور اُبھرا کہ سندھی زبان کے متعلق اردو میں کوئی ایسی کتاب تحریر کی جائے جس میں تمام پہلوؤں پر مختصر مگر جامع معلومات فراہم کی جائیں، کیونکہ سندھی زبان کے متعلق اردو زبان میں بہت کم کتب لکھی گئیں ہیں لہٰذا  اس کمی کو پورا کرنے کے لیے راقم نے ۲۰۰۷ ء سے  مذکورہ کتاب پر کام کا آغاز کیا اور اس کو تکمیل تک پہچایا۔

          مذکورہ کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں سندھی زبان کا تعارف اور سندھی زبان کے اصل نسل کے متعلق بیرونی خواہ مقامی ماہرینِ لسانیات کے نظریات، سندھی زبان کی قدامت ، ذخیرۂ الفاظ اور سندھی زبان کی خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے۔

          دوسرا باب ’’سندھی رسم الخط‘‘ سے متعلق ہے۔ جس کے آغاز میں رسم الخط، اس کی ابتدا، زبان اور رسم الخط اور پھر سندھی زبان کی رسم الخط کی مختصر تاریخ بیان کرکے موجودہ رسم الخط کا جائزہ لیا گیا ہے۔

           تیسرا باب سندھی زبان کے مختلف لہجوں کے بارے میں ہے۔ جس میں لہجے کے لغوی معنی، لہجہ کی تعریف، زبان اور لہجہ کے درمیان فرق کو بیان کرکے سندھی زبان کے مختلف لہجوں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ کن کن علاقوں میں بولے جاتے ہیں اور ہر لہجہ کی نمایاں خصوصیات کیا ہیں، اس کی وضاحت کی گئی ہے۔

          چوتھا باب سندھی زبان پر دیگر زبانوں کے اثرات اور روابط سے متعلق ہے۔ جس میں پہلے تو زبانوں کے ایک دوسرے پر اثرات کے اسباب کو مختصر طور بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سندھی زبان پر جن جن زبانوں نے اثرات مرتب کئے ہیں اور جن زبانوں کے ساتھ سندھی زبان کے لسانی روابط ہیں ان کو مختصر طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ان زبانوں میں منڈاری، دراوڑی، سنسکرت، عربی، فارسی، ترکی، جپسی، یونانی، پرتگیزی، انگریزی، اردو، گجراتی، سرائیکی، پنجابی، پشتو، بلوچی اور براہوئی زبانیں شامل ہیں۔

          پانچواں باب ’’سندھی زبان پر تحقیق‘‘ سے متعلق ہے جس میں ابتدا سے لیکر اب تک جتنی بھی سندھی زبان پر تحقیق ہوئی ہے اس کو مختصر طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ جن لسانی ماہرین نے سندھی زبان کے حوالے سے جو جو تحقیق کی ہے اُس کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے اور آخر میں جو سرکاری اور خانگی ادارے سندھی زبان اور ادب کی ترقی اور ترویج میں کردار ادا کر رہے ہیں ان کی خدمات کومختصر طور پر بیان کیا گیا ہے۔

          چھٹا باب ’’سندھی گرامر‘‘ سے متعلق ہے جس میں سندھی صرف و نحو کے بنیادی اصول مثالوں کے ذریعے بیان کئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چند ضرب الامثال، اصطلاحات اور تشبیہات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ آخر میں سندھی لغت نویسی کی کاوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

          ساتویں باب میں سندھی زبان کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے حوالے سے مختصر احوال قلم بند کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ضمیمہ دیا گیا ہے جس میں سندھی زبان پر پی ایچ ڈی کرنے والے اسکالرز کی فہرست اور سندھی زبان سیکھنے کے لیے جو کتب لکھی گئی ہیں ان کی فہرست شامل ہے۔ آخر میں ببلوگرافی دی گئی ہے۔

          مذکورہ کتاب تحریر کرنے میں راقم نے حتی الوسع کوشش کی ہے۔ تاہم اس میں بہت سی غلطیاں اور خامیاں رہ گئی ہونگی۔ امید کرتا ہوں کی قارئین اس کتاب کے مطالعے کے بعد ان خامیوں اور غلطیوں کی نشاندہی کریں گے۔ تاکہ آئندہ کے لیے ان کی تصحیح عمل میں لائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ آخر میں ان تمام احباب کا بالخصوص اپنے دوست علی گل سوہو  کا مشکور ہوں، جن کی معاونت اوردعاوٴں کے باعث اس کتاب کو مکمل کرسکا ہوں۔

 

سندھی زبان کا طالب علم

 

ڈاکٹرمنظور علی ویسریو

نپس، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد

۳۰ اگست ۲۰۱۷ء