Video

ناشر نوٹ

موجودہ  دور کا تقاضا ہے کہ پاکستان کی سب زبانوں خصوصًا ان زبانوں کا ادب اور تحقیقی مواد  اردو میں شایع ہو، جو علمی و ادبی لحاظ سے مالامال ہیں، تاکہ ہم وطن اپنی زبانوں کی ماہیت اور اہمیت جان سکیں۔ ہمیشہ سے اس بات کی ضرورت رہی ہے کہ سندھی ادب اور زباں کی تاریخ اور تحقیق پاکستان کی دیگر زبان بولنے والوں تک کیسے پہنچائی جائے۔ خاص طور پر جب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پاکستانی زبانوں کا ادارہ قائم ہوا تو طلبہ اور طالبات کے لیے یہ اہم مسئلہ تھا کہ سندھی زبان کا مطالعہ کرنے اور ادب کو پڑھنے کے لیے کتب اردو میں ترجمہ ہوں، تاکہ طلبہ بآسانی استفادہ کر سکیں۔

آزادی کے بعد گویا کہ دفتری زبان انگریزی رہی، لیکن سرکاری طور پر اردو کو قومی زبان و رابطے کی زبان تسلیم کیا گیا، تاہم گزشتہ ستر سال کے دوران اپنے وطن کی مقامی زبانوں اور ان کے علم و ادب کو قومی زبان کے ذریعے جو ان کا حق تھا، اس طرح متعارف نہ کروایا گیا، نتیجتًا ہم وطنی کا عنصر جس طرح پروان چڑھنا چاہیے تھا، اس طرح پروان نہ چڑھ سکا۔ یہ امر پہلے سے رواج پانا  چاہیے تھا، افسوس کہ وہ نہ ہو سکا۔ ”دیر آید درست آید“ سندھی لئنگویج اتھارٹی (Sindhi Language Authority) نے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے  ہوئے اس بات کا بیڑا ٹھایا ہے کہ سندھی زبان کے علم و ادب اور ثقافت و روایات کو اپنی قومی زبان اردو کے ذریعے بھی متعارف کروایا جائے، تاکہ چمن کے اس پھول کی خوشبو اور رنگ سب ہم وطنوں کو محسوس ہو۔ سندھی زبان جو برصغیر کی ایک قدیم زبان ہے، وہ اپنے خطے کی قدامت کی طرح ایک ترقی یافتہ زبان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک وسیع تاریخی ورثہ بھی رکھتی ہے۔

 زیر نظر کتاب بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کو ڈاکٹر منظور علی ویسریو نے خوش اسلوبی کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ ”سندھی زبان کا مطالعہ“ دراصل سندھی زبان کے مختلف نظریات پر  ایک تحقیقی بحث کو یکجا کرکے لکھی گئی ہے۔ جس میں سندھی ادب کی مختلف تحاریر، مصنفین کے تعارف اور سندھی ادب کے مختلف ادوار کو متعارف کرانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ فاضل مصنف کی یہ کاوش اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔

 

09 مارچ 2018ء

حیدرآباد، سندھ

 

پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور میمن

چیئرمئن