Video

باب ۔۲

سندھی رسم الخط

رسم الخط

اللہ تعالیٰ نے جن صفات کی بِنا پر انسانو ں کو حیوانو ں پر فضیلت بخشی ہے وہ تکلّم اور تفکرّ ہیں۔ انسان اپنے دل کی بات کو زبان سے ظاہر کرنے پر قادر ہے۔ زبان   انسانوں کے درمیان گفتگو کا ذریعہ ہے۔ زبان نوعِ انسانی کا خاص امتیاز ہے۔ ترقی اور کامیابی کی جانب دوسرا قدم انسان نے اس وقت اُٹھایا جب اس نے تحریر کافن ایجاد کیا۔ جب وہ اپنی گفتگو کو قلم بند کرنے پر قادر ہو گیا۔ تحریر کے ذریعے انسان نے افکار وخیالات اور علوم و فنون کو محفوظ کر لیا۔ فنِ تحریر میں کمال حاصل کرنے کے بعد ہی علوم و فنون اور تہذیب و تمدن نے ترقی کی ہے۔ فنِ تحریر کے لیے رسم الخط کا ہونا ضروری ہے۔ رسم الخظ کی تعریفیں مختلف محققین نے اپنے اپنے انداز سے کی ہیں، ابو الاعجاز صدیقی کے مطابق :

’’کسی زبان کی آوازوں اور کلمات کو ضبطِ تحریر میں لانے کے لیے جو مربوط  نظام وضع کیا جاتا ہے اسے رسم الخط کہتے ہیں۔‘‘ (۱)

ڈاکٹر محمد عبدالرحمان بارکر بیان کرتے ہیں:

’’رسم الخط تحریری علامتوں کے اُس نظام کو کہتے ہیں جس میں ہر علامت زبان کی کسی اکائی کی نمائندہ ہوتی ہے۔‘‘  (۲)

پروفیسر محمد سجاد مرزا  اس ضمن میں لکھتے ہیں:

’’رسم الخط سے مطلب ایسی علامات سے ہے جو انسان کسی مقررہ طریقے کے موجب اپنے خیالات اور واقعات کے تحفظ اور ان کے اظہار اور ترسیل کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ‘‘(۳)

بشیر محمود اختر کے خیال میں:

’’حروف جو تلفظ کی ادائیگی اور اظہار مطلب کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اپنی منظم اور مربوط شکل میں رسم الخط کہلاتے ہیں۔‘‘(۴)

عبد اللہ جان عابد ’’رسم الخط‘‘ کی تعریف ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

’’حروف کی جو شکل کسی زبان کی تحریر کے لیے اختیار کی جاتی ہے، اسے اس زبان کا رسم الخط کہتے ہیں۔‘‘(۵)

پروفیسر ڈاکٹر ٖغلام علی الانا حروف تہجی، صورتخطی اور رسم الخط میں فرق کو یوں بیان کرتے ہیں:

’’تحریری نشانات یا علامات کی ایسی ترتیب جس میں کسی زبان کے علیحدہ علیحدہ آازوں کے علیحدہ علیحدہ تحریری علامات کو ایک جگہ دکھایا گیا ہو، حروف تہجی کہلاتا ہے، کسی بھی زبان میں الفاظ اور جملوں کی تحریر کے لیے آوازوں کی تحریری صورتوں کو ایسے طریقے سے استعمال کرنا کہ وہ تحریر پورے ملک کے لیے ایک جیسی معیاری اور درست ہو، صورتخطی ہوتی ہے، جبکہ رسم الخط کا مطلب ہے تحریر کا رواج۔ رسم الخط اور صورتخطی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ صورتخطی پوری ملک کے عوام کے لیے ایک ہی ہوتی ہے اور اسی رسم الخط کو پورے ملک میں ہر قوم، قبیلہ اور ہر علاقے کے لوگ اختیار کرتے ہیں۔ اسے اکثر سرکاری درجہ حاصل ہوتا ہے، مگر رسم الخط کے لیے یہ شرط ضروری نہیں۔‘‘(۶)

مندرجہ بالا تعریفات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ، ’’رسم الخط، کسی زبان کی آوازوں کی علامات کا وہ نظام ہے جس کے ذریعے وہ زبان تحریری صورت میں لائی جائے۔ ‘‘

رسم الخط کا آغاز

رسم الخط کا آغاز کیسے اور کس طرح ہوا، اس حوالے سے بشیر محمود اختر یوں لکھتے ہیں:

’’رسم الخط کے آغاز کے متعلق عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ انسان ابتداً اپنی بات سمجھانے کے لیے نقوش و تصاویرسے مدد لیتا تھا۔ ٹھوس اشیاء کی حد تک تو یہ نقوش و تصاویر کار آمد ثابت ہوئی ہوں گی لیکن اپنے جذبات اور احساسات کے اظہار میں انسان نے دشواری محسوس کی ہوگی اور ان کے لیے بھی رفتہ رفتہ اس نے کچھ نہ کچھ نقش اور علامتیں وضع کرلی ہوںگی۔ اس تصویری رسم الخط میں اتنی ہی علامتیں بعد میں حرفوں کی شکل میں نمودار ہوئیں۔ حرفوں کا یہی سلسلہ  رسم الخط کہلایا۔‘‘(۷)

رسم الخط کا مؤجد

رسم الخط کی ایجاد کے ضمن میں ڈاکٹر غلام علی الانا عربی لسانیات کے ماہر پروفیسر طاہر علی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

 ’’رسم الخط کی ایجاد کا سہرا اہلِ مصر کو جاتا ہے اور اسے اہلِ فنیشیا نے بام عروج تک پہنچایا۔‘‘(۸)

زبان اور رسم الخط

زبان دراصل وہ آئینہ ہے جس میں کسی قوم کے افکار و خیالات، تہذیب و معاشرت اور عقائد و نظریات پوری طرح منعکس ہوتے ہیں۔ زبان محض روزمرہ کی زندگی میں کام آنے والا ہی ایک آلہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے ماضی، حال اور مستقبل تینوں ادوار کی محافظ و امین ہوتی ہے اسی سے قوم کے افراد کے خیالات میں یک رنگی وہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ اسی سے ایک دوسرے کے دل میں مہرو محبت کے جذبات نشو ونما پاتے ہیں اور آپس کی ہمدردی اور یگانگت اس کی رہن منت ہیں۔ غرض مختلف قلوب کو ملانے اور خیالات میں یکسانیت پیدا کرنے میں اس کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے۔ اِسی طرح کی اہمیت رسم الخط کی بھی ہوتی ہے۔ بقول سید مصطفیٰ علی بریلوی:

’’رسم الخط کا مسئلہ بھی زبان سے کچھ کم اہم نہیں ہے۔ رسم الخط اور زبان میں جسم و جان کا سا تعلق ہے ہر زبان کا رسم الخط اس زبان کے مزاج کے عین مطابق ہوتا ہے۔ کسی زبان کی مختلف خصوصیات کو اس کا اپنا رسم الخط ہی کچھ اچھی طرح ظاہر کر سکتا ہے۔ دوسرا کوئی رسم الخط اس زبان کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ اگر کسی زبان کا رسم الخط تبدیل کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس زبان کی اپنی خصوصیات فنا ہوجائیں اورزبان کا اپنا مزاج او اُسلوب بگڑ جائے گا اور یہ بگاڑ بعض اوقات اتنا مہلک ثابت ہوتا ہے کہ اس کی بِنا پر وہ زبان فنا کی منزل پر جا پہنچتی ہے۔‘‘(۹)

اگر زبان کو روح کہا جائے تو رسم الخط اس کا جسم ہے۔ اس طرح کسی بھی زبان کے رسم الخط کو اس زبان کا لباس کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ ہر زبان اپنے پسندیدہ رسم الخط سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا لگاؤ ہے جسے فطری کہنا بجا ہوگا البتہ جس طرح زبان میں زمانے کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں اس طرح رسم الخط بھی اپنی پہلی حالت پر قائم نہیں رہتا۔ اس میں بھی تغیر و تبدل کا ہونا لازم ہے۔ چنانچہ رسم الخط میں بھی فطری ارتقا کا عمل جاری وساری رہتا ہے اور کافی غور وفکر کے بعد ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اس زبان کے لیے جزو لاینفک کی حیثیت رکھتا ہے۔ زبان اور رسم الخط کے سلسلے میں سید مصطفی علی بریلوی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے زبان اور رسم الخط کے متعلق خیالات کو یوں بیان کرتے ہیں:

’’ایک قوم کی زبان اور اس کا رسم الخط اس کی تہذیب اور اس کی قومیت کی بقا و فنا میں فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ کسی قوم کو اگر آپ دوسری قوم میں تبدیل کر دینا چاہیں، تو اس کی زبان اور رسم الخط کو بدل دیجیے، رفتہ رفتہ وہ خود بخود دوسرے سانچے میں ڈھلتی چلی جائے گی۔ اس کی آنے والی نسلوں کا تعلق اپنے اسلاف سے منقطع ہوجائے گا اور وہ بالکل نئی ذہنیت، نئے افکار اور نئی صورت قومی لے کر اٹھے گی۔ جن جن لوگوں نے قوموں کے بنانے اور بگاڑنے کا کھیل کھیلا ہے، ان سب نے یہی ہتھیار ضرور استعمال کیا ہے۔‘‘(۱۰)

مندرجہ بالا خیالات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا کہ حیات قومی و ملی میں زبان اور رسم الخط دونوں ہی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ زبان قوم کے مزاج کا آئینہ ہوتی ہے اور رسم الخط زبان کے مزاج اور اس کی خصوصیات کا محافظ و نگہبان ہے۔

سندھی زبان کا رسم الخط

رسم الخط صرف نشانات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ وہ خود ایک زندہ جسم کی حیثیت سے کسی تمدن میں نمودار ہوتا ہے اور پھر اپنی انفرادیت شان اور خصوصی حُسن کے سبب اِس تہذیب کی جان بن جاتا ہے۔ جس طرح کسی شخص کا لباس اور اس کی مخصوص وضع اس کے مزاج، ذوق وسیرت کے آئینہ دار اور کسی قوم یا علاقہ کی مخصوص ثقافت کے عکاس ہوتے ہیں۔ اِسی طرح کسی زبان کا رسم الخط ایک قوم کے مزاج، سیرت اور بڑی حد تک اس کی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے اپنے رسم الخط کے ذریعے وہ قوم اپنے ماضی، اپنی تہذیبی روایات اور دینی و فکری سر چشموں سے اپنا رشتہ قائم رکھتی ہے۔ سندھی زبان کے رسم الخط کی بھی یہی اہمیت ہے۔

اہلِ سندھ، اپنے رسم الخط ہی کے ذریعے اپنے علمی، تہذیبی اور تاریخی و مذہبی سرچشموں سے واقف اور اپنے ماضی کی روشن روایات سے وابستہ ہیں۔ سندھی زبان، جتنی قدیم ہے، اتنا ہی اس کا رسم الخط قدیم ہے۔ وادیٔ سندھ مسلمانوں کی آمد سے پہلے بھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھی۔ اہلِ سندھ کی اپنی تہذیب، ثقافت، چھاپ اور نشانیاں ہوں گی مخصوص طرزِ حیات، سماجی، تہذیبی و مذہبی قرینے ہونگے۔ ان کے ادب، ان کے فکری اَسالیب اور تحریری نمونے بھی کسی نہ کسی شکل میں ضرور رہے ہونگے۔ ’’موئن جو دڑو‘‘ جو وادیٔ سندھ کی تہذیب کا کھلا دفتر ہے کی کھدائی جہاں وادیٔ سندھ سے متعلق بہت سے معاملات کے حل میں مفید رہی ہے وہاں سندھی رسم الخط کی تاریخ میں بھی نمایاں اہمیت کی حامل ہے۔ اس ضمن میں جو تحقیق ہوئی ہے اس کا مختصر جائزہ ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:

موئن جو دڑو     (Moen-jo-Daro)

موئن جو دڑو (Moen-jo-Daro) سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے ۲۷ کلومیٹر کے فاصلے پر ڈوکری(Dokri) کے مقام پر واقع ہے۔ جسے ایک انگریز عملدار سرجان مارشل (Sir John Marshal)  نے ۲۳۔۱۹۲۲ء میں دریافت کیا۔ موئن جو دڑو کی کھدائی سے بہت سی مہریں، سکے، کتبے اور دیگر اشیاء ملی ہیں جن پر کچھ تحریریں کندہ ہیں جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ آریاؤں کی آمد سے قبل یہاں کے باشندے کوئی زبان بولتے تھے اور نہ صرف وہ زبان بولتے تھے بلکہ اس میں تحریر بھی کرتے تھے مگر اب تک یہ واضح نہ ہوسکا ہے کہ وہ کون سی زبان بولتے تھے اور وہ تحریریں کون سی زبان سے تعلق رکھتی ہیں۔اس سلسلے میں احمد حسن دانی کا حوالہ دے کر ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ یوں رقمطراز ہیں:

’’وادیٔ سندھ کے ثقافتی مرکز موئن جو دڑو کی اپنی ایک ترقی یافتہ زبان تھی۔ جس کو صوری ’تصویری‘ خط میں لکھا جاتا تھا، موئن جو دڑو سے جو مہریں دریافت ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صوری خط اندازاً ۴۷۴ علامتوں اور ۶۳ اعداد پر مشتمل ہے۔‘‘(۱۱)

اس سلسلے میں ڈاکٹر حیدر سندھی لکھتے ہیں کہ:

’’ماہرین آثارِ قدیمہ کو سندھ کے کنڈرات سے آٹھ سو کے قریب ایسی مہریں، کتبے اور دیگر اشیاء ملی ہیں جو سندھی زبان کے مختلف رخوں کو نمایاں کرنے میں بڑی مدد دیتی ہیں۔ ان اشیاء میں بڑی تعداد ان سلیٹوں کی ہے جو پکی مٹی کی ہیں اور ان پر ایک بار لکھنے کے بعد وہ لکھائی مٹاکر دوسری لکھی جاسکتی ہے۔ یہ سلیٹیں تدریسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے انتہائی اہمیت کے قابل اور نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے ترقی یافتہ عمل کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ چیزیں یہاں اس لیے قابل ذکر ہیں کہ ان کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ اہل سندھ پانچ ہزار سال پہلے بھی وسیع پیمانے پر لکھنے پڑھنے میں مصروف تھے۔‘‘(۱۲)

’موئن جو دڑو‘ سے ملنی والی مہریں’موئن جو دڑو‘ کے علاوہ کچھ بھارتی علاقوں اور عراق کے کھنڈرات سے بھی ملی ہیں۔مسٹر میکائے (ماہر آثار قدیمہ) نے عراق میں قدیم شہر کش (Kush) کی کھدایاں کیں اور وہاں سے اسے وادیٔ سندھ کے رسم الخط جیسی مہریں خاصی تعداد میں ملیں۔ مسٹر ہنٹر نے عراق کے کھنڈرات سے ملنے والی ان مہروں کا مطالعہ کیا، جن پر کوئی عبارت کندہ تھی۔ اس نے سندھ کے رسم الخط کا عراق سے ملنے والی اشیاء پرکندہ عبارت سے موازنہ کیا، اس حوالے سے رشید اختر ندوی لکھتے ہیں:

’’وادیٔ سندھ کا رسم الخط عراق سے دستیاب ہونے والے سمیری لوگوں کے رسم الخط سے کافی مشابہت رکھتا ہے۔‘‘(۱۳)

وادیٔ سندھ کے رسم الخط اور عراق کے سمیری تہذیب کے رسم الخط کی قدامت اور ان کے درمیان مشابہت وغیرہ پر تحقیق ہو رہی ہے اوراب تک کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکلا۔

عرب سیاح اور مؤرخ

عرب سیاحوں اور تاریخ دانوں کے سفرناموں اور تاریخی کتابوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عرب حکومت کے ابتدائی دور میں بلکہ اس سے بھی پہلے سندھی زبان عام لوگوں کی روزمرہ کی اور تجارت خواہ بیوپار کی زبان تھی۔ اسلامی حکومت کے ابتدائی دور میں عربی سرکاری زبان کی حیثیت میں دفتری اور انتظامی معاملات کی زبان تھی جبکہ سندھی سندھ کے عام لوگوں، تجارت پیشہ اور علماء میں مقبول تھی۔ وہ نہ صرف بول چال تک محدود تھی بلکہ تحریری طور بھی مستعمل تھی۔اس ضمن میں ڈاکٹر غلام علی الاناجاحظ (۸۶۴ء)کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

’’سندھ (ہند) کے لوگ اور حساب (ریاضی) میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کا ایک خاص سندھی (ہندی) خط ہے۔‘‘ (۱۴)

اِبن ندیم (۹۹۵ء) کے حوالے سے الانا صاحب آگے لکھتے ہیں کہ:

’’سندھ کے لوگوں کی زبانیں اور مذاہب باہم مختلف ہیں اور رسم الخط متعدد ہیں۔ ان کے تقریباً دو سؤ رسم الخط ہیں۔ سندھ کے لوگوں کے پاس ۹ رسم الخط عام رائج ہیں…‘‘(۱۵)

اس ضمن میں البیرونی نے اپنی تصنیف ’’کتاب الہند‘‘ میں سندھ میں مستعمل مختلف رسم الخطوں کا ذکر کیا ہے ، جس کو ڈاکٹر الانا یوں بیان کرتے ہیں:

’’جنوبی سندھ میں مالو شائو (Malawa shau) جو رسم الخط مستعمل ہے اسے ملواڑی کہا جاتا ہے۔ بھمنوا منصورہ میں سئندو رسم الخط استعمال ہوتا تھا، ’’لاڑی‘‘ خط لاڑ ملک میں استعمال ہوتا تھا۔ اردھنا گری رسم الخط بھاٹیا (پنجاب) اور سندھ کے کچھ حصوں میں تحریر ہوتا تھا۔‘‘(۱۶)

عربوں کے حوالے سے ڈاکٹر الانا کے بیان کردہ مندرجہ بالا نہ صرف سندھی زبان اور اس کے رسم الخطوں کا پتہ چلتا ہے بلکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی آمد کے وقت سندھی زبان نہ فقط بولنے کے حد تک محدود نہ تھی بلکہ وہ مختلف قسم کے رسم الخطوں میں تحریر بھی ہوتی تھی۔

 

بھنبھور          (Bhanbhore)

سندھی رسم الخط کے متعلق مزید ثبوت سندھ کے قدیم شہر بھنبھور (Bhanbhore) کی کھدائی سے ملے ہیں۔ بقول ڈاکٹر غلام علی الانا:

’’بھنبھور کی کھدائی سے چند ظروف اور ٹھیکریاں دستیاب ہوئی ہیں جن پر عام استعمال کی چیزوں کے نام درج ہیں جو کہ دو طرح کے رسم الخطوں میں لکھے گئے ہیں اردھناگری اور لوہانکہ یا لاڑی خط۔‘‘(۱۷)

سندھی املا کے یہ نمونے اسلام کی اشاعت سے قبل کے دور کی سندھی زبان کی ٹھوس علامات ہیں۔

خواجکی سندھی

سومرہ دور میں اسماعیلی مبغلین نے ایک رسم الخط بنائی۔ جس کو خواجکی رسم الخط کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں الانا صاحب لکھتے ہیں:

’’سومرہ دور(۱۰۵۰ء ۔ ۱۳۵۰ء) میں جس لوہا نہ (غیر مسلم)قوم نے پیر صدرالدین کی دعوت پر اسلام قبول کیا اور خواجہ (اسماعیلی) کا لقب حاصل کیا۔ اس قوم میں یہ رسم الخط رائج تھا۔ اس میں پیر صدرالدین نے ماترائوں کا اضافہ کیا اور اس کے ساتھ مزید کچھ اضافے اور اصلاح کی اور اسے ’’خواجکی سندھی‘‘ یا ’’چالیھہ اکھری‘‘ (چالیھہ حرفی) کا نام دیا۔ پیر صدرالدین نے اپنے نو مسلم اسماعیلیوں کو دینی اصول و عقائد لکھ کر دینے کے لیے یہ املا ایجاد کیا۔ تاکہ وہ اپنی ہی زبان میں دینی اُصول و عقائد سیکھ سکیں۔‘‘(۱۸)

 

عربی ۔ سندھی رسم الخط

سومرہ دور کے بعد کلہوڑا دور تک یعنی ۱۳۵۱ ء تا۱۷۰۰ ء تک سندھ میں علم و ادب کی ترقی میں حکمرانوں نے دلچسپی لی۔ خاص طور سمہ دور کے حکمران علم و ادب دوست حکمران تھے۔ ملکی خوشحالی کے ساتھ تعلیم عام کرنے کے لیے بھی ان کا کردار تعریف کے قابل ہے۔ اس وقت کے علماء بھی اپنے اپنے مسلک کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے اور عوام میں مقبول بنانے کی غرض سے جو نمایاں سرگرمی دکھا رہے تھے اس میں یہ کوشش بھی شامل تھی کہ سندھی ’’الف ۔ب‘‘ تیار کی جائے اور اسے استعمال کرتے ہوئے اپنا اپنا نقطۂ نظر تحریری صورت میں عوام تک پہنچایا جائے اس سلسلے میں فارسی کے علماء نے فارسی میں اور عربی کے علماء نے عربی میں سندھی لکھی۔ بقول ڈاکٹر حیدر سندھی:

’’جو علماء بنیادی طور پر فارسی کے ماہر تھے۔ انہوں نے فارسی ابجد کی بنیاد پر ’’سندھی‘‘ تیار کی اور جنہوں نے عربی کے ذریعے علمی مہارت حاصل کی تھی انہوں نے عربی ’’الف ۔ ب‘‘ کی بنیاد پر سندھی کو لکھنا شروع کیا۔‘‘(۱۹)

اس ضمن میں ڈاکٹرداؤد پوتہ کا حوالہ دے کر الانا صاحب یوں بیان کرتے ہیں:

’’عربی۔ سندھی خط کا قدیم نمونہ شاہ کریم بلڑائی (۱۵۳۷ء۔ ۱۶۶۳ء) کے مطبوعہ کلام میں ملتا ہے۔ شاہ کریم کے بعد باقی بزرگ شعراء کا کلام بھی عربی۔ سندھی رسم الخط میں تحریر ہے۔‘‘(۲۰)

مخدوم ابوالحسن جی سندھی

عربی۔سندھی رسم الخط کے حقیقی مؤجد مخدوم ابوالحسن تھے۔ جو کلہوڑا دور (۱۷۰۰ء۔ ۱۷۸۳ء) کے بڑے علماء میں سے تھے۔ اُنہوں نے جو رسم الخط ایجاد کیا وہ عام طور پر ’’مخدوم ابوالحسن جی سندھی‘‘ کے نام سے مقبول ہے۔ ان دنوں ٹھٹہ میں بہت سے لوگ مسلمان ہوئے تھے۔ ان میں اکثریت عمر رسیدہ اور بالغ نوجوانوں کی تھی اسی لیے انہوں نے ضروری سمجھا کہ ایسے عمر رسیدہ نو مسلم افراد کے لیے اسلامی اصول ان کی مادری زبان میں لکھے جائیںمگر کہ ان دنوں سندھی کا کوئی مقررہ رسم الخط نہ تھا لہٰذا اُنہوں نے پہلے موزوں رسم الخط ایجاد کرنے کا ارادہ کیا۔ بقول ڈاکٹر الانا:

’’ مخدوم صاحب عربی اور فارسی میں مہارت رکھتے تھے اور سندھی کے لیے عربی رسم الخط کے طرز پر رسم الخط بنانے کے لیے غور کیا۔ انہوں نے ۲۸ عربی حروف، تین فارسی حروف اور باقی سندھی صویتوں کے لیے فارسی اور عربی حروف ملاکر نئے حروف مقرر کئے۔ مخدوم صاحب کی بنائی ہوئی رسم الخط ملاحظہ ہو۔ عربی حروف:

 ا ب ت ث ج ح خ د ذ ر ز س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ڪ ل م ن و ه ي

فارسی حرف: پ چ گ

سندھی صویتوں کے لیے نئے مقرر کردہ حروف

ب                 ڀ            بھ       ٿ            تھ       ت       تر

ٽ                ب،      پھ       ج             ج             نج       د

دھ         ڌ        د         در       ڊ        ک       کھ

گ                گ       نگ   ن

مخدوم صاحب کا بنایا ہوا یہ رسم الخط۱۸۵۳ء تک پورے سندھ میں مستعمل رہا۔(۲۱)

مخدوم صاحب کے بنائے ہوئے اسی رسم الخط میں سندھی کی پہلی کتاب ’’مقدمہ الصلواۃ‘‘ (۱۷۰۰ء) لکھی گئی۔ مخدوم ابوالحسن کو موجودہ سندھی رسم الخط کا مؤجد مانا جاتا ہے مگر اس ضمن میں کچھ محققین کا اس بات سے اختلاف ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر انور فگار ہکڑو، ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ کا حوالہ دے کر یوں رقمطراز ہیں:

’’ موجودہ سندھی۔ عربی رسم الخط کی ابتدا اور ارتقا کی تاریخ ابوالحسن کے دور سے آٹھ، نو سؤ برس پہلے شروع ہوئی تھی کیونکہ سندھی زبان کے لیے سندھی۔عربی رسم الخط عرب اسلامی دور سے لیکر استعمال ہوا۔ ۴ صدی ہجری (۱۰ صدی عیسوی) کے پچھلے نصف میں خاص طور سندھ کے منصورہ خطے میں وہ رسم الخط عام رائج تھا جسے محقق بیرونی کے لکھنے کے مطابق سیندب (سیندھو = سندھی) کے نام سے بولا جاتا تھا۔‘‘(۲۲)

ایک اور جگہ ’’سندھ کی ادبی تاریخ‘‘ کے مصنف کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

’’ابوالحسن کی سندھی سے یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ٹھٹہ کے عالم میاں ابوالحسن نے فارسی اور عربی الفاظ کو ملاکر سندھی حروف تہجی بنائے مگر یہ خیال درست نہیں کہ میاں ابوالحسن نے کوئی خاص رسم الخط بنایا یا خالص سندھی حروف کے لئے انہوں نے خاص اشکال مقرر کیں جو پہلے نہیں تھیں اور بعد میں استعمال ہونے لگیں۔‘‘(۲۳)

مذکورہ حوالوں سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ مخدوم ابوالحسن سے پہلے سندھی۔عربی رسم الخط مروّج تھا۔

سندھی رسم الخط کے مختلف نمونے

          ۱۸ ویں صدی عیسوی تک سرکاری طور پر سندھی زبان کے لیے کوئی بھی رسم الخط مقرر نہ تھا۔ ہندو اور مسلمان تجارت پیشہ لوگ اپنا کاروبار سندھی زبان میں ہی چلاتے تھے۔ ہندو دیوناگری طرز کی بنی ہوئی ہندو۔سندھی صورتخطی استعمال کرتے تھے جسے بھی کئی طریقوں سے لکھا جاتا تھا۔ نہ صرف سندھی ہندو مختلف رسم الخط استعمال کرتے تھے، بلکہ مسلمانوں میں بھی خواجا (اسماعیلی) اور میمن اپنی تجارت اور دیگر کاروبار میں علیحدہ علیحدہ رسم الخط استعمال کرتے تھے اس بات کی تصدیق کے لیے ڈاکٹر غلام علی الانا، کیپٹن اسٹیک کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں:

’’سندھ میں سندھی زبان کی تحریری صورت کے لیے مختلف خط استعمال ہوتے ہیں جو سب سنسکرت خط سے ماخذ ہیں اور اسی طرز پر بائیں سے دائیں (left to right) لکھے جاتے ہیں۔ وہ خط یہ ہیں:

۱۔ خداوادی  یا خداآبادی (Khudawadi)   ۲۔شکارپوری  (Shikarpuri)

۳۔  ساکرو    (Sakhru)                 ۴۔ٹھٹائی (Thattai)

i)۔لھانکا خط  ii۔ بھاٹیا خط(

۵۔لاڑائی    (Larai)                   ۶۔ ونگائی  (Wangai)

۷۔راجائی    (Rajai)                    ۸۔خواجکو (Khuwajiko)

۹۔ میمنکو(Memaniko)                 ۱۰۔ سیوہانی بابڑکو

  (i۔ ٹھٹائی  ii۔ حیدرآبادی)

 (Sewhani Bhabhira)  (۲۴)

آگے  برٹن (Burton) کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’وہ خط جن میں سندھی زبان تحریر ہوتی تھی بہت سے ہیں۔ مسلمانوں میں مستعمل سامی خط کے علاوہ بھی تقریباً پانچ خط ہونگے جو سندھ کے ہندو خواہ مسلمان استعمال کرتے تھے۔ مثلاً:

۱۔ خداوادی                ۲۔ ٹھٹائی (i۔ لھانکا،   ii۔ بھاٹیوں والا)

۳۔ سرائی (شمالی سندھ میں مستعمل خط)   ۴۔خواجکو (اسماعیلیوں میں مروج خط)

۵۔میمنکو خط (میمن قوم میں مروج خط)‘‘۔(۲۵)

اس سلسلے میں میمن عبدالمجید سندھی، ’’سندھی ادب کی مختصر تاریخ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’ابھی تھوڑا عرصہ ہوا کہ ایک اہلِ علم کوسنہ ۱۸۷۷ء میں محکمۂ پوسٹ کی جانب سے چھپوایا ہوا ایک رجسٹر ملا ہے۔ جس میں دیسی زبانوں کے املا کے مختلف نمونے ہیں۔ اس میں سندھ میں مروج رسم الخطوں کے نام اس طرح درج ہیں۔ عربی۔ سندھی، عربی۔سندھی کا دوسرا نمونہ، اروڑی، خواجکی، شکارپوری، کراری اور روڑی۔ یہ مقامی خط تھے جو بعض قبیلوں یا شہروں میں رائج رہے۔ انگریزوں کے ابتدائی دور میں حسب ذیل رسم الخط بھی رائج تھے۔

۱۔ خداوادی (خداآبادی)، ۲۔ساکھرو، ۳۔ٹھٹائی، ۴۔ لاڑائی، ۵۔ ونگائی، 
۶۔ راجائی، ۷۔ خواجکو،   ۸۔ میمنکو،  ۹۔ سہوانی بابڑا،۱۰۔سرائی (شمالی سندھ میں مروج)‘‘(۲۶)

 

 

سندھ میں مروج مختلف رسم الخطوں کے نمونے ذیل میں دیئے گئے چارٹوں میں دیکھے جا سکتے ہیں:

(۲۷)

(۲۸)

موجودہ سندھی رسم الخط

۱۸۴۳ء میں انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کیا۔ انگریزوں نے فارسی کے بجائے سندھی کو دفتری اور تعلیمی زبان مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ۱۸۴۵ء میں بمبئی کے بورڈ آف ایجوکیشن نے سندھ میں ایجوکیشنل ایجنسی کے قیام کا مطالبہ کیا۔ اِنہیں دنوں یہ تحریک بھی چل رہی تھی کہ سندھی کو صوبے کی سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے۔ اِسی تحریک نے آخرکار مادری زبان(Vernacular language) میں تعلیم دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ انگریز افسروں میں چند ایک سندھی بول سکتے تھے مگر ان کے عملے میں سے کوئی بھی سندھی تحریر نہیں کر سکتا تھا لہٰذا ملک کا نظام ترجمانوں (Interpreters) کے ذریعے چلتا تھا اور سرکاری ریکارڈ فارسی زبان میں قلم بند کیا جاتا تھا۔ ۱۸۴۸ء میں بمبئی صوبے کے گورنر سرجارج کلرک
  (Sir George Clerk) نے حکم نامہ جاری کیا کہ سندھی زبان کو سرکاری اور دفتری زبان کا درجہ دیا جائے اس حکم نامے کو ڈاکٹر غلام علی الانا نے اپنی کتاب ’’سندھی صورتخطی‘‘ میں یوں بیان کیا ہے:

"We should introduce the language of the country (namely sindhee) as the medium of official intercourse. I do not see in what way our revenue and judicial officers (however their offices and courts may be continued) can work effectually through a foreign medium of communication, such as Persian or English. A period of 18 months should, therefore, be allowed to the officers in civil employ to qualify themselves for an examination in the sindhee language. I believe their doing so will be facilitated by the publication of the dictionary and grammer which I proposed Lieutenant Stack should be allowed to have printed. The recommendation of the commissioner that "early measure to education, as in our other province," is no doubt judicious, but it were premature to take any meausre for farming educational establishments, before our own European administrations have obtained a complete knowledge of the country and before we have trained up persons, fitted to import knowledge in the varnacular tongue."(29)

۱۸۵۱ء میں اُس وقت کے سندھ کے کمشنر بارٹل فریئر نے ایک اطلاع نامہ جاری کیا، اِس حوالے سے ڈاکٹر الانا  یوں بیان کرتے ہیں:

’’۱۸۵۱ء میں کمشنر سندھ سربارٹل فریئر (Sir Bartle Frere) نے ایک اطلاع نامہ جاری کیا، جس میں سرکاری افسروں (Civil officers) کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ سندھی میں امتحان پاس کریں۔ مذکورہ اطلاع نامے میں مندرجہ ذیل نقات بھی شامل تھے:

۱۔ آئندہ تمام سرکاری رکارڈ سندھی میں قلم بند کیا جائے۔

۲۔ یورپی اور دیگر غیر ملکی افسران سندھی میں امتحان پاس کریں تاکہ عوام سے ان کا رابطہ قائم ہو اور سندھی میں تحریر و تدریس بھی کر سکیں۔

۳۔سندھی اسکول کھولے جائیں۔‘‘(۳۰)

اُس وقت سندھی حروف تہجی کی مختلف صورتیں رائج تھیں لہٰذا سندھی کے لیے ایک مقررہ رسم الخط ضروری سمجھا گیا۔ کیونکہ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر مسٹر ایلس
 (Mr. Ellis) کی سرگردگی میں ایک کمیٹی بنائی گئی، تاکہ وہ سندھی رسم الخط کے متعلق مشورے پیش کرے۔ وہ کمیٹی آٹھ مقامی اور دو یورپی ممبران پر مشتمل تھی۔ ان ممبران کے نام یہ تھے:

۱۔  رائے بہادر نارائن داس جگن ناتھ        ۲۔ خان بہادر مرزا صادق علی بیگ

۳۔  دیوان پربھداس انندرام رامچندانی       ۴۔  دیوان ادھارام تھانور داس میرچندانی

۵۔  دیوان نندیرام سیوہانی                 ۶۔  میاں محمد حیدرآبادی

۷۔  قاضی غلام علی                       ۸۔  میاں غلام حسین

۹۔ کیپٹن جارج اسٹیک                    ۱۰۔  کیپٹن رچرڈ برٹن

اُس کمیٹی کے صدر مسٹر ایلس (Mr. Ellis) تھے۔ تمام ممبران کے خیالات ایک دوسرے سے مختلف تھے اور کافی بحث و مباحث کے بعد عربی ۔ سندھی رسم الخط کو رائج کرنے کا فیصلہ ہوا۔ بقول ڈاکٹر الانا:

’’اس کمیٹی کے ممبران کے خیالات متضاد تھے۔ جس کی وجہ سے صورتخطی پر سخت بحث ہوئی۔ کیپٹن چارج اسٹیک اور کیپٹن برٹن (جو لسانیات کے بھی ماہر تھے اور  کمیٹی میں مشورہ دینے کے لیے شامل کیے گئے تھے) میں بھی اختلاف تھا۔ جارج اسٹیک کی طرف سے دیوناگری میں سندھی لکھنے کے لیے زور دار تائید ہو رہی تھی جبکہ برٹن سندھی کو نسخ میں لکھنے کے حامی تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر اور اس کمیٹی کے صدر مسٹرایلس نے آخر کا ر اس مسئلے کا حل نکالا اور فیصلہ کیا کہ سندھی زبان کے لیے عربی۔سندھی صورتخطی اختیار کی جائے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ سندھ کے کمشنر سربارٹل فریئر کو بھیجی۔ بالآخر ۱۸۵۳ء میں سربارٹل فریئر (Sir Bartle Frere)   کی سفارش پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹروں نے عربی۔ سندھی رسم الخط کو رائج کرنے کا فیصلہ دیا۔‘‘(۳۱)

سنہ ۱۸۵۳ء میں عربی۔ سندھی رسم الخط کے جو حروف جداگانہ صورتوں میں لکھے جاتے تھے ان کے لیے ایک ہی صورت مقرر کی گئی، اور اسی یکساں رسم الخط میں درسی اور غیر درسی کتابیں، شائع ہونا شروع ہو گئیں۔ سندھی حروف کی یکساں صورتیں اس طرح مقرر ہوئیں۔

ٻ، ڀ، ٺ، ٽ، ٿ،ڦ، ڳ، ڱ، ک، ڌ، ڏ، ڊ، ڍ،ڄ،ڃ،ڇ، ڙ، جھ، گھ،

بعض مشاہیر کو اس میں خامیاں نظر آئیں اور انہوں نے اُس سے اختلاف کیا بقول میمن عبدالمجید:

’’خود ڈاکٹر ٹرمپ نے بھی، جنہوں نے جرمنی سے شاہ عبداللطیف کا رسالہ شائع کیا، اس رسم الخط سے اتفاق نہیں کیا اور انہوں نے بعض اصوات کے لیے حسب ذیل حروف تہجی استعمال کئے: ڀ=بھ، ٿ=تھ، ٽ=ٹر،  ٺ=ٹھ،  ڦ=پھ،  ڃ=نج،  ڇ = چھ،  ڌ = دھ،  ڏ = ڈ،  ڊ = د خلیفہ گل محمد ہالائی نے سنہ ۱۲۷۲ء میں بمبئی سے اپنا دیوان چھپوایا، اس میں بھی سندھی حروف کے لیے مختلف صورتیں استعمال کی گئی ہیں: مثلاً جھ=ج ه, ڏ=ڈ,  ڙ=ره,  گھ= گ ه, لهه=ل ه, نهه=ن ه اس کے علاوہ جو مذہبی کتابیں بمبئی میں چھپوائی جاتی تھیں، ان میں بھی قدیم رسم الخط استعمال کیا جاتا تھا۔‘‘(۳۲)

وہ مزید لکھتے ہیں:

’’سنہ ۱۸۸۸ء میں جب جان جیکب سندھ کے گورنر ہوئے تو رسم الخط میں جو حروف مختلف صورتوں میں تحریر کئے جاتے تھے ان کی اصلاح کردہ صورت متعین کرکے نقشے تیار کروائے اور انہیں اسکولوں کے اندر لگوایا۔ اس کے باوجود بعض خامیاںرہ گئیں، مثلاً ’’ئیں‘‘ کے لیے الف ھمزہ ’’ء‘‘ کے نیچے عمودی خط میں دو زیر ’’  ً‘‘ اور ’’ئوں‘‘ کے لیے الف ہمزہ (ء) کے اوپر دو پیش (’‘) دیئے جاتے تھے۔‘‘(۳۳)

جان جیکب کے بعد سندھ کے عالموں نے بھی مختلف الفاظ کی صورتیں مقرر کرنے کے لیے کوششیں کیں اور اپنا کردار ادا کیا۔ الانا صاحب اِس حوالے سے لکھتے ہیں:

’’سنہ ۱۹۱۳ء میں سندھ کے عالموں نے ضروری سمجھا کہ ایسے مختلف الفاظ کی صورتیں مقرر کی جائیں۔ اس وقت کے تعلیمی ماہرین اور سندھی لٹریچر کمیٹی کے ممبران نے ۱۳ فروری ۱۹۱۳ء میں قرارداد پاس کرکے ’’اخبار تعلیم‘‘ میں ایسے تمام الفاظ کی فہرستیں شائع کروائیں اور ان کی درست صورتیں بھی مقرر کیں۔‘‘(۳۴)

اُن تمام کاوشوں کے باوجود کچھ الفاظ معیاری نہیں لکھے جا رہے تھے۔ اِس سلسلے میں دیوان جگن ناتھ اور مرزا قلیچ بیگ سامنے آئے اور اُن الفاظ کو معیاری صورتخطی میں لکھا۔ بقول ڈاکٹر حیدر سندھی:

’’اتنی کوششوں کے اب بھی بعض الفاظ معیاری طور پر نہیں لکھے جارہے تھے،جنہیں ۱۹۱۵ء میں سندھ کے ایجوکیشن انسپکٹر دیوان جگن ناتھ اور مرزا قلیچ بیگ نے مل کر معیاری صورتخطی میں ڈھالا۔ تب جاکر سندھی لکھنے کے لیے پورے سندھ میں ایک ہی طرز کا معیاری خط و املا مروج ہوا۔‘‘(۳۵)

سندھی رسم الخط کی اصلاح کے بعد کچھ عرصے  میں درسی اور دیگر نثر و نظم کی کُتب شائع ہونا شروع ہوئیں۔ میمن عبدالمجید کے مطابق:

’’سندھی رسم الخط کی ترمیم، اصلاح اور آخری تعین کے بعد سندھی زبان میں درسی کتابیں اور دیگر نثر و نظم کی کتابیں طبع ہونا شروع ہوگئیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے ۱۸۵۳ء میں بچوں کے لئے ایک درسی کتاب ’’باب نامہ‘‘ چھاپی گئی جو دیوان نندیرام میرانی نے لکھی تھی۔‘‘(۳۶)

موجودہ سندھی رسم الخط۵۲ حروف پر مشتمل ہے ان میں سے ۳۳ حروف تلفظ اور شکل و صورت میں اردو، پنجابی، سرائیکی وغیرہ کے حروف کے مشابہ ہیں: وہ حروف یہ ہیں:

ا ب ت ث پ ج جھ چ ح خ د ذ ر ز س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق گ گھ ل م ن و ه ء ي

اہم نکات:

۱۔    سندھی میں ’’ي‘‘ کہیں بھی آئے اس کے نیچے دو نقطے ضرور دیے جاتے ہیں۔

۲۔     ’’ن‘‘ پر بھی ہر جگہ ایک نقطہ ضرور دیا جاتا ہے۔

۳۔     سندھی میں ’’ي‘‘معروف ہویا مجہول دونوں ایک ہی صورت میں لکھی جاتی ہے۔

۴۔     سندھی حرف ’’ھ‘‘ بھی ہر جگہ ایک ہی شکل میں لکھی جاتی ہے۔

سندھی حروف تہجی کے ۱۲ حروف ایسے ہیں جو صوتی اعتبار سے اردو، پنجابی، سرائیکی وغیرہ سے مماثل ہیں لیکن تحریری صورت سندھی حروف کی مختلف ہے۔ وہ حروف یہ ہیں:

(۱)  ڀ  (بھ)، (۲) ٿ (تھ)، (۳) ٽ (ٹ)، (۴) ٺ (ٹھ)، 

(۵)ڇ (چھ)،  (۶) ڌ  (دھ)، (۷) ڊ (ڈ)، (۸) ڍ (ڈھ)، (۹)  ڙ (ڑ)،

(۱۰) ڦ (پھ) ،  (۱۱) ڪ  (ک)،  (۱۲) ک  (کھ)،

سندھی کے باقی ۷ حروف میں سے حرف ”ڻ“  پنجابی، سرائیکی، پشتو میں موجود ہے مگر اس کی تحریری شکل مختلف ہے۔ باقی سندھی کے چھ حروف میں سے حرف  ڃ کے علاوہ باقی ایسے پانچ حروف ہیں جو سوائے سرائیکی زبان کے باقی کسی بھی زبان میں نہیں ملتے وہ حروف یہ ہیں:۱۔ ٻ، ۲۔  ڄ،  ۳۔ ڏ، ۴۔  ڳ،  ۵۔ ڱ

 

سندھی زبان کے حروفِ تہجی

ا ب ٻ ڀ ت ٿ ٽ ٺ ث پ ج ڄ جھ ڃ چ ڇ ح خ د ڌ ڏ ڊ ڍ ذ ر ڙ ز س ش ص ض ط ظ ع غ ف ڦ ق ڪ ک گ ڳ گھ ڱ ل م ن ڻ و ه ء ي.

سندھی زبان کے مخصوص حروف

سندھی کے مخصوص حروف سے مراد وہ حروف، جو سندھی کے علاوہ کوئی غیر سندھی ادا نہیں کر سکتا۔ ایسا بھی نہیں کہ کوئی یہ حروف ادا نہیں کر سکے لیکن اس کے لیے کافی عرصہ درکار ہوگا اور کافی مشق کرنی پڑے گی۔ سندھی کے ان مخصوص حروف کی مختصر تفصیل جو ڈاکٹر غلام علی الانا نے اپنی کتاب  ’’سندھی معلم‘‘ میں دی ہے۔ ذیل میں بیان کی جاتی ہے۔

ٻ:- ب اور ٻ کا مخرج ایک ہے۔ یہ دونوں دو لبی (Bilabial) آوازیں ہیں۔ ان دونوں کے درمیان فرق اتنا ہے کہ ’’ب‘‘ کے تلفظ کے دوران سانس ہوٹوں سے باہر نکالتے ہیں۔ اس لیے اس کو دھماکیدار (Plosive or Explosive) آواز کہتے ہیں۔ لیکن ’’ٻ‘‘کی آواز کے تلفظ کے وقت ہونٹ ملاکر سانس کو اندر حلق کی طرف لے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ٻکو سندھی زبان میں چُسکارے والی آواز (Implosive) آواز کہا جاتا ہے۔  ’’ٻ‘‘ حرف کے چند الفاظ کی مثالیں ملاحظہ ہوں:

سندھی    اردو      ترجمہ              سندھی    اردو      ترجمہ

صورت   صورت   مددگار              صورت   صورت  

ٻانهن      بانہہ بیلی                          ٻول          بول      بول

ٻيلي

ٻهروپ    بہروپ     دو روپ               ٻلي         بلی       بلی

ٻڪري    بکری     بکری                  دٻاءُ         دباؤ               دباؤ        

ٻاهر         باہر      باہر                    ٻچو         بچو       بچہ

ٻوٽي       بوٹی               بوٹی        

ڄ:-    ج اور ڄ کا مخرج ایک ہے یعنی سخت تالو (Hard plate) ہے۔ لیکن دونوں آوازوں میں فرق یہ ہے کہ ’’ج‘‘ کی آواز کے تلفظ کے دوران سانس منہ سے باہر نکالتے ہیں۔ اس لیے ’’ج‘‘ Plosive آواز ہے اور ’’ڄ‘‘کے تلفظ کے دوران سانس کو اندر حلق کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اسے چُسکاری والی آواز (Implosive) آواز کہا جاتا ہے۔ ذیل میں چند مثالیں ملاحظہ کیجئے:

سندھی    اردو      ترجمہ              سندھی    اردو      ترجمہ

صورت   صورت   مددگار              صورت   صورت  

ڄٽ         جٹ       دہقانی                 سوڄ        سوج     سوجن

ڇڄ          چھج         چھاج                  اڄ            اج       آج

ڄار          جار       جال                   ڄڀ         جیبھ     زبان    

ڄمون      جموں     جامن                 لڄ            لج       عزت

ڃ:-    ڃ کا مخرج سخت تالو ہے۔ ڃ’’نج‘‘ (ن۔ج) کا ہی ایک روپ ہے۔  ڃ کے تلفظ کے وقت سانس ناک اور منہ سے ایک ساتھ نکالتے ہیں۔ اس وجہ سے ’’ ڃ‘‘ غنائی (انفی) یا ناکی آواز ہے۔ ’’ڃ‘‘ سے کوئی بھی لفظ شروع نہیں ہوتا۔  ڃ حرف والے الفاظ کی چند مثالیں ذیل میں دی جاتی ہیں:

سندھی    اردو      ترجمہ              سندھی    اردو      ترجمہ

صورت   صورت   مددگار              صورت   صورت  

ماڃڻ      مانجن      مانجنا                    وڃ           ونج      جا

پڃرو        پنجرو     پنجرا                   اڃ            انج       پیاس

پنڃ         پنج (پن)  خیرات                رڃ           رنج      سراب    

سُڃَ          سنج       تباہی                   ڄڃ          جنج       بارات

ڏ:-     ڏ اور  ڈ کا مخرج ایک ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ ’’ڈ‘‘ Plosive آواز ہے اور ’’ڏ‘‘چسکارے والی (Implosive) آواز ہے۔ ذیل میں ’’ڏ‘‘ حرف والے الفاظ کی مثالیں دی جاتی ہیں:

سندھی    اردو      ترجمہ              سندھی    اردو      ترجمہ

صورت   صورت   مددگار              صورت   صورت  

ڏک         ڈکھ        دکھ                    ڏيڏر        ڈیڈر     مینڈک

ڏور           ڈور      ڈور                    ڏاڏا          ڈاڈا      دادا

ڏنڊو        ڈنڈو      ڈنڈا                    ڏاڙهي     ڈاڑھی    داڑھی

ڏند          ڈند       دانت                  ڏنڊ          ڈنڈ       جرمانہ

ڳ:ـ    ڳ اور گ کا مخرج نرم تالو (Soft plate / velum) ہے۔ گ Plosive اور ڳ Implosive آواز ہے۔ ڳحروف کے الفاظ کی چند مثالیں:

سندھی    اردو      ترجمہ              سندھی    اردو      ترجمہ

صورت   صورت   مددگار              صورت   صورت  

آڳ      آگ       آتش                  ديڳ       دیگ     دیگ

جهڳڙو   جھگڑو     جھگڑا                  راڳ        راگ     موسیقی

ٺڳ         ٹھگ     فراڈی                 ڳلي        گلی       گلی

پڳ         پگ      پگڑی                  ڳاڙهو      گاڑھو     لال

جڳ        جگ      جہاں                  ڳچ          گچ       زیادہ

ڱ:-   ’’نگ‘‘ تقریباً (ن۔گ) کا ایک روپ ہے۔ ڱ کا مخرج بھی نرم تالو (Soft plate)  ہے۔ ڱ کے تلفظ کے وقت سانس کو ناک اور منہ سے ایک ساتھ نکالا جاتا ہے اس لیے ’’ڱ‘‘ کو ناکی (غنائی) آواز (Nasal Sound) کہا جاتا ہے۔ اردو میں یہ آواز موجود ہے لیکن لکھی نہیں جاتی۔  مثلاً:    اڱلي ـ انگلی

ڱ حرف کے الفاظ کی چند مثالیں ذیل میں ملاحظہ کیجئے:

سندھی    اردو      ترجمہ              سندھی    اردو      ترجمہ

صورت   صورت   مددگار              صورت   صورت  

آڱر       آنگر       انگلی                   چڱو        چنگو      ٹھیک

اڱار         انگار      کوئلہ                  اڱڻ          انگن     آنگن

آڱوٺو   آنگوٹھو   انگوٹھا                  سِڱُ       سنگ     سینگ

رڱ         رنگ     رنگ                  سَڱُ       سنگُ     رشتہ

نوٹ:۔   ڱ حرف سے کوئی بھی لفظ شروع نہیں ہوتا۔

ڻ:-    سندھی کا یہ حرف نون غنہ اور ڑ (ن۔ڑ) سے مرکب ہے۔ یہ آواز نکالتے وقت زبان تالو کی طرف اُلٹی مڑ جاتی ہے۔ تلفظ کے وقت سانس کو منہ اور ناک سے ایک ساتھ نکالاجاتا ہے۔ اِس لیے اس کو بھی ناکی آواز (Nasal Sound)  کہا جاتا ہے۔ اس حرف کے چند الفاظ کی مثالیں ذیل میں دی جاتی ہیں:

سندھی    اردو      ترجمہ              سندھی    اردو      ترجمہ

صورت   صورت   مددگار              صورت   صورت  

گُڻ           گُن        خوبی                   چڻا          چنا       چنے

پاڻي       پانی      آب                   راڻي        رانی      رانی

اڱڻ          آنگن     آنگن                  مکڻ       مکھن     مکھن

چٽڻي      چٹنی     چٹنی                   اچڻ         اچن     آنا

وڻ            ون      درخت                ڌڻي         دھنی     مالک (۳۷)

حرکات و علل:۔

جہاں تک حروف علت (ا۔و۔ی)، حرکات ثلاثہ، زبر، زیر، پیش (  ۔َ،۔ِ،۔ُ) تنوین (۔ً،۔ٍ،۔’‘)، جزم (۔ْ) مد وشد(۔ٓ،۔ّ)کا تعلق ہے وہ سب کے سب سندھی میں پائے جاتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی:

’’حرکات و علل اکہرے اور دہرے سندھی میں کُل دس ہیں۔ جو یہ ہیں:

          اَ، آ، اِ،  اِي،اَي، اُ، اُو، اي، او، اَو‘‘ (۳۸)

ذیل میں ان مصوتوں کی تفصیل نقشے کی شکل میں درج کی جاتی ہے

نمبر شمار   حرکت کا نام         مصوتہ    لفظ                 ترجمہ

۱۔       زبر                اَ         بَلا                 بلا

۲۔       حرف علت الف     آ         بابا                بابا

۳۔      زیر                اِ         ٻِلي               بلی

۴۔      یائے معرف        اِي       ٻلِي               بلی

۵۔       پیش               اُ               اُٺُ                           اونٹ

۶۔       واو معروف         اُو             مُوري              مولی

۷۔      یائے مجہول         اي           پيٽ               پیٹ

۸۔      یائے ما قبل مفتوح    اَي           خَير                          خیر

۹۔       واو مجہول           او             چور               چور

۱۰۔      واو ما قبل مفتوح      اَو             خَوف              خوف

جدیدلسانیات کے مطابق سندھی مصوتوں کو چھوٹے (Short) اور لمبے (long) قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان کی تقسیم اسی طرح ہوگی۔

چھوٹے مصوتے                              لمبے مصوتے

(Short Vowels)                   (Long Vowels)

اَ                                               آ

اِ                                               اِي

اُ                                               اُو

۔َ                                               اي

۔ِ                                               اَي

۔ِ                                               او

۔َ                                               اَو

(۳۹)

سندھی مصوتوں کے جوڑوں کے متعلق ڈاکٹر الانا لکھتے ہیں:

’’اَ، آ، اِ، اِي اور اُ، اُو تین جوڑے ہیں جن میں اَ کا طویل جوڑ آ، اِ کا طویل جوڑ اِي اور اُ  کا طویل جوڑ اُو ہے۔‘‘ (۴۰)

تنوین  (۔ً، ۔ٍ، ۔’‘):۔ یہ علامت صرف عربی الفاظ میں واقع ہوتی ہے۔ دو زبریں (۔ً) حرف کے اوپر، دو زیریں (۔ٍ) حرف کے نیچے دو پیش (۔’‘) حرف کے اوپر۔ بولنے میں یہ نون کی آواز دیتے ہیں۔ اس علامت کو تنوین کہتے ہیں: مثلاً

          اتفاقاً،  غالباً، تقریباً، فوراً، حقیقتاً  وغیرہ

تشدید (۔ّ):۔بعض الفاظ میں ایک حرف ایسا واقع ہوتا ہے جو دو مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔ مثلاً ہمت اس لفظ میں حرف م کو دو مرتبہ بولا جاتا ہے۔ م یہاں مشدد کہلاتا ہے۔ مشدد حرف کے اوپر ایک علامت لگائی جاتی ہے (۔ّ) اس کو تشدید کہتے ہیں۔

          مثلاً:   اﷲ  محمَّد  نقَّاش   ستّار

جزم (۔ْ):۔ اس علامت کو جزم کہتے ہیں۔ یہ علامت اس حرف پر لکھی جاتی ہے۔ جس پر کوئی حرکت نہ ہو۔ یعنی وہ ساکن ہو۔ مثلاً

          سندھی             اردو

          هلڪو            ہلْکا

          عِلْمُ           عِلْم

نون غنہ :۔ بعض الفاظ میں’’ن‘‘ کی آواز قائم آواز نہیں ہوتی، بلکہ ناک سے نکالی جاتی ہے۔ اس کی علامت الٹی ٹوپی (ں) کی طرح ہے۔ اس نون کو نون غنہ کہتے ہیں۔جب یہ نون غنہ لفظ کے درمیان میں واضح ہوتا ہے تو  لکھا جاتا ہے مثلاً چاند، گیند، پھینک۔ جب آخر میں واقع ہوتا ہے تو اس نون کے اندر نقطہ نہیں لگایا جاتا اگر ضرورت ہوتو نون غنہ کی نشانی یعنی ں لگائی جاتی ہے۔ مثلاً جہاں، تمہیں، کیوں وغیرہ۔ لیکن سندھی زبان میں نون غنہ میں بھی نقطہ لگایا جاتا ہے۔ مثلاً

سندھی   اردو      ترجمہ    سندھی             اردو                ترجمہ

آهين    آہیں         ہو            چوين ٿو                  چویں تھو                   تم کہتے ہو

توهين     توہیں        آپ         سان                         ساں                         کے  ساتھ

مان                         ماں                           میں

رومن ۔سندھی حروف

سندھی زبان کے لیے رومن۔سندھی رسم الخط اختیار کرنے کے لیے کافی عرصہ بحث مباحث ہوتے رہے۔ اس سلسلے میں بعض علماء نے اس کی حمایت کی خاص طور پر حلیم بروہی نے اس ضمن  میں کافی لکھا اور بعض نے مخالفت کی۔ جن علماء نے اس کی حمایت کی، ان کے مطابق رومن سندھی رسم الخط کے استعمال سے سندھی زبان میں وسعت آئے گی، بیرونی ممالک میں جو سندھی بولنے والے ہیں ان کو آسانی ہوگی۔ سندھی زبان کمپیوٹر خصوصی طور پر انٹرنیٹ پر آسانی کے ساتھ استعمال کی جاسکے گی۔ اس طرح سندھی زبان دنیا کی باقی ترقی یافتہ زبانوں کی طرح بین الاقوامی طور پر جانی جائے گی۔ ذیل میں رومن۔سندھی رسم الخط کا چارٹ ملاحظہ کیجئے، جسے سندھی لئنگوئیج اتھارٹی نے بین الاقوامی اُصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا ہے:

سندھی   سندھی   رومن    سندھی   سندھی   رومن   

نمبر      حروف   حروف   نمبر      حروف   حروف  

۱         ا         a        ۱۸       خ        kh

۳۵      غ       gn      ۲        ب       b

۱۹       د        d        ۳۶      ف       f

۳        ٻ       b        ۲۰      ڌ        dh

۳۷      ڦ       ph      ۴        ڀ       bh

۲۱       ڏ        d        ۳۸      ق        q

۵        ت       t         ۲۲      ڊ        d

۳۹       ڪ      k        ۶        ٿ       th

۲۳      ڍ        dh      ۴۰      ک       kh

۷        ٽ       t         ۲۴      ذ        z

۴۱       گ       g        ۸        ٺ       th

سندھی   سندھی   رومن    سندھی   سندھی   رومن   

نمبر      حروف   حروف   نمبر      حروف   حروف  

۲۵      ر         r        ۴۲      ڳ       g

۹        ث       s        ۲۶       ڙ        r

۴۳      گھ       gh      ۱۰       پ       p

۲۷      ز         z        ۴۴      ڱ       n

۱۱        ج        j         ۲۸      س       s

۴۵      ل        l         ۱۲       ڄ        j

۲۹       ش       sh      ۴۶      م       m

۱۳       جھ       jh       ۳۰      ص      s

۴۷      ن        n        ۱۴       ڃ        n

۳۱       ض      z        ۴۸      ڻ        n

۱۵       چ        ch      ۳۲      ط       t

۴۹       و         v        ۱۶       ڇ        chh

۳۳      ظ       z        ۵۰      ه         h

۱۷       ح        h        ۳۴      ع       e

۵۱       ء              ء         ۵۲      ي       y(۴۱)

 

 

 

دیوناگری - سندھی حرف تہجی

 (۴۲)

عربی- سندھی حرف تہجی

(۴۳)

v......v......v

 

حوالہ جات

 

۱۔       صدیقی، ابوالاعجازحفیظ، کشاف تنقیدی اصطلاحات، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان ۱۹۸۵ء، ص۔۸۸

۲۔      بارکر، محمد عبدالرحمان، ڈاکٹر، مقالہ: ’’پاکستان کے لیے رسم الخط‘‘، مشمولہ، اردو رسم الخط، مرتبہ: شیما مجید، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان،۱۹۸۹ء، ص۔۳۷۱

۳۔      مرزا، محمد سجاد، پروفیسر، ایضاً، ص۔۱۵۷

۴۔      اختر، بشیرمحمود، مقدمہ اردو رسم الخط (انتخاب مقالات:)شیمامجید، مرتبہ، ایضاً، ص۔۷

۵۔       عبداﷲ جان، عابد، پشتو زبان و ادب کی مختصر تاریخ، پشاور، یونیورسٹی پبلشرز، ۲۰۰۶ء، ص۔۳۱

۶۔       الانا، غلام علی، ڈاکٹر، سندھی بولی جو ابھیاس (سندھی)جام شورو، انسٹی ٹیوٹ آف سندھیالاجی، یونیورسٹی آف سندھ،۱۹۸۷ء، ص۔۱۸۵ تا۱۸۷

۷۔      اختر، بشیر محمود، مقدمہ، ’’اردو رسم الخط‘‘ (انتخاب مقالات)، ایضاً، ص۔۷

۸۔      الانا، غلام علی، ڈاکٹر، سندھی بولی جو ابھیاس ، ایضاً، ص۔۲۷۲

۹۔      بریلوی، سید مصطفی علی، مقالہ، ’’زبان اور رسم الخط‘‘، مشمولہ، اردو رسم الخط (انتخابِ مقالات) ایضاً، ص۔۲۰۹

۱۰۔     ایضاً،ص۔۲۱۸

۱۱۔      بلوچ، نبی بخش خاں، ڈاکٹر، مقالہ، ’’سندھی بولی‘‘، (مترجم: پروفیسر، برکت علی ابڑو کریمی)  مشمولہ سہ ماہی۔ سندھی بولی (سندھی)، حیدرآباد، سندھ، جنوری ۱۹۹۵۔۱۹۹۶ء، ص۔۶

۱۲۔     حیدر سندھی، پروفیسر، ڈاکٹر، سندھی زبان و ادب کی تاریخ، اسلام آباد،  مقتدرہ قومی زبان، پاکستان ۱۹۹۹ء، ص۔۸۵

۱۳۔     ندوی، رشید اختر، پاکستان کا قدیم رسم الخط اور زبان، اسلام آباد، قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت، قائد اعظم یونیورسٹی، ۱۹۹۵ء، ص۔۳۵

۱۴۔    الانا، خواجہ غلام علی، سندھی صورتخطی(سندھی)، حیدرآباد، سندھی زبان پبلی کیشن، طبع سوم، ۱۹۶۹ء، ص۔۱۷

۱۵۔     الانا، خواجہ غلام علی، سندھی صورتخطی(سندھی)، ایضاً، ص۔۱۸

۱۶۔    الانا، غلام علی، ڈاکٹر، سندھی بولی جو ابھیاس ، (سندھی)، ایضاً، ص۔۳۸۷

۱۷۔     الانا، خواجہ غلام علی، سندھی صورتخطی (سندھی)، ایضاً، ص۔۲۰

۱۸۔     ایضاً، ص۔۲۸

۱۹۔     حیدر سندھی، پروفیسر، ڈاکٹر سندھی زبان و ادب کی تاریخ، ایضاً، ص۔۹۲

۲۰۔    الانا، خواجہ غلام علی، سندھی صورتخطی (سندھی)، ایضاً، ص۔۲۷

۲۱۔     ایضاً

۲۲۔    ہکڑو، انور فگار، مقالہ، ’’سندھی آئیوٹاتے تھیل تنقید جو تجزیو‘‘، (سندھی) مشمولہ شش ماہی، سندھی ادب جلد۔۱۳ ، نمبر۱۔۲ ،۱۹۹۵ء، جامشورو، انسٹی ٹیوٹ آف سندھیالاجی، سندھ یونیورسٹی، ص۔۱۱۴

۲۳۔ایضاً،ص۔۱۱۳

۲۴۔    الانا، خواجہ غلام علی، سندھی صورتخطی (سندھی)، ایضاً، ص۔۳۱

۲۵۔   ایضاً،ص۔۳۲

۲۶۔    میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر، سندھی ادب کی مختصر تاریخ، ( مترجم: حافظ خیر محمداوحدی) جامشورو، انسٹی ٹیوٹ آف سندھیالاجی، سندھ یونیورسٹی، ۱۹۸۳ء، ص۔۲۴۰

۲۷۔    الانا، خواجہ غلام علی، سندھی صورتخطی (سندھی)، ایضاً، ص۔۵۵

۲۸۔    ایضاً،ص۔۵۶

۲۹۔     ایضاً،ص۔۳۲

۳۰۔  ایضاً، ص۔۳۶

۳۱۔     ایضاً، ص۔۴۲

۳۲۔    میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر، سندھی ادب کی مختصر تاریخ، ایضاً، ص۔۲۳۹

۳۳۔    ایضاً،ص۔۲۴۰

۳۴۔    الانا، خواجہ غلام علی، سندھی صورتخطی (سندھی)، ایضاً،۔۷۱

۳۵۔    حیدرسندھی، پروفیسر، ڈاکٹر، سندھی زبان و ادب کی تاریخ، ایضاً، ص۔۹۷

۳۶۔    میمن عبدالمجید، سندھی، ڈاکٹر، سندھی ادب کی مختصر تاریخ، ایضاً، ص۔۲۴۲

۳۷۔    الانا، غلام علی، ڈاکٹر، سندھی معلم، جام شورو، سندھی ادبی بورڈ، ۱۹۸۴ء، ص۔۴

۳۸۔    اصلاحی، شرف الدین، اردو سندھی کے لسانی روابط، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان ۱۹۸۷ء، ص۔۱۳۷

39- http://en.wikipedia.org/wiki/sindhi.Language

۴۰۔    الانا، غلام علی، ڈاکٹر، سندھی معلم، ایضاً، ص۔۶

۴۱۔     الانا، غلام علی، ڈاکٹر، مقالہ، ’’سندھی۔ رومن ٹرانسلیشن‘‘(سندھی) مشمولہ، سالانہ سندھی بولی جلد۔۲، شمارہ۱۔۲ ، جنوری ۔ دسمبر۲۰۰۰ء، ص۔۱۸

42.www.unics.uni_hannover.de/nhtcapri/sindhi_alphabet.html

43-   Ibid.

 

v......v......v