سندھی زبان کے لہجے
Dialects of Sindhi
لہجہ (Dialect)
لہجہ کو ہندی میں اپ بھاشا، اردو میں لہجہ یا زبانچہ، پنجابی میں بولی یا بولڑی، سندھی میں محاورو یا لہجو جبکہ انگریزی میں اسے ڈائیلیکٹ (Dialect) کہتے ہیں۔انگریزی لفظ ڈائلیکٹ کے حوالے سے محمد عمر چنڈ یوں رقمطراز ہیں:
’’یونانی زبان میں لیگین (Legein) کہتے ہیں بولنے کو۔ لیگین سے ایک لفظ بنا ڈایا لیگستھائے (Dialegesthai) جس کا مطلب ہی ہے ’’بات چیت کرنا‘‘ ، ’’گفتگوکرنا‘‘۔ انگلش ڈکشنریوں میں اس کے لیے جو الفاظ استعمال ہوئے وہ toconverse, to discourse ہیں۔ اسی ڈایا لیگستھائے میں سے ایک لفظ نکلا ’’ ڈایا لوگوس‘‘ (Dialogose) جس سے بعد میں انگریزی لفظ ڈایا لاگ (Dialogue) بنا اور اس کا مطلب تھا Discourse ، Conversation اور دوسری جانب لفظ بنا ڈایا لیکٹوس(Dialactos) جس سے انگریزی لفظ ڈایا لیکٹ (Dialect) بنا اور معنی بھی وہی گفتگو، بات چیت، بولنے کا ڈھنگ اور کسی ملک یا علاقے کی بولی۔‘‘(۱)
اس حوالے سے وہ مزید لکھتے ہیں:
’’ڈایا لیکٹ کی معنی ’’وسعت‘‘ کے ہیں البتہ مختلف ادوار میں، مختلف مواقعوں پر اور مختلف علماء کے درمیان ڈایا لیکٹ کے معنی اور مفہوم میں فرق رہا ہے، اب تک ڈایا لیکٹ تین معنوں میں مستعمل ہوتا رہا ہے۔
۱۔ ایک طرف ایک ہی نسل (Cogante) والی زبانوں میں سے ہر ایک کو ڈایالیکٹ کہتے تھے، جیسے فرینچ اور اطالوی زبانوں کو رومانس گروہ کے ڈایا لیکٹ جانا جاتا تھا یا انگریزی اور سنسکرت انڈو یورپین (Indo-European) ڈایالیکٹ جانے جاتے تھے۔
۲۔ دوسری طرف لہجے کے عام معنی یہ ہیں کہ زبان کی ایک قسم (Variety) جو افراد کا ایک گروہ استعمال کرتا ہو جس کے الفاظ، گرامر اور تلفظ کی صورتوں میں ایسے الگ ہوں جو اسے دیگر افراد کی اقسام (Varieties) سے علیحدہ کرتے ہوں۔
۳۔ تیسری طرف ڈایالیکٹ زبان کی وہ گروہی صورت ہے جس کی شناخت کی خصوصیات گرامر یا لفظ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایکسنٹ (Accent) کے مقابلے میں جس کی شناخت تلفظ سے ہوتی ہو۔‘‘(۲)
ڈاکٹر مہر عبدالحق ایک انٹرویو میں لہجے کے حوالے سے یوں بیان کرتے ہیں:
’’…’’لہجہ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے۔ ’’لہج‘‘ اس کا مادہ ہے۔ جس کے معنی ہیں ’’عادی ہونا‘‘ اہل زبان جس اندازو وضع تکلّم، طرزِادا اور تلفظ سے اپنی زبان بولنے کے عادی ہیں، اسے لہجہ کہتے ہیں۔‘‘(۳)
لہجہ کے لغوی معنی
مختلف لغات میں لہجہ کے معنی کچھ اس طرح بیان کیے گئے ہیں:
’’فیروز اللغات‘‘ کے مطابق:
’’بولنے کے انداز، تلفظ، زبان کا اُتار چڑھاؤ وغیرہ۔‘‘(۴)
’’اعجاز اللغات‘‘ میں لہجہ کا مطلب ہے:
’’طرزِ کلام، بولنے کا انداز، زبان، محاورہ، الفاظ کی آواز۔‘‘(۵)
’’قومی انگریزی۔ اُردو لغت‘‘ میں لہجہ کے معنی کچھہ اس طرح بیان ہوئے ہیں:
’’اُسلوبِ کلام، طرزِ بیان، محاورہ، کسی خاص ضلعے یا علاقے میں رائج زبان کی شکل، جس کا خاصا مخصوص ذخیرۂ الفاظ اور تلفظ ہوتا ہے۔ کسی زبان کی خاص قسم یا شاخ یا ایسی کئی زبانوں میں سے ایک جنہیں ایک خاندان سمجھا جاتا ہو۔ کسی خاص پیشے یا حرفے کی مخصوص زبان۔‘‘(۶)
’’نیولٹل آکسفورڈ ڈکشنری‘‘ کے مطابق:
"A form of a language used in a particular region or by a particular social group".(7)
لہجہ کے متعلق کہاوتیں
لہجہ کے متعلق ہماری زبانوں میں مختلف کہاوتیں مشہور ہیں جیسا کہ:
’’بولی ٹھول بارہ کوس‘‘ (۸)
یعنی: ہر بارہ کوس کے بعد مقامی گفتگو اور اندازِ بیان میں خفیف سا فرق آجاتا ہے۔
اس ضمن میں پنجابی کہاوت ہے:
باراں کوہ تے بولی بدل جاندی اے۔ ہر بارہ کوس وچ دوجی بولی۔ (۹)
یعنی: ہربارہ کوہ کے بعد زبان میں تبدیلی آجاتی ہے۔
اس سلسلے میں سندھی کہاوت ہے:
هر ٻارهين ڪوهين ٻولي ٻي (ہر بارہیں کوہیں بولی بی)
یا
سنڌ ۾ چپي چپي تي ٻولي ٻي (سندھ میں چپی چپی تے بولی بی)(۱۰)
یعنی: ہر بارہ کوہ کے بعد زبان میں فرق ہوتا ہے۔ لہجہ کے متعلق گجراتی میں ایک کہاوت بہت مقبول ہے:
بارگاویں بولی بدلے، ترودر بدلے شاکھا
بڈھاپا میں کیس بدلے، لکشن نہ بدلے لاکھا
یعنی: بارہ کوہ کے بعد زبان اس طرح بدل جاتی ہے جیسے درخت اپنی شاخوں کو بدلتا ہے یا بڑھاپے میں بال بدل جاتے ہیں مگر لاکھا (ہندوؤں کی ذات) اپنے عادات نہیں بدلتے۔(۱۱)
لہجہ کی تعریف
زبان کی طرح لہجہ کی بھی مختلف تعریفات بیان کی جا چکی ہیں۔ ذیل میں چند ماہرینِ لسانیات کی لہجہ کے متعلق تعریفات کو بیان کیا جاتا ہے۔
Simply any variety of a language is called Dialect.
ڈاکٹر غلام علی الانا، ماریو پائے(Mario Pei) کی کتاب ’’ڈکشنری آف لنگئس ٹکس‘‘ (Dictionary of Linguistics) کے حوالے سے لہجہ کی تعریف یوں بیاں کرتے ہیں:۔
"Dialect, is a specific form of a given language, spoken in a certain locality of a geographic area, showing sufficient differences from the standard of litrary form of that language, as to pronounciation, grammetical construction and idiomatic usage of words to be considered a distinct entity, yet not sufficiently distinct from other dialects of the language to be regarded as a different language".(12)
ڈاکٹر سلیم فارانی کے حوالے سے ڈاکٹر مظفر حسن ملک لکھتے ہیں:
’’بولی وہ بے ڈھب سی زبان جو کسی مقام کے عوام میں رائج ہو لیکن نہ اس کی کوئی تنظیم ہو اور نہ وہ ادبی حیثیت تک پہنچی ہو، یعنی اس زبان میں ادبی یا علمی کارنامے نہ ہوں۔‘‘(۱۳)
اس ضمن میں ڈاکٹرشہباز ملک ’’پنجابی لسانیات‘‘ میں لہجہ کی تعریف کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:
’’ باراں کوہ تے بولی بدل جاندی اے‘‘ لسانیات وچ لسانی تبدیلی دے ایس اٹل اُصول موجب ہر زبان وچ اوہدے علاقائی انگ ہوندے نیں، جنہاں نوں Dialect کہندے نیں۔‘‘(۱۴)
ترجمہ:۔ بارہ کوہ کے بعد زبان بدل جاتی ہے لسانیات میں لسانی تبدیلی کے اس اٹل اُصول کے مطابق ہر زبان میں اس کے علاقائی انگ ہوتے ہیں جن کو ’’لہجہ‘‘ کہتے ہیں۔
پروفیسر علی نواز جتوئی اس ضمن میں یوں رقمطراز ہیں:۔
ترجمہ:
’’ہر زبان کا ایک ملک ہوتا ہے جس کی چھوٹی یا بڑی اراضی ہوتی ہے، اس اراضی کے اندر ایک ہی زبان کے مختلف محاورات (لہجے) جدا جدا حصوں میں موجود ہوتے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کو وہاں کی مقامی بولی (Dialect) کہا جاتا ہے۔‘‘ (۱۵)
معیاری یا ٹکسالی لہجہ (Standard Dialect)
کوئی بھی زبان بہت بڑے وسیع علاقے پر حاوی ہوتی ہے جو اس کا وطن کہلاتا ہے۔ اس سارے علاقے میں ایک خطہ ایسا بھی ہوتا ہے جو سیاسی، سماجی اور علمی طور پر دوسرے علاقوں پر فوقیت رکھتا ہے اس علاقے کی زبان کو سرکاری دربار میں معیاری قرار دیا جاتا ہے۔ تحریری حوالوں میں اس کو سند مانا جاتا ہے اور سماجی کاروبار میں اس کو بلند منزلت دی جاتی ہے۔ اس مرکزی علاقے میں جو زبان کا گہوار ہوتا ہے عوام کی مادری زبان، خط و کتابت کی زبان، اعلیٰ طبقے کی تہذیبی زبان اور سرکارو دربار کی رسمی زبان یہی معیاری زبان ہوتی ہے۔ مگر اس طبقے سے دور نکل جائیں تو بعض اوقات مقامی زبانیں بطور مادری زبانیں (گھریلو زبان) استعمال کی جاتی ہیں۔ مگر تحریر،اعلیٰ طبقے اور دفاتر میں وہی مرکز کی معیاری زبان استعمال کی جاتی ہے۔
معیاری یا ٹکسالی لہجہ کے متعلق ماہرینِ لسانیات کی آراء
ڈاکٹر غلام علی الانا کے مطابق:
’’ایسا لہجہ جو سرکاری طور، اسکولوں، کالجوں، نشر واشاعت، سرکاری پیغامات، کورٹوں، اسیمبلیوں خواہ مہذب لوگوں کے حلقوں میں استعمال ہو، بولاجائے اور لکھا جائے تو اسے معیاری لہجہ کہا جاتا ہے۔ ملک کی سرکاری زبان میں اس معیاری لہجے کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘(۱۶)
پروفیسر علی نواز جتوئی کے مطابق:
’’مقامی بولیوں میں سے ایک بولی جو علم و ادب کے اعتبار سے دیگر مقامی بولیوں پر چھا جاتی ہے اور جس کو پڑھا لکھا طبقہ عام طور پر استعمال کرتا ہے، اس کو معیاری زبان (Standard Dialect) کہا جاتا ہے۔‘‘(۱۷)
ڈاکٹر شہباز ملک کے موجب
’’ہر زبان وچ اوہندے علاقائی انگ ہوندے نیں، جنہاں نوں Dialect کہندے نیں پر نال اک اجیہا انگ وی موجود ہوندا اے جس نوں اوس زبان وچ معیاری دا درجہ حاصل ہوندا اے۔ اوس زبان دے سارے ای علاقیاں دے لوک اوس وچ تخلیق کرکے اوس نوں امیر بناندے نیں۔‘‘(۱۸)
ترجمہ:۔ ہر زبان میں اس کے علاقائی انگ ہوتے ہیں، جن کو لہجہ کہتے ہیں۔مگر ساتھ ہی ایک ایسا انگ بھی موجود ہوتا ہے جس کو اس زبان میں معیاری کا درجہ حاصل ہوتا ہے اس زبان کے تمام علاقوں کے لوگ اس میں تخلیق کرکے اس کو امیر بناتے ہیں۔
اگر مقامی زبان کو اس زبان کی وسیع بساط کے طرزوانداز سے موازنہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی زبان ہے جو سارے علاقے میں بولی جا رہی ہے، مگر مقامی زبان کے الفاظ، طرزِ ادا اور محاورات کا مقابلہ بنظرغائر معیاری زبان سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر خطے میں بارہ کوہ کے بعد چند مخصوص الفاظ، طرزِ تکلم کے انداز اور محاورات موجود ہیں جو اسی علاقے کے لیے خاص ہیں۔ اس لیے مقامی زبان معیاری زبان سے ایک حد تک مخصوص ہوگئی ہے۔ زبان وہی رہی مگر تخصیص کی ہلکی سی صور ت پیدا ہوگئی۔
زبان اور لہجہ
زبان ایک زندہ کیفیت ہے۔ ہر زندہ کیفیت وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ یعنی ماحول اور اندرونی تحریکات کے زیر اثر اس کے جسم و روح میں فرق پیدا ہوجاتا ہے یہ تبدیلی قدرتی ہوتی ہے۔ بیرونی زبانوں کے زیرِ اثر ، نئے حاکم کے زیرِ اثر، تہذیب کی تبدیلی کے زیرِ اثر، ملک میں نئے کارخانے اور نئے علوم کے داخل ہونے کے سبب۔ زبان اور لہجہ کا جو فرق ہے اس کو عالمی شہرت یافتہ ماہرِ لسانیات سرجارج ابراہم گریئرسن کے حوالے سے ڈاکٹر ناموس یوں بیان کرتا ہے کہ:
’’زبان ایک پہاڑ کی مانند ہے اور زبانچہ ایک پہاڑی۔ زبان کو بعض حالات میں زبانچہ کہہ دیتے ہیں اور زبانچہ پر بعض آدمی زبان کا اطلاق کرتے ہیں۔ تاہم یہ مانا جاتا ہے کہ زبان قدیم اور وسیع اور بزرگ ہے زبانچہ اس کے مقابلے میں جدید۔ حدود کے لحاظ سے مختصر اور کوچک۔ ہم یہ بھی سکتے ہیں کہ زبان ماں کی طرح ہے اور زبانچہ بیٹی کی مانند۔ زبان اور زبانچہ کے فرق کو ہم ایک اور طرح سے بھی واضح کرسکتے ہیں۔ ایک زبان کے جتنے زبانچے ہوتے ہیں سب کے بولنے والے ایک دوسرے کی بولی سمجھ لیتے ہیں یعنی ایک زبان کے مختلف زبانچوں میں فرق اتنا کم ہوتا ہے کہ ایک کا جاننے والا دوسرے کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے مگر زبانوں کا یہ حال نہیں۔ ایک زبان دوسری زبان سے نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہے۔ ایک زبان کا بولنے والادوسری زبان کو نہیں سمجھ سکتا دوسری زبان کو سمجھنے یا بولنے کے لیے اس کو خاص مہارت حاصل کرنی پڑتی ہے۔‘‘(۱۹)
سندھی زبان کے لہجے
خطۂ سندھ نہ صرف قدیم ہے بلکہ انتظامی طور پر بھی بہت وسیع و عریض علاقے پر پھیلا ہوا تھا اور ان وسیع و عریض علاقوں میں سندھی زبان تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ بولی جاتی تھی اور اب بھی بولی جاتی ہے۔ ان مختلف فرقوں کے ساتھ سندھ یا سندھ سے باہر جو سندھی بولی جاتی ہے وہ سندھی زبان کے مختلف لہجے ہیں۔ ان سندھی زبانوں کے مختلف لہجوں کے حوالے سے کئی محققین نے تحقیقات کی ہیں۔ یہاں سندھی زبان کے ان مختلف لہجوں کے سلسلے میں محققین کی تحقیق کا جائزہ لیں گے۔ سر جارج ابراہم گریئرسن کے مطابق:
"Vicholi, Saraiki, Thareli and Lari the specimens received for this survey, how ever, show that as a dialect of Sindhi, Sariaki has no real existence, and that, on the other hand, two other dialects, Lasi and Kachi, have to be added to the list.(20)
بھیرومل مہرچند نے بھی سندھی لہجوں کی تعداد چھ بتائی ہے جس میں سریلی، وچولی، لاڑی، تھریلی، لاسی اور کچھی شامل ہیں۔(۲۱)
میمن عبدالمجید نے سندھی لہجوں کی تفصیل اپنی کتاب ’’لسانیات پاکستان‘‘ میں دی ہے۔ ان کے مطابق سندھی لہجوں کی تعداد ۱۳ بنتی ہے۔ جن میں:
۱۔ سریلی، ۲۔ وچولی، ۳۔ لاڑی، ۴۔ تھری، ۵۔ کچھی ۶۔ لاسی، ۷۔ جدگالی، ۸۔کوہستانی، ۹۔ میمنی، ۱۰۔ فراکی، ۱۱۔کھیترانی، ۱۲۔ بلوچستان کے دیگر لہجے، ۱۳۔ راجستھان کا سندھی لہجہ (۲۲)
ڈاکٹر عبدالجبار جونیجو کے مطابق:
’’سندھی زبان کے اہم لہجے یہ ہیں ۱۔ سریلہ، ۲۔ وچولو، ۳۔ لاڑی، ۴۔ تھری ، ۵۔ لاسی، ۶۔ کچھی۔‘‘(۲۳)
ڈاکٹر غلام علی الانا کے مطابق:
’’سندھی زبان کے سات لہجے ہی جن میں اترادی یعنی سریلو، وچولی، لاڑی، تھری، کوہستانی، کچھی اور لاسی۔‘‘(۲۴)
ڈاکٹرداد محمد خادم بروہی نے بھی سندھی لہجوں پر کام کیا ہے۔ انہوں نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں سندھی زبان کے لہجوں کی تعداد ۱۱ بتائی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’سبی جی بولی‘‘ میں جو سندھی لہجے بیان کیے ہیں۔وہ یہ ہیں:
۱۔ معیاری لہجہ، ۲۔ اترادی لہجہ، ۳۔ ماچھکی لہجہ، ۴۔ جغدالی لہجہ، ۵۔ کھیترانی لہجہ، ۶۔ کوہستانی لہجہ، ۷۔ لاسی لہجہ، ۸۔ جدگالی لہجہ، ۹۔ لاڑی لہجہ، ۱۰۔ کچھی لہجہ، ۱۱۔ تھری لہجہ‘‘۔ (۲۵)
ڈاکٹرحیدر سندھی نے اپنی تصانیف ’’سندھی زبان و ادب کی تاریخ‘‘، ’’ہمارا لسانی و ادبی ورثہ‘‘ اور ’’پاکستان کا لسانی جغرافیہ‘‘ میں سندھی لہجوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ۱۔فطری لہجے، ۲۔طبعی لہجے۔ ان کے مطابق:
’’فطری لہجے وہ ہیں جن کے ساتھ ماضی میں سندھی کا فطری اور اٹوٹ رشتہ رہا اور اب بھی برقرار ہے۔ اگرچہ زمینی، تعلیمی، تدریسی، تبلیغی اور سیاسی و سماجی سطحوں پر ان کے اپنے مرکزی اور معیاری لہجے سے کسی طرح کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ان لہجوں میں کچھی، کاٹھیاواڑی، راجستھانی، گنداوی، ذکری، لاسی، جدگالی، کیچی، لوری چئنی لہجے شامل ہیں۔ سن ۱۹۴۷ء کے بعد سے سندھ پاکستان کے ایک صوبے کی شکل میں نقشے پر نمودار ہوا۔ جو سندھی زبان، صوبہ سندھ میں بولی جاتی ہے، اس کے لہجے صوبے کے طبعی حالات کے مطابق پکارے جاتے ہیں۔ اُن کو طبعی لہجے کہتے ہیں۔ ان میں لاڑی، کوہستانی، سرائیکی، وچولی، لہجے شامل ہیں۔‘‘(۲۶)
اس تفصیل کے بعد سندھی زبان کے لہجوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
بیرونی لہجے اور اندرونی لہجے۔
بیرونی لہجے
سندھی زبان کے بیرونی لہجوں سے مراد وہ لہجے ہیں جو موجودہ سندھ کے حدود سے باہر بولے جاتے ہیں۔ کیوں کہ خطۂ سندھ قدیم زمانے سے ایک وسیع اراضی پر مشتمل رہا ہے۔ بقول ڈاکٹر عبدالجبار جونیجو:
’’جب ہمیں سندھی زبان کا پھلاؤ موجودہ سندھ کی جغرافیائی سرحدوں سے باہر بھی نظر آتا ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ قدیم سندھ کی سرحدیں مشرق، مغرب اور شمال میں پھیلی ہوئی تھیں‘‘۔(۲۷)
اس ضمن میں سید مظہر جمیل یوں رقمطراز ہیں:
’’سندھی زبان صدیوں سے بحرِ عرب کے ساحلی علاقوں، مکران، سیستان، کچھ، گجرات، مارواڑ، جودھ پور، جیسلمیر سے لے کر ملتان تک کے علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی رہی ہے اور یہ سارے علاقے ’’وادیٔ سندھ‘‘ کے نام سے موسوم رہے ہیں۔‘‘(۲۸)
ذیل میں ان بیرونی لہجوں کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔
کاٹھیاواڑی:
یہ سندھی زبان کا لہجہ ہے۔ ڈاکٹر حیدر سندھی کے مطابق:
’’پرانے زمانے میں ہندو راجہ ’’وکرماجیت‘‘ کے دور میں سندھ کے کئی خاندان کاٹھیاواڑ میں جا کر آباد ہو ئے۔ جب کھتریوں کی حکومت آئی تو انھوں نے ’’اروڑ‘‘ (روہڑی) کو اپنا دارالحکومت بنایا، جس کی بنا پرسندھیوں کے کا ٹھیاواڑی لو گوں کے ساتھ سیاسی، سماجی اور لسانی روابطہ بھی مزید مستحکم ہوئے۔سندھ کے مشہور تاریخی قصے ’’سورٹھ رائے ڈیاچ‘‘ کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ یہاں کی بولی کچھی کی ہمعصر ہے۔‘‘(۲۹)
میمن عبدالمجید اِس حوالے سے یوں لکھتے ہیں:
’’قیام پاکستان کے بعد اکثر میمن (کاٹھیاواڑی) کراچی اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں آباد ہو ئے۔ جہاں بھی یہ لوگ گئے اپنی زبان ہی بولتے رہے۔ چونکہ اس زبان پر گجراتی اور کچھی زبانوں کے اثرات ہیں۔ اس لیے یہ سندھی کا ایک لہجہ بن گیا ہے۔ کاٹھیاواڑی میمن جو لہجہ بولتے ہیں اسے ’’کاٹھیاواڑی‘‘ یا ’’میمنی‘‘ بھی کہا جا تا ہے۔ کاٹھیاواڑی لہجے کے چند الفاظ ذیل میں دیئے جاتے ہیں۔
کاٹھیاواڑی اردو تلفظ معیاری لہجہ اردو تلفظ اردو ترجمہ
سندھی تلفظ
ڪُرو کرو ڇا چھا کیا
ٻَرو برو بخار بخار بخار
بنان بنان بنائڻ بنائن بنانا
پان پان پاڻ پان خود
ونان ونان بنان بناں اسکے بغیر
گهال گھال ڳالهه گالھ بات
انگهين انگھیں اڳي اگے پہلے‘‘(۳۰)
راجستھانی :
سندھ کے صحرا ’’تھر‘‘ کے ساتھ راجستھان کا علاقہ ہے۔ جس کے وجہ سے کئی سندھی قبائل وہاں صدیوں سے آباد ہیں۔ اور وہ سندھی بولتے ہیں۔ اس سندھی کو راجستھانی سندھی کہتے ہیں۔ اس ضمن میں حیدر سندھی لکھتے ہیں:
’’کئی مدتوں پہلے بھی سندھ اور سندھیوں کے راجستھان سے سیاسی ،سماجی اور جغرافیائی و تاریخی رشتے ناطے تھے۔ اگرچہ جغرافیائی ، سیاسی اور سماجی سطحیں اتنی پختہ نہیں رہیں تا ہم لسانی تعلق اب بھی برقرار ہے۔ راجستھان کافی وسیع علاقہ ہے جس میں’’ ڈھٹ‘‘ اور’’ تھر‘‘ جیسے ریگستان بھی سموئے جا چکے ہیں۔اس سارے علاقے میں رائج سندھی بولی کو راجستھانی کہا جاتا ہے۔‘‘(۳۱)
ڈاکٹر عزیز انصاری کے مطابق:
’’راجستھان کے وسیع علاقے میں بھی کئی سندھی قبیلے رہتے ہیں، مثلاً مہر، ماچھی (سولنگی)، منگریہ، سومرو، بھیہ وغیرہ۔ ان سب کی زبان سندھی ہے۔ اسی پر راجستھان کی دیگر زبانوں کے اثرات بھی ملتے ہیں۔
راجستھانی الفاظ معیاری سندھی اردو تلفظ اردو معنی
اگواڑو اڳوارو اگوارو اگلا حصہ
آنگلی آڱر آنگر انگلی
بھات ڀَت بھَت چاول
بھیت ڀِت بھِت دیوار
پانڑی پاڻي پانی پانی
تاتو تَتو تتو گرم‘‘(۳۲)
گنداوی:
گنداوہ کے بہت سے علاقے ماضی میں سندھ کا حصہ رہے ہیں ان علاقوں میں بہت سے قبائل سندھی بولتے ہیں بقول ڈاکٹر حیدر سندھی:
’’بلوچستان کے علاقے بھاگ ناڑی،ساراوان، جھالاوان،سبی اور قلات کو مجموعی طور پر ’’گنداوہ‘‘ کہاجاتا ہے۔ یہ علاقے ماضی میں سندھ ہی کا حصہ تھے۔جب سندھ پر ’’قباچہ حکومت‘‘ تھی، گنداوہ کا علاقہ سندھ میں شامل تھا۔ اس وقت سے یہاں سندھی بولی جاتی ہے۔ لیکن صدیوں سے ان کا مرکزی سندھ سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کا ناطہ سندھی بولی سے جڑا ہوا ہے اور اتنی صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی یہاں سندھی بولی جاتی ہے۔ جسے یہاں کا گنداوی لہجہ کہا جاتا ہے۔‘‘(۳۳)
ذکری:
اس لہجے کے حوالے سے ڈاکٹر حیدر سندھی لکھتے ہیں:
’’بلوچستان کے علاقے سبی میں بعض مقامات پر ’’ذکری قبیلہ‘‘ رہتا ہے۔ جو اپنے آپ کو ’’ذکری‘‘ کہلواتے ہیں اور جو زبان یہاں کے لوگ بولتے ہیں وہ بھی اسی نسبت سے ذکری کہلاتی ہے جو کہ سندھی بولی ہے اور اب بھی سبی کے اسی علاقے میں رائج ہے۔‘‘(۳۴)
لاسی:
یہ لہجہ بھی بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں بولا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر حیدر سندھی لکھتے ہیں:
’’بلوچستان کے علاقے ’’لسبیلا‘‘ میں بسنے والوں کو لاسی اور جو سندھی وہاں بولی جاتی ہے اسے ’’لاسی‘‘ کہتے ہیں۔ یہ لہجہ بھی سندھی لہجے ’’لاڑی‘‘ سے مشابہ ہے لیکن اس پر بلوچی اور براہوی کے گہرے اثرات مرتب ہیں۔ سندھ میں ماضی میں آئے دن مختلف سمتوں سے بیرونی یلغار یں ہوا کرتی تھیں۔ انہیں روکنے کیلئے اس وقت کے راجہ نے کچھ وفادار قبیلے مختلف مقامات پر آباد کیے۔ یہ روایت ’’رائے‘‘ خاندان سے چلی، جسے بعد میں ’’سمہ‘‘ حکمرانوں نے بھی قائم رکھا۔ ’’رونجھا‘‘، سمہ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ جو بعد میں لسبیلہ آباد ہوئے اور انہوں نے وہاں تقریباً تین سو سال حکومت کی، بعد میں دوسرا سندھی قبیلہ ’’نومڑیا برفت‘‘ بھی یہاں ۱۷۲۰ء تک حکمران رہا۔ بعد میں حکومت ’’کوریجہ‘‘ خاندان کے ہاتھ میں آئی، جو ۲۱۴ سال تک یہاں برسرِ اقتدار رہا۔ اس مختصر تاریخ سے یہاںبولی جانے والی سندھی کا اپنے مرکز سے تعلق کا پتہ تو چلتا ہے لیکن وہ تعلق قائم نہ رہ سکا۔ تا ہم سندھی لسبیلا کی اہم زبان بن چکی ہے۔ اس لیے جو سندھی رائج ہے اسے علاقے کی نسبت سے لاسی کہا جاتا ہے۔‘‘(۳۵)
سندھی زبان کا یہ لہجہ نہ صرف لسبیلہ میں بولا جاتا ہے بلکہ وہاں سندھی اَدب بھی تخلیق ہوتا رہا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ نے لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے شعراء کا تذکرہ بعنوان ’’بیلاین جا بول‘‘ کے نام سے شائع کیا، جس میں لسبیلہ کے بہت سے شعراء کی سوانح اور کلام کا ذکر ملتا ہے۔
جدگالی:
جدگالی لہجے کے حوالے سے حیدر سندھی یوں بیان کرتے ہیں:
’’لسبیلہ کے ہی ایک حصہ میں جت قبائل کی کثیر تعداد موجود ہے۔ انہیں پانچویں صدی عیسوی میں رائے دیوانج نے فوجی ملازمتیں دے کر یہاں لسبیلہ میں آباد کیا جہاں سے ایران کے سرحدی علاقے بھی قریب تھے۔ لسبیلہ میں ان کی آبادی قابل ذکر ہے اور انہیں جدگال یا جت اور ان کی بولی کو جت گالی (یعنی جتوں کی بولی) کہا جاتا ہے۔ اسے جدگالی بھی بولا جاتا ہے۔‘‘(۳۶)
اِس ضمن میں میمن عبدالمجید لکھتے ہیں کہ:
’’بلوچستان میں مکرانی علاقہ میں غیر بلوچ کو جدگال (جغدال) کہا جاتا ہے۔ ’’جد‘‘، جت یا جٹ کی بدلی ہوئی صورت ہے اور’’گال‘‘ کا مطلب ہے ’’بولی‘‘۔ بلوچستان میں سندھی زبان بولنے والے کو ’’جٹ‘‘، کہا جاتا ہے، اس لیے ان کی زبان کو ’’جدگالی‘‘ کہا جاتا ہے۔ جدگالی بھی سندھی زبان کا ہی ایک لہجہ ہے۔ جس پر مکرانی (بلوچی) کا گہرا اثر ہے‘‘۔(۳۷)
کیچی:
بلوچستان کے علاقے کیچ میں بولی جانیوالی سندھی کو ’’کیچی‘‘ کہا جاتا ہے۔ حیدر سندھی اس ضمن میں لکھتے ہیں:
’’بلوچستان کا ایک علاقہ ’’کیچ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس علاقے سے پنہوں کا کردار وابستہ ہے۔ داستان ’’سسی پنہوں‘‘ میں ’’سسی‘‘ کو مجسمہ عظمت و ہمت ثابت کیا گیا ہے۔ پاکستان کی یہ واحد لوک داستان ہے، جسے پورے پاکستان کے تمام صوبوں میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ کیچ میں بولی جانیوالی سندھی کو کیچ کی وجہ سے ’’کیچی‘‘ کہا جاتا ہے۔‘‘(۳۸)
لُوری چئنی:
اس لہجے کے حوالے سے حیدر سندھی لکھتے ہیں:
’’بلوچوں کا ایک قبیلہ’’لورہ‘‘ مکران کے بڑے حصے میں آباد ہے۔ یہ لوگ جو زبان بولتے ہیں اس میں اگرچہ بلوچی بہت حد تک شامل ہے لیکن سندھی پھر بھی نمایاں نظر آتی ہے اس سندھی کو ’’لوری چئنی‘‘ (لورہ جو زبان بولتے ہیں) کہا جاتا ہے۔ ’لورہ‘ اور مید پیشے کے لحاظ سے ماہی گیر ہیں۔ تاہم موسیقی ان لوگوں کے خون میں شامل ہے۔ روایت ہے کہ ہخامنشی دور میں ’’لورہ‘‘ لوگ شاہی دربار سے منسلک تھے اور قومی اہمیت کی غمی او خوشی کی تقریبات ان کے بغیر نہیں ہوتی تھیں۔‘‘(۳۹)
کھیترانی:
کھیترانی لہجہ بلوچستان میں بولا جاتا ہے۔ اس لہجے کے حوالے سے میمن عبدالمجید لکھتے ہیں:
’’بلوچستان کے ضلع ’’ لورہ لائی‘‘ کے علاقہ’’بارکھاں‘‘ میں جو سندھی بولی جاتی ہے، اس کو’’کھیترانی‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’’ کھیتران‘‘ بلوچستان کی ایک قوم ہے جو غیر بلوچ ہے اور زراعت پیشہ ہے۔ یہ لوگ یہ بولی بولتے ہیں۔’’لفظ کھیتران‘‘ کی بنیاد’’کھیت‘‘ بمعنی ’’زرعی زمین‘‘ ہے۔‘‘(۴۰)
فراکی:
فراکی لہجہ بلوچستان کے علاقے سبی میں بولا جاتا ہے۔ اس ضمن میں میمن عبدالمجید وہ لکھتے ہیں کہ:
’’ بلوچستان کے علاقۂ ’’سبی‘‘ کے اکثریت کی زبان بھی’’ سندھی‘‘ ہے۔ یہ علاقہ سندھ کے ضلع جیکب آباد سے ایک سو میل کے فاصلے پر شمال مغرب میں واقع ہے اور سبی‘ کچھی، نصیر آباد، کوہلو اور ڈیرہ بگٹی اضلاع پر مشتمل ہے۔ یہاں بلوچی، براہوئی، پشتو اور سرائیکی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ لیکن تقریباً نوے فی صد سندھی بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس سندھی بولی کو ’’فراکی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ ’’فراخی‘‘ کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ جو ’’فراخ‘‘ سے بنا ہے، اس کے معنی ہے ’وسیع زبان‘، ’اکثریت کی زبان‘۔ اس کے علاوہ اس کو ’’ملکی‘‘ اور ’’وطنی‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ زبان اس علاقہ کے اصل باشندوں کی زبان ہے۔ اس لیے اس کو ’’ملکی‘‘ اور ’’وطنی‘‘ کہا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں براہوئی، بلوچی، پشتو، وغیرہ باہر سے آئے ہوئے لوگوں کی زبانیں سمجھیں گئیں۔ فراکی پر بلوچی، براہوئی، پشتو اور سرائیکی زبانوں کا اثر ہے، لیکن بنیادی طور پر یہ لہجہ، شکارپور کی بولی پر مبنی ہے۔‘‘(۴۱)
اندرونی لہجے
اندرونی لہجوں سے مراد وہ لہجے جو موجودہ سندھ کے حدود میں بولے جاتے ہیں، جن کی تفصیل ذیل میں پیش کی جاتی ہے۔
سریلہ:
سندھ کے شمالی علاقہ جات میں بولی جانیوالی سندھی کو ’’ سریلی سندھی‘‘ کہا جاتا ہے۔ سروکے معنی ہیں سروالا حصہ یا اوپر والا حصہ یا علاقہ۔ اس میں خیرپور، لاڑکانہ، شکارپور، سکھر، جیکب آباد کے اضلاع شامل ہیں۔ اور اس کے علاوہ ضلع دادو کے شہر دادوسے لے کر ضلع لاڑکانہ تک کا علاقہ ہے۔ اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو اس لہجہ کی مختلف شاخیں بھی ہیں۔شکارپوری لہجہ جو شکارپور ضلع، سکھر تعلقہ، جیکب آباد کے کچھ حصے میں بھی مروج ہے۔ اس لہجہ پر سرائیکی، بلوچی اور پشتو زبانوں کا تھوڑا تھوڑا اثر ہے۔ ضلع جیکب آباد میں جو سندھی زبان بولی جاتی ہے، اس پر سرائیکی اور بلوچی زبانوں کے زیادہ اثرات ہیں۔ سکھر، گھوٹکی، پنو عاقل ، میرپورماتھیلو اور اوباوڑو میں جو سندھی بولی جاتی ہے اس پر سرائیکی کاگہرا اثر ہے۔ اس علاقہ کی بولی کو ’’ ابھے کی بولی‘‘کہا جاتا ہے۔ شکارپوری لہجہ قدیم آریائی زبان سے زیادہ قریب ہے۔ مجموعی طور پر سریلہ لہجہ ’’سرائیکی‘‘ زبان سے زیادہ قریب ترہے۔ اس میں سرائیکی کے کچھ ایسے الفاظ موجود ہیں جو باقی بولے جانے والی سندھی زبان کے لہجوں میں نہیں ہیں۔
سریلہ لہجہ کی خصوصیات:
سریلہ لہجے کی چند خصوصیات کو میمن عبدالمجید سندھی نے اپنی کتاب’’ لسانیات پاکستان‘‘ میں بیان کیا ہے۔ جن کی تفصیل کچھ یوں ہیں:
یہ لوگ (سریلہ لہجہ بولنے والے) اپنے الفاظ میں ’’الف‘‘ کا اُچار (تلفظ) زیادہ کرتے ہیں۔ مثلاً
معیاری لہجہ سریلہ لہجہ اردو
کتھے کاتھے کہاں
جتے جاتے جہاں
آئوں ماں میں
اسیں اساں ہم
واحد جمع میں فرق
سندھ میں بولے جانیوالا ’’سریلہ لہجہ‘‘ کے واحد جمع باقی لہجوں سے مختلف ہیں۔ اس میں جمع بنانے کے لیے سرائیکی زبان کی طرح علامت ’’آں‘‘ کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً:
معیاری لہجہ سریلہ لہجہ اردومعنی
واحد جمع جمع
زال زالوں زالاں بیوی
کھٹ کھٹوں کھٹاں چارپائی
اجرک اجرکوں اجرکاں اجرک
کھارک کھارکوں کھارکاں چھوارے
بعض الفاظ میں اعراب یعنی زبر، زیر اور پیش کا فرق ہے۔
معیاری لہجہ سریلہ لہجہ اردو
رَلی رِلہی کپڑے کے ٹکڑوں
سے بنی چادر
اجرکَ اجرکُ سندھی چادر
سریلہ لہجہ میں سرائیکی زبان کی طرح ضمیر متکلم کے لئے فعل کے ساتھ ’’م‘‘ کا لاحقہ شامل کیا جاتا ہے۔ مثلاً:
سرائیکی لہجہ اردو سریلہ لہجہ
وسر نہ ویم بھول نہیں جاؤں گا وسری نہ ویندم
سرائیکی میں اسم تصغیر میں ’’ڑو‘‘ لاحقہ کا رواج بہت ہے۔ چونکہ سریلہ زبان پر سرائیکی کے بہت اثرات ہیں، اس لیے سریلہ کے شکارپوری لہجہ میں’’ڑو‘‘کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً:
سجن رُٹھڑا، تے سکھ مٹھڑا خوشی دا سانگ سبھ ٹٹڑا،
نہ جی چھٹڑا، نہ ڈکھ کھٹڑا ایہہ کٹھڑی مونجھ ول ول دی
سندھی اور سرائیکی میں بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو بظاہر تو ایک جیسے ہیں لیکن ان میں ’’ر‘‘ اور ’’ل‘‘ کا فرق ہوتا ہے۔ سرائیکی میں ’’ل‘‘ ہے اور سندھی میں ’’ر‘‘ مثلاً
سرائیکی سندھی
ہولے ہولے ہوریاں ہوریاں
مول مور
سویل سویر
سولی سوری
’’ابھے‘‘ کے سندھی بولی میں سرائیکی کی طرح ’’ل‘‘ کا استعمال ہے۔(۴۲)
وچولی:
سندھ کے درمیانی علاقے کو ’’وچولو‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس علاقے کے سندھی لہجے کو ’’وچولی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ ضلع نواب شاہ، ہالا، جامشورو، سانگھڑ اور حیدرآباد اضلاع ٖکے کچھ حصوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقہ کے لہجے کو معیاری کہا جاتا ہے اور تحریر میں بھی زیادہ تر یہی مروج ہے۔ اس پر دوسری زبانوں کے اثرات بہت کم ہیں۔ ’’سریلہ‘‘ اور ’’وچولی‘‘ میں جو نمایاں فرق ہے، اس کی کچھ مثالیں میمن عبدالمجید کی کتاب ’’لسانیات پاکستان‘‘سے ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:
(الف) جمع کے لیے ’’سریلی‘‘ میں ’’آں‘‘ اور وچولی میں ’’اوں‘‘ استعمال ہوتا ہے:
سریلی وچولی سریلی وچولی
کھٹاں (چار پائی) کھٹوں (واحد:کھٹ) جیپاں (واحد:جیپ) جیپوں
کھارکاں (چھوارے) کھارکوں (واحد:کھارک)بندوقاں (واحد:بندوق) بندوقوں
سراں (اینٹیں) سِروں(واحد:سرَ) سلیٹاں (واحد:سلیٹ) سلیٹوں
(ب) کچھ الفاظ میں ’’زیر‘‘ ، ’’زبر‘‘ اور ’’پیش‘‘ کا فرق ہوتا ہے۔ مثلاً:
سریلی وچولی سریلی وچولی
رِلہی رَلی اَجرکُ اَجرکَ
وچولی لہجے میں: ’ن‘ کا زیادہ اچار کیا جاتا ہے۔ جیسے:
وچولی سریلہ اردو
کیڈانھن کیڈے کدھر
ھیڈانھن ہیڈے ادھر
جیڈانھن جیڈے جدھر(۴۳)
وچولی لہجہ، سندھی زبان کا معیاری لہجہ ہے۔ سندھ میں دفتری، علمی، ادبی اور تعلیمی لحاظ سے مذکورہ لہجہ مستعمل ہے۔ کیونکہ جب سندھی کی موجودہ رسم الخط بنی تھی، تواس وقت کے زیادہ تر عالم، جنہوں نے ابتدا میں درس و تدریس اور علمی ادبی کتابیں لکھیں وہ حیدرآباد سے تعلق رکھتے تھے۔ لہٰذا پھر اسی لہجے کو سندھی زبان کے معیاری لہجہ کا درجہ حاصل ہوا۔
لاڑی:
سندھ کے زیریں حصے کو ’’لاڑ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں جو سندھی بولی جاتی ہے اس کو لاڑی کہا جاتا ہے اس لہجے کی تفصیل کو میمن عبدالمجید یوں بیان کرتے ہیں:
’’سندھ کا جنوبی حصہ جو سمندر سے جا ملتا ہے اس کو ’’لاڑ‘‘ کہا جا تا ہے۔ یہ علاقہ بدین ، ٹھٹہ اور حیدرآباد کے زیریں حصے پر مشتمل ہے۔ لاڑی بولی پر دراوڑی اور داردک (کشمیری اور شناز بانوں کا خاندان) کا اثر نمایاں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ’’لاڑ‘‘ میں دراوڑی نسل کے لوگ، مثلاً کولھی، اوڈ، مانگر (مانبحر) وغیرہ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ داردستان (گلگت والا علاقہ) کے پشاچ لوگ بھی آکر آباد ہو گئے۔ دریائی اور سمندری بندر گاہوں کی وجہ سے سامی نسل کے فنیقی عرب تا جراور جنوبی ہندوستان، سری لنکا، انڈونیشیا، ملائیشیا وغیرہ کے تاجر بھی آتے رہے۔ سندھی تاجر بھی وہاں جا تے تھے۔ اسی وجہ سے سامی اور دراوڑی زبانوں کا کچھ اثر یہاں کی بول چال پر پڑا۔‘‘(۴۴)
اس لہجے کی کچھ لسانی خصوصیات یہ ہیں:
(الف) اس میں ’’ہائیہ‘‘ اصوات کا استعمال بہت کم ہے۔ مثلاً ’’کھ‘‘ کے بجائے ’’ک‘‘ ’’چھ‘‘ کے بجائے’’چ‘‘، ’گھہ‘ کی بجائے ’’گ‘‘ استعمال کر تے ہیں۔ نمونے کے طور پر کچھہ الفاظ پیش کیے جا تے ہیں۔
لاڑی لہجہ معیاری لہجہ
گر گھر (گھر)
گنو گھٹو (زیادہ)
ڈگو ڈگھو (لمبا)
باء ُ بھاء ُ (بھائی)
(ب) ’’ڑ‘‘ کے بجائے’’ر‘‘ استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ’’گھوڑو ’’کو‘‘ گورو‘‘ کہیں گے۔
(ج) ’’ن‘‘ غنہ کا استعمال بھی کم ہے۔ مثلاً ’’تنہنجو‘‘ کے بجا ئے ’’تو جو‘‘ کہیں گے۔
(د) حروف علت کا بھی فرق ہے:
لاڑی لہجہ معیاری لہجہ
کِجَن کَجَنِ (کرانا)
تو تُوں (تم)
ہیکڑو ہکڑو (ایک)
جِنءَ جیئن (جیسے)
تھری:
تھر میں بولی جانیوالی سندھی کو تھری کہا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل ہدایت پریم نے اپنے مقالے ’’تھر جوں بولیوں‘‘ میں تفصیل سے بیان کی ہے۔ یہاں اس کو مختصر طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
تھر کی معنی ہے ، ’’ریگستان‘‘۔سندھ کا علاقہ تھر جو پاکستان کا سب سے بڑا صحرا ہے، زبانوں کے لحاظ سے بھی بے حد خوش نصیب علاقہ ہے۔ تھر کے مختلف حصوں میں مختلف زبانیں اور لہجے رائج ہیں۔ یہاں مختلف نسلی گروہ بھی اپنی اپنی زبانیں بولتے ہیں۔ صحرائے تھر میں مندرجہ ذیل زبانیں اور لہجے بولے جاتے ہیں۔ سندھی زبان کا تھری لہجہ، ڈھاٹکی زبان، پارکری زبان، مارواڑی زبان، گجراتی زبان۔ صحرائے تھر میں مسلم اور غیر مسلم جو زبان بولتے ہیں وہ سندھی زبان کا تھری لہجہ ہے۔ تھری لہجے میں بہت سے خالص تھری الفاظ پائے جاتے ہیں جو سندھ کے دیگر حصوں میں نہیں ہیں۔ تھری لہجے کی چند خصوصیات ذیل میں دی جاتی ہیں۔
تھری لہجے میں کچھ حروف معیاری لہجے سے مختلف ملتے ہیں۔ جیسے ’ر‘ کو ’ڑ‘ اور ’ڑ‘ کو ’ر‘ تلفظ کرتے ہیں۔
اسی طرح الفاظ میں بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ جیسے
معیاری لہجہ تھری لہجہ معنی
هائو ہوئے ہاں
پيءُ پیئو پیو
کائو کانون کھائو
مون میں میں
پنهنجو پانجو اپنا
نون غنہ کا حرف بھی کچھ الفاظ میں تلفظ نہیں کرتے۔ جیسے:
معیاری لہجہ تھری لہجہ اردو معنی
تنهنجو تو ھنجو تمہارا
منهنجو موھنجو میرا
اسم خاص (Proper Noun) کے ساتھ ’’یو‘‘ لاحقہ ملاتے ہیں۔ جیسے
معیاری لہجہ تھری لہجہ اردو تلفظ
هيرو ھیریو ہیرو
رامُو رامو رامُو
سومار سوماریو سومار(۴۵)
کچھی لہجہ:
اس ضمن میں بھیرومل لکھتے ہیں:
’’کچھ‘‘ اصل میں سنسکرت لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’’کنارہ‘‘۔ خطٔ کچھ جزیرہ ہے، اس کی تینوں اطراف سمندر ہے جس کی وجہ سے اسے ’کچھ‘ یعنی سمندر کے کنارے والا خطہ/ ملک کہا جاتا ہے۔ وہاں جو سندھی بولی جاتی ہے اسے کچھی یا کچھکی کہتے ہیں۔‘‘(۴۶)
ساتویں صدی عیسوی میں کچھ کا حصہ سندھ کی حکومت میں شامل تھا اور بعد میں بھی یہ خطہ سندھ کی زیرِ حکومت رہا، جس کی وجہ سے سندھی زبان کا پھلاؤ ان اراضیوں میں رہا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر غلام علی الانا یوں رقمطرازہیں:
’’سیاسی لحاظ سے کچھ موجودہ دور میں پاکستان کے کسی بھی صوبے کا حصہ نہیں ہے۔ مگر تاریخی، جغرافیائی، سماجی، اقتصادی، ثقافتی اور لسانی لحاظ سے کچھ قدیم دؤر سے لیکر سندھ کا حصہ رہا ہے۔‘‘(۴۷)
مختلف ماہرین نے کچھی زبان کو سندھی زبان کا لہجہ قرار دیا ہے ۔ اس ضمن میں عبدالمجید لکھتے ہیں:
’’ سرجارج ابراہم گریئرسن نے کچھی بولی کو سندھی زبان کا لہجہ قرار دیا ہے۔ ان کی رائے کے مطابق، ’’کچھی لہجے میں وچولی اور لاڑی لہجوں کے کئی عناصر ملتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر سورلی نے بھی ۱۹۳۱ء کی مردم شماری کی رپورٹ میں کچھی بولی کو سندھی زبان کا ایک لہجہ شمار کیا ہے۔ بھارت کے سندھی محقق لچھمن خوبچندانی نے اپنے مقالے ’’کچھ جوں جاتیوں ائیں بولیوں‘‘ (کچھ کے قبائل اور زبانیں) میں لکھا ہے کہ: ’’کچھ کا دؤرہ کرتے عام لوگوں سے معلوم ہوا کہ وہ اپنی بولی کو گجراتی کے بجائے سندھی کے قریب سمجھتے ہیں۔‘‘(۴۸)
سندھی زبان کا کچھی لہجہ نہ صرف کچھ میں بولا جاتا ہے بلکہ ان علاقوں میں بھی بولا جاتا ہے جہاں ’کچھ‘ سے ہجرت کرکے لوگ مختلف علاقوں میں آباد ہوئے۔ موجودہ پاکستان میں بھی کَچھ سے ہجرت کرنے والے لوگ جہاں جہاں آباد ہیں سندھی زبان کا یہ لہجہ بولتے ہیں۔ ان کی زیادہ تر آبادی کراچی ، ٹھٹہ کے علاقوں میں آباد ہے۔ یہ لوگ خود بھی کچھی کہلاتے ہیں۔ کچھی لہجے سندھی کے لاڑی لہجے سے مشابہت رکھتا ہے۔ کچھی لہجے پر گجراتی اور راجستھانی زبانوں کے اثرات پائے جاتے ہیں۔
کچھی لہجے کی چند خصوصیات:
بھیرومل نے اپنی کتاب ’’سندھی بولی جی تاریخ‘‘ میں کچھی لہجے کی چند خصوصیات بیان کی ہیں۔ ذیل میں ان کی تفصیل بیان کی جاتی ہے:
لاڑی لہجے کی طرح تلفظ کے وقت الفاظ کو سکاڑتے ہیں۔ مثلاً:
معیاری لہجہ کچھی لہجہ اردو معنی
ڏنائينس ڏنينس اس نے دیا
پڇيائينس پڇينس اس نے پوچھا
پا ئیہ ا صوات کوحذف کرتے ہیں۔ مثلا:
معیاری لہجہ کچھی لہجہ اردو معنی
کنھن کین کس نے
تنھن تیں اُس نے
عام طور پر الفاظ کے آخر میں ’’این‘‘ لگاکر لمبا کرتے ہیں۔
معیاری لہجہ کچھی لہجہ اردو معنی
ڏينهن ڏيئين دن
گهر گهرين گھر
جانور جانورين جانور
کچھی لہجے کے چند مخصوص الفاظ:
کچھی لہجے میں بیشمار الفاظ ایسے ہیں جو سندھی کے باقی لہجوں سے منفرد ہیں۔ چند مثالیں ملاحظ کیجئے۔
کچھی لہجہ معیاری لہجہ اردومعنی
ٻاپو بابو والد
ٻايڙي زال بیوی
پڳ پير پیر / پاؤں
پهاريو پٽڪو دستار
لسڻ ٿوم لہسن
جوڙو جُتي جوتی
گاگرو پڙو گاگرہ (۴۹)
کوہستانی لہجہ:
میمن عبدالمجید کے مطابق:
’’ضلع دادو، موجودہ ضلع جام شورو کے کوہستانی علاقہ اور تھانہ بولا خان میں جو سندھی زبان بولی جاتی ہے۔ اس کو کوہستانی لہجہ کہتے ہیں۔‘‘(۵۰)
اس ضمن میں رخمان گل پالاری ’’سیرِ کوہستان‘‘ کتاب کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’کوہستانی لہجہ ہمیں ضلع دادو اور کراچی ڈویژن کے مغربی حصے اور بلوچستان کے خضدار ضلع کے کوہستانی علاقے تک ملتا ہے۔‘‘(۵۱)
وہ مزید کوہستانی لہجے کے نام اور جو اقوام یہ لہجہ بولتے ہیں، کے سلسلے میں لکھتے ہیں:
’’اس لہجے پر کوہستانی نام بھی پہاڑی علاقے کی نسبت سے پڑا۔ اس علاقے میں بلوچ، براہوی اور سماٹ اقوام کے علاوہ ہندو کافی تعداد میں موجود ہیں۔ جو اکثر سندھی بولتے ہیں۔‘‘(۵۲)
کوہستانی لہجہ کی چند خصوصیات:
رحمان گل پالاری نے کوہستانی لہجے کی چند خصوصیات اپنے مقالے ’’کوہستانی لہجو‘‘ میں بیان کی ہیں جوذیل میں بیان کی جاتی ہیں:
’’کوہستانی لہجہ، معیاری لہجے سے کچھ قدر منفرد ہے۔ جیسے معیاری لہجے کے ہائیہ اصوات کوہستانی لہجے میں تمام کے تمام بغیر ’’ھ‘‘ کے تلفظ ہوتے ہیں۔ جیسے گھ کے بجائے گ، جھ کے بجائے ج۔ اس کے علاوہ یہ ہائیہ (ھ) حرف کو ’’ی‘‘ میں بھی بدلتے ہیں۔ جیسے:
معیاری لہجہ کوہستانی لہجہ اردو
ڪهڙو ڪيڙو کون سا
تهڙو تيڙو ویسا
جهڙو جيڙو جیسا
اهڙو ايڙو ایسا
معیاری لہجے کے کئی الفاظ کے آخر والی ھمزہ ’’ئ‘‘ کوہستانی لہجے میں حذف ہوجاتی ہے۔ جیسے:
معیاری لہجہ کوہستانی لہجہ اردو
ماءُ ما ماں
ڀاءُ ڀا بھائی
ڳاءُ ڳا گاؤ
کاءُ کا کھاؤ
بہت سے الفاظ میں ’’ی‘‘ بھی حذف کرتے ہیں۔ جیسے:
معیاری لہجہ کوہستانی لہجہ اردو
ضایع ضاع ضایع
ولایت وِلات ولایت
کوہستانی لہجہ میں معیاری لہجے کی صوتیاتی تبدیلی بھی ہوتی ہے۔
معیاری لہجہ کوہستانی لہجہ اردو
ی ۔یتیم۔ یاد ج۔ جتیم۔جاد یتیم ۔ یاد
د۔ مدد ت۔مدت مدد
م۔مسجد م۔مسیت مسجد
ز۔جھاز ج۔جُئاج جھاز(۵۳)
v......v......v
حوالہ جات
۱۔ چنڈ، محمد عمر، سندھی بولی، لسانیاتی جاگرافی، آرادھایوں ائیں لفظی ترتیب (سندھی) حیدرآباد، سندھی لینگویج اتھارٹی، ۲۰۰۴ء، ص۔۵۴
۲۔ ایضاً
۳۔ طاہر تونسوی، ڈاکٹر، انٹرویو، ڈاکٹر مہر عبدالحق، مشمولہ، سہ ماہی ادبیات، اسلام آباد، شمارہ۔ ۲۳ ، جلد۔۲ ،۱۹۹۳ء، ص۔۲۱۶
۴۔ فیروزاللغات، لاہور، فیروز سنزپبلشرز
۵۔ تابش، ذوالفقار احمد، اعجاز اللغات، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، ۱۹۸۱ء
۶۔ جمیل جالبی، ایڈیٹر، قومی انگریزی۔اردو لغت، طبع پنجم، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، ۲۰۰۲ء
- Angus Stevenzon, Editor, New Little Oxford English Dictionary, Eighth Edition, Oxford University Press.
۸۔ ناموس، ڈاکٹر، گلگت اور شنازبان، بہاولپور، اردو اکادمی، ۱۹۶۱ء، ص۔۹۰
۹۔ شہباز ملک، ڈاکٹر، پنجابی لسانیات، (پنجابی) لاہور، عزیز بک ڈپو، طبع سوم، ۱۹۹۶ء، ص۔۱۲۱
۱۰۔ بھیرومل، مہرچند آڈوانی، سندھی بولی جی تاریخ، (سندھی) جام شورو، سندھی ادبی بورڈ، طبع ششم، ۲۰۰۴ء، ص۔۹۲
۱۱۔ ایضاً
۱۲۔ الانا، غلام علی، ڈاکٹر، سندھی بولی جی لسانی جاگرافی، (سندھی) جام شورو، انسٹی ٹیوٹ آف سندھالاجی، سندھ یونی ورسٹی، طبع سوم، ۱۹۹۵ء، ص۔۱۳
۱۳۔ مظفر حسن، ملک، ڈاکٹر، تعلیمی عمرانیات، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، ۱۹۹۰ء، ص۔۱۹۲
۱۴۔ شہباز ملک، ڈاکٹر، پنجابی لسانیات، ایضاً، ص۔۱۲۴
۱۵۔ جتوئی، علی نواز، پروفیسر، علم لسان ائیں سندھی زبان، (سندھی) جام شورو، انسٹی ٹیوٹ آف سندھالاجی، سندھ یونی ورسٹی،۱۹۹۶ء، ص۔۱۳۶
۱۶۔ الانا، غلام علی، ڈاکٹر، سندھی بولی جی لسانی جاگرافی، ایضاً، ص۔۵
۱۷۔ جتوئی، علی نواز، پروفیسر، علم لسان ائیں سندھی زبان، ایضاً، ص۔۱۳۶
۱۸۔ شہباز ملک، ڈاکٹر، پنجابی لسانیات، ایضاً، ص۔۱۲۴
۱۹۔ ناموس، ڈاکٹر، گلگت اور شناز زبان، ایضاً، ص۔۱۰۱
- Grierson G.A. Linguistic Survey of Pakistan, Vol-iv, Lahore, Accurate Printers, P-9.
۲۱۔ بھیرومل، مہرچند آڈوانی، سندھی بولی جی تاریخ، ایضاً، ص۔۹۱
۲۲۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر، لسانیات پاکستان، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، ۱۹۹۲ء، ص۔۲۵۵
۲۳۔ جونیجو، عبدالجبار، ڈاکٹر، ہدایت پریم، تھر جی بولی، (سندھی) حیدرآباد، سندھی بولی جو بااختیار ادارو، سندھ، ۱۹۹۴ء، ص۔۱۱
۲۴۔ ایضاً، ص۔۴۶
۲۵۔ بروہی، داد محمد، ڈاکٹر، سبی جی بولی(سندھی)، حیدرآباد کراچی، سندھی بولی جو بااختیار ادارو، ۱۹۹۲ء، ص۔۱۰
۲۶۔ حیدر سندھی، ڈاکٹر، پروفیسر، سندھی زبان و ادب کی تاریخ، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، ۱۹۹۹ء، ص۔۸۰
۲۷۔ جونیجو، عبدالجبار، ڈاکٹر، ہدایت پریم، تھر جی بولی، ایضاً، ص۔۱۰
۲۸۔ مظہر جمیل، سید، جدید سندھی ادب، کراچی، اکادمی بازیافت،۲۰۰۴ء، ص۔۲۸۱
۲۹۔ حیدر سندھی، ڈاکٹر، پروفیسر، سندھی زبان و ادب کی تاریخ، ایضاً، ص۔۸۰
۳۰۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر، لسانیات پاکستان، ایضاً، ص۔۲۶۰
۳۱۔ حیدر سندھی، ڈاکٹر، پروفیسر، سندھی زبان و ادب کی تاریخ، ایضاً، ص۔۸۰
۳۲۔ عزیز انصاری، ڈاکٹر، مقالہ، ’’راجستھانی اور سندھی کا لسانی اشتراک‘‘، مشمولہ، الماس، تحقیقی جرنل، شعبہ اردو، جامعہ شاہ عبداللطیف، خیرپور میرس، ۲۰۰۱ء، ص۔۴۴
۳۳۔ حیدر سندھی، ڈاکٹر، پروفیسر، سندھی زبان و ادب کی تاریخ، ایضاً، ص۔۸۰
۳۴۔ ایضاً
۳۵۔ایضاً
۳۶۔ایضاً
۳۷۔میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر، لسانیات پاکستان، ایضاً، ص۔۸۰
۳۸۔ حیدر سندھی، ڈاکٹر، پروفیسر، ایضاً، ص۔۸۲
۳۹۔ ایضاً
۴۰۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر، لسانیات پاکستان، ایضاً، ص۔۸۰
۴۱۔ ایضاً، ص۔۲۵۷
۴۲۔ ایضاً، ص ص۔ ۲۵۵۔۲۵۶
۴۳۔ایضاً، ص۔ ۲۵۷
۴۴۔ ایضاً
۴۵۔ ہدایت پریم، مقالہ: ’’تھر جوں بولیوں‘‘ مشمولہ، تھر (سندھی) (مرتبہ: عبدالقادر منگی) کراچی، سندھیکا اکیڈمی، طبع دوم، ۱۹۹۶ء، ص۔۲۷۳
۴۶۔بھیرومل، مہرچند آڈوانی، سندھی بولی جی تاریخ، ایضاً، ص۔۱۵۱
۴۷۔ الانا، غلام علی، ڈاکٹر، سندھی بولی جی لسانی جاگرافی، ایضاً، ص۔۲۶
۴۸۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر، لسانیات پاکستان، ایضاً، ص۔۲۶۰
۴۹۔ بھیرومل، مہرچند آڈوانی، سندھی بولی جی تاریخ، ایضاً، ص۔۱۵۲
۵۰۔ میمن عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر، لسانیات پاکستان، ایضاً، ص۔۲۶۰
۵۱۔ پالاری، رخمان گل، مقالہ: ’’کوہستانی لہجو‘‘ (سندھی) مشمولہ سندھی بولی، جلد۔اول، شمارہ۔ اول، حیدرآباد، سندھی لینگویج اتھارٹی، سندھ، ستمبر ۲۰۰۸ء، ص۔۶۳
۵۲۔ ایضاً، ص۔۶۵
۵۳۔ ایضاً، ص۔۶۶
v......v......v